Narrated by Qais
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا أَقْبَلَ يُرِيدُ الْإِسْلَامَ وَمَعَهُ غُلَامُهُ ضَلَّ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ فَأَقْبَلَ بَعْدَ ذَلِکَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلَامُکَ قَدْ أَتَاکَ فَقَالَ أَمَا إِنِّي أُشْهِدُکَ أَنَّهُ حُرٌّ قَالَ فَهُوَ حِينَ يَقُولُ يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَی أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْکُفْرِ نَجَّتِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر محمد بن بشیر اسماعیل قیس ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اسلام قبول کرنے کے ارادہ سے ابوہریرہ نکلے اور ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا ان میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا ہو گیا کچھ دنوں کے بعد وہ غلام آیا اس حال میں کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیرا غلام ہے جو تیرے پاس آیا ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ آزاد ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ پہنچ کر یہ شعر کہہ رہے تھے۔ درازی شب اور اس کی سختیوں سے شکایت ہے مگر یہ کہ دارالفکر سے اس نے نجات دلائی!
Narrated Qais: When Abu Huraira accompanied by his slave set out intending to embrace Islam they lost each other on the way. The slave then came while Abu Huraira was sitting with the Prophet. The Prophet said, "O Abu Huraira! Your slave has come back." Abu Huraira said, "Indeed, I would like you to witness that I have manumitted him." That happened at the time when Abu Huraira recited (the following poetic verse):-- 'What a long tedious tiresome night! Nevertheless, it has delivered us From the land of Kufr (disbelief).
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَی أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْکُفْرِ نَجَّتِ قَالَ وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَايَعْتُهُ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلَامُکَ فَقُلْتُ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْتَقْتُهُ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ لَمْ يَقُلْ أَبُو کُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ حُرٌّ
عبیداللہ بن سعید، ابواسامہ، اسماعیل، قیس، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو میں نے راستہ میں یہ شعر کہیدرا زی شب اور اس کی سختیوں سے شکایت ہے مگر یہ کہ دارالکفر سے اس نے نجات دلائی پھر انہوں نے بیان کیا کہ میرا غلام راستے ہی سے بھاگ گیا جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی اس وقت میرا غلام آ نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ یہ تیرا غلام ہے تو میں نے کہا وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے اور میں نے اس کو آزاد کر دیا ابوکریب نے ابواسامہ سے جو روایت کی اس میں یہ نہیں بیان کیا کہ وہ آزاد ہے۔
Narrated Abu Huraira: On my way to the Prophet I was reciting:-- 'What a long tedious tiresome night! Nevertheless, it has saved us From the land of Kufr (disbelief).' I had a slave who ran away from me on the way. When I went to the Prophet and gave the pledge of allegiance for embracing Islam, the slave showed up while I was still with the Prophet who remarked, "O Abu Huraira! Here is your slave!" I said, "I manumit him for Allah's Sake," and so I freed him.
Narrated by Qais
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ غُلَامُهُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْإِسْلَامَ فَضَلَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِهَذَا وَقَالَ أَمَا إِنِّي أُشْهِدُکَ أَنَّهُ لِلَّهِ
شہاب بن عباد ابراہیم بن حمید اسماعیل قیس سے روایت ہے کہ جب ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے لیے آرہے تھے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا راستہ بھول کر ایک دوسرے سے جدا ہو گئے پھر اسی طرح بیان کیا جب غلام آ گیا تو کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ اللہ کے لیے ہے۔
Narrated Qais: When Abu Huraira accompanied by his slave came intending to embrace Islam, they lost each other on the way. (When the slave showed up) Abu Huraira said (to the Prophet), "I make you witness that the slave is free for Allah's Cause."