Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ فَإِلَی أَيْنَ قَالَ هَا هُنَا وَأَشَارَ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ
عبداللہ بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ہشام بن عروہ اپنے والد سے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خندق سے واپس آئے ہتھیار اتارے غسل کیا پھر حضرت جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار کھول دیئے مگر ہم فرشتوں نے و اللہ ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے، چلئے ان پر حملہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کس پر؟ جبریل علیہ السلام نے اشارہ سے کہا کہ نبی قریظہ پر چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تشریف لے گئے۔
Narrated 'Aisha: When the Prophet returned from Al-Khandaq (i.e. Trench) and laid down his arms and took a bath, Gabriel came and said (to the Prophet ), You have laid down your arms? By Allah, we angels have not laid them down yet. So set out for them." The Prophet said, "Where to go?" Gabriel said, "Towards this side," pointing towards Banu Quraiza. So the Prophet went out towards them.
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِي غَنْمٍ مَوْکِبَ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ
موسی بن اسماعیل، جریربن حازم، حمید بن ہلال، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتیہیں کہ میں لشکر جبریل علیہ السلام کا گرد وغباراب تک بنی غنم میں اڑتے ہوئیدیکھ رہا ہوں، یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ بنی قریظہ کی طرف گئے تھے۔
Narrated Anas: As if I am just now looking at the dust rising in the street of Banu Ghanm (in Medina) because of the marching of Gabriel's regiment when Allah's Apostle set out to Banu Quraiza (to attack them).
Narrated by Ibn Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَدْرَکَ بَعْضُهُمْ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا نُصَلِّي حَتَّی نَأْتِيَهَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِکَ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ
عبداللہ بن محمد بن اسماء، جویریہ بن اسماء، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا جنگ خندق کے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں ہر کوئی نماز عصر بنی قریظہ کے پاس پہنچ کر پڑھے مگر نماز کا وقت راستہ ہی میں آ گیا۔ کچھ لوگوں نے کہا ہم تو وہیں پہنچ کر نماز پڑھیں گے بعض نے کہا کہ ہم تو پڑھ لیتے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ نہیں تھا کہ نماز قضا کردی جائے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کچھ نہیں فرمایا۔
Narrated Ibn Umar: On the day of Al-Ahzab (i.e. Clans) the Prophet said, "None of you Muslims) should offer the 'Asr prayer but at Banu Quraiza's place." The 'Asr prayer became due for some of them on the way. Some of those said, "We will not offer it till we reach it, the place of Banu Quraiza," while some others said, "No, we will pray at this spot, for the Prophet did not mean that for us." Later on It was mentioned to the Prophet and he did not berate any of the two groups.
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ح و حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّی افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي کَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ فَجَائَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتْ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُولُ کَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيکَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا أَوْ کَمَا قَالَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَکِ کَذَا وَتَقُولُ کَلَّا وَاللَّهِ حَتَّی أَعْطَاهَا حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ کَمَا قَالَ
عبداللہ بن ابی الاسود، معتمر بن سلیمان (دوسری سند) امام بخاری خلیفہ بن خیاط، معتمر بن سلیمان، وہ اپنے دادا سے، اور وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انصار کھجور کے درخت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا کرتے تھے آخر اللہ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عنایت فرمائی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ میں ان سے وہ درخت واپس مانگوں جو آپ کو بطور ہدیہ دیئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درخت ام ایمن کو دے دیئے تھے اتنے میں وہ آ گئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں اس خدا کی قسم! جو معبود حقیقی ہے یہ درخت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے ہیں اب تم کو واپس نہیں دیں گے یا ایسا ہی کچھ کہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ام ایمن تم اتنے درخت ان کے بدلے لے لو مگر وہ یہی کہے جا رہی تھی بخدا میں نہیں دونگی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا ان سے دس گنا لے لو یا انس نے کچھ ایسی ہی بات کہی۔
Narrated Anas: Some (of the Ansar) used to present date palm trees to the Prophet till Banu Quraiza and Banu An-Nadir were conquered (then he returned to the people their date palms). My people ordered me to ask the Prophet to return some or all the date palms they had given to him, but the Prophet had given those trees to Um Aiman. On that, Um Aiman came and put the garment around my neck and said, "No, by Him except Whom none has the right to be worshipped, he will not return those trees to you as he (i.e. the Prophet ) has given them to me." The Prophet go said (to her), "Return those trees and I will give you so much (instead of them)." But she kept on refusing, saying, "No, by Allah," till he gave her ten times the number of her date palms.
Narrated by Abu Said Al-Khudri
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی سَعْدٍ فَأَتَی عَلَی حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلْأَنْصَارِ قُومُوا إِلَی سَيِّدِکُمْ أَوْ خَيْرِکُمْ فَقَالَ هَؤُلَائِ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ فَقَالَ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ قَالَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ
محمد بن بشار، منذر، شعبہ، سعد بن ابراہیم، ابوامامہ، حضرت ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ بنی قریظہ سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلہ پر راضی ہو کر قلعہ سے اتر آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو بلوایا وہ گدھے پر بیٹھے ہوئے جب مسجد کے قریب آئے تو آپ نے انصار سے فرمایا۔ اٹھو! اپنے سردار کے لینے کے لئے یا یہ فرمایا کہ اٹھو! اس کے لینے کو جو سب میں بہتر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ بنی قریظہ تمہارے فیصلہ پر راضی ہو کر اتر آئے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! جو ان میں لڑائی کے قابل ہیں ان کو قتل کردیا جائے۔ اور عورتوں و بچوں کو قیدی بنا لیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا یا بادشاہ کی مرضی کے مطابق۔
Narrated Abu Said Al-Khudri: The people of (Banu) Quraiza agreed to accept the verdict of Sad bin Mu'adh. So the Prophet sent for Sad, and the latter came (riding) a donkey and when he approached the Mosque, the Prophet said to the Ansar, "Get up for your chief or for the best among you." Then the Prophet said (to Sad)." These (i.e. Banu Quraiza) have agreed to accept your verdict." Sad said, "Kill their (men) warriors and take their offspring as captives, "On that the Prophet said, "You have judged according to Allah's Judgment," or said, "according to the King's judgment."
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ وَهُوَ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ بَنِي مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ رَمَاهُ فِي الْأَکْحَلِ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنْ الْغُبَارِ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوا عَلَی حُکْمِهِ فَرَدَّ الْحُکْمَ إِلَی سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْکُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَی النِّسَائُ وَالذُّرِّيَّةُ وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَعْدًا قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيکَ مِنْ قَوْمٍ کَذَّبُوا رَسُولَکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّکَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ کَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئٌ فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّی أُجَاهِدَهُمْ فِيکَ وَإِنْ کُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِکُمْ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
زکریا بن یحیی ، عبداللہ بن نمیر، ہشام بن عروہ، وہ اپنے والد سے، اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ سعد کو جنگ خندق میں حبان بن عرفہ ایک قریشی نے تیر مارا جو کہ ہفت اندام کی رگ میں لگا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تاکہ ان کی دیکھ بھال کر سکیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خندق سے واپس آئے ہتھیار اتارے غسل کیا کہ حضرت جبریل علیہ السلام آ گئے اور اپنے سر سے گردو غبار دور کر رہے تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے ہتھیار اتا دیئے خدا کی قسم! میں نے ابھی تک نہیں کھولے چلئے بنی قریظہ کی طرف چلیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر بنی قریظہ کو گھیر لیا آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو کر بنو قریظہ قلعہ سے اتر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد جو فیصلہ کردیں منظور کرلو پھر سعد آئے اور انہوں نے کہا کہ میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جو لڑائی کے لائق ہیں ان کو قتل کردیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے انہیں لونڈی غلام بنایا جائے اور ان کا مال مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زخمی ہونے کے بعد دعا کی کہ اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھ کو کسی قوم سے اور خصوصا اس قوم سے جس نے تیرے رسول کو جھوٹا کہا اور مکہ سے نکال دیا لڑنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں اے اللہ! میں جانتا ہوں کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی ختم کردی پھر بھی اگر کوئی لڑائی باقی ہو تو مجھے تو زندہ رکھ تاکہ تیری راہ میں میں ان سے جہاد کروں اور اگر تیری طرف سے لڑائی کا سلسلہ بند کردیا گیا ہو پھر میرے زخم کو جاری کردے تاکہ میں اسی میں شہید ہو جاؤں۔چنانچہ ان کے سینہ سے خون جاری ہوگیا جو ڈیرہ سے بہ بہ کر مسجد میں آ رہا تھا لوگ ڈر گئے اور بنی غفار سے پوچھنے لگے کہ یہ تمہارے خیمہ سے کیا بہ بہ کر آ رہا ہے پھر معلوم ہوا کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون بہ رہا ہے آخر وہ اسی میں فوت ہو گئے۔
Narrated 'Aisha: Sad was wounded on the day of Khandaq (i.e. Trench) when a man from Quraish, called Hibban bin Al-'Araqa hit him (with an arrow). The man was Hibban bin Qais from (the tribe of) Bani Mais bin 'Amir bin Lu'ai who shot an arrow at Sad's medial arm vein (or main artery of the arm). The Prophet pitched a tent (for Sad) in the Mosque so that he might be near to the Prophet to visit. When the Prophet returned from the (battle) of Al-Khandaq (i.e. Trench) and laid down his arms and took a bath Gabriel came to him while he (i.e. Gabriel) was shaking the dust off his head, and said, "You have laid down the arms?" By Allah, I have not laid them down. Go out to them (to attack them)." The Prophet said, "Where?" Gabriel pointed towards Bani Quraiza. So Allah's Apostle went to them (i.e. Banu Quraiza) (i.e. besieged them). They then surrendered to the Prophet's judgment but he directed them to Sad to give his verdict concerning them. Sad said, "I give my judgment that their warriors should be killed, their women and children should be taken as captives, and their properties distributed." Narrated Hisham: My father informed me that 'Aisha said, "Sad said, "O Allah! You know that there is nothing more beloved to me than to fight in Your Cause against those who disbelieved Your Apostle and turned him out (of Mecca). O Allah! I think you have put to an end the fight between us and them (i.e. Quraish infidels). And if there still remains any fight with the Quraish (infidels), then keep me alive till I fight against them for Your Sake. But if you have brought the war to an end, then let this wound burst and cause my death thereby.' So blood gushed from the wound. There was a tent in the Mosque belonging to Banu Ghifar who were surprised by the blood flowing towards them . They said, 'O people of the tent! What is this thing which is coming to us from your side?' Behold! Blood was flowing profusely out of Sad's wound. Sad then died because of that."
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَکَ وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِکِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَکَ
حجاج بن منہال، شعبہ، عدی بن ثابت، حضرت براء بن عازب سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرما رہے تھے مشرکوں کی ہجو کرو جبریل علیہ السلام تمہاری مدد پر ہیں (دوسری سند) ابراہیم بن طہمان شیبانی عدی بن ثابت نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اتنا اور بڑھایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی قریظہ کے دن حسان بن ثابت سے اس طرح فرمایا کہ مشرکوں کی ہجو کرو جبریل علیہ السلام تمہاری مدد پر موجود ہیں۔
Narrated Al-Bara: The Prophet said to Hassan, "Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e, supports you)." (Through another group of sub narrators) Al-Bara bin Azib said, "On the day of Quraiza's (besiege), Allah's Apostle said to Hassan bin Thabit, 'Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e. supports you).' "