Narrated by Salama bin Al-Akwa
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا فَصَلَّی عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَی فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّی عَلَيْهِ
ابو عاصم، یزید، بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر نماز پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی پھر ایک دوسرا جنازہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے کہا، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز پڑھو ابوقتادہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی۔
Narrated Salama bin Al-Akwa: A dead person was brought to the Prophet so that he might lead the funeral prayer for him. He asked, "Is he in debt?" When the people replied in the negative, he led the funeral prayer. Another dead person was brought and he asked, "Is he in debt?" They said, "Yes." He (refused to lead the prayer and) said, "Lead the prayer of your friend." Abu Qatada said, "O Allah's Apostle! I undertake to pay his debt." Allah's Apostle then led his funeral prayer.
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَدْ جَائَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ قَدْ أَعْطَيْتُکَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا فَلَمْ يَجِئْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّی قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَائَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَکْرٍ فَنَادَی مَنْ کَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي کَذَا وَکَذَا فَحَثَی لِي حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ وَقَالَ خُذْ مِثْلَيْهَا
علی بن عبداللہ ، سفیان عمرو، محمد بن علی، جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر بحرین کا مال آگیا تو میں تجھ کو اس طرح اسطرح لپ بھر کر بتایا) دوں گا، لیکن بحرین کا مال نہیں آیا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی جب بحرین کا مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلان کرایا کہ جس شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وعدہ کیا ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی کا کوئی قرض ہو، تو میرے پاس آئے چنانچہ میں ان کے پاس پہنچا اور میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اتنا اتنا دینے کا وعدہ کیا تھا پھر مجھے (ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) ایک لپ بھر کر دیا، میں نے اسے شمار کیا، تو اس میں پانچ سو تھے اور کہا کہ اس کا دوچند اور لے لو۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: Once the Prophet said (to me), "If the money of Bahrain comes, I will give you a certain amount of it." The Prophet had breathed his last before the money of Bahrain arrived. When the money of Bahrain reached, Abu Bakr announced, "Whoever was promised by the Prophet should come to us." I went to Abu Bakr and said, "The Prophet promised me so and so." Abu Bakr gave me a handful of coins and when I counted them, they were five-hundred in number. Abu Bakr then said, "Take twice the amount you have taken (besides)."