Narrated by Sahl
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَی امْرَأَةٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَکَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ قَالَ لَهَا مُرِي عَبْدَکِ فَلْيَعْمَلْ لَنَا أَعْوَادَ الْمِنْبَرِ فَأَمَرَتْ عَبْدَهَا فَذَهَبَ فَقَطَعَ مِنْ الطَّرْفَائِ فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا فَلَمَّا قَضَاهُ أَرْسَلَتْ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ قَضَاهُ قَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلِي بِهِ إِلَيَّ فَجَائُوا بِهِ فَاحْتَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ
ابن ابی مریم ابوغسان ابوحازم سہل سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہاجر عورت کو جس کے پاس ایک بوڑھا غلام تھا کہلا بھیجا کہ اپنے غلام کو حکم دے کہ ہمارے لیے منبر کی لکڑیاں تیار کرے اس نے اپنے غلام کو حکم دیا تو وہ جنگل کو گیا اور جھاؤ کی لکڑی کاٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے منبر تیار کیا جب وہ تیار کر چکا تو اس عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ منبر تیار ہو چکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ اس کو میرے پاس بھیج دو چنانچہ وہ لوگ اس منبر کو لے کر آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اٹھایا اور وہاں پر چکھا جہاں پر تم دیکھتے ہو۔
Narrated Sahl: The Prophet sent for a woman from the emigrants and she had a slave who was a carpenter. The Prophet said to her "Order your slave to prepare the wood (pieces) for the pulpit." So, she ordered her slave who went and cut the wood from the tamarisk and prepared the pulpit, for the Prophet. When he finished the pulpit, the woman informed the Prophet that it had been finished. The Prophet asked her to send that pulpit to him, so they brought it. The Prophet lifted it and placed it at the place in which you see now."
Narrated by 'Abdullah bin Abu Qatada Al-Aslami
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَکَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي بِهِ وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ وَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ فَقُمْتُ إِلَی الْفَرَسِ فَأَسْرَجْتُهُ ثُمَّ رَکِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقُلْتُ لَهُمْ نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُکَ عَلَيْهِ بِشَيْئٍ فَغَضِبْتُ فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا ثُمَّ رَکِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَی الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْکُلُونَهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ شَکُّوا فِي أَکْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي فَأَدْرَکْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مَعَکُمْ مِنْهُ شَيْئٌ فَقُلْتُ نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَکَلَهَا حَتَّی نَفِدَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَحَدَّثَنِي بِهِ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ
عبدالعزیز بن عبداللہ محمد بن جعفر ابوحازم عبداللہ بن ابی قتادہ سلمی اپنے والد ابوقتادہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں مکہ کے بعض راستوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ ایک دن بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے ٹھہرے ہوئے تھے اور لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں حالت احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر دیکھا اور میں اپنی جوتیاں ٹانکنے میں مشغول تھا ان لوگوں نے مجھے اس کی اطلاع نہ دی لیکن وہ لوگ چاہتے تھے کہ کاش میں اس کو دیکھ لیتا میں نے نظر پھیر کر دیکھا تو میری نظر اس پر پڑی میں گھوڑے کی طرف گیا اور اس پر زین کسا پھر میں سوار ہوگیا لیکن کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا میں نے لوگوں سے کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ دے دو تو لوگوں نے کہا بخدا ہم تمہاری مدد کچھ بھی نہیں کریں گے میں ناراض ہوا اور گھوڑے سے اتر کر میں نے یہ دونوں چیزیں لیں پھر میں سوار ہوا اور گورخر پر حملہ کردیا اس کو ذبح کرکے لیے آیا تو وہ مر چکا تھا لوگوں نے اس کو کھانا شروع کیا پھر حالت احرام میں اس کے کھانے میں لوگوں کو شک ہوا ہم لوگ وہاں سے چلے اور اس کا ایک دست میں نے چھپا رکھا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟ میں نے کہا جی ہاں!چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ دست دے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ختم کردیا حالانکہ آپ احرام میں تھے محمد بن جعفر کا بیان ہے کہ مجھ سے یہ حدیث زید بن اسلم نے بواسطہ عطاء بن یسار ابوقتادہ بیان کی۔
Narrated 'Abdullah bin Abu Qatada Al-Aslami: That his father said, "One day I was sitting with some of the Prophet's companions on the way to Mecca. Allah's Apostle was ahead of us. All of my companions were in the state of Ihram while I was a non-Muhrim. They saw an onager while I was busy repairing my shoes, so they did not tell me about it but they wished I had seen it. By chance I looked up and saw it. So, I turned to the horse, saddled it and rode on it, forgetting to take the spear and the whip. I asked them if they could hand over to me the whip and the spear but they said, 'No, by Allah, we shall not help you in that in any way.' I became angry and got down from the horse, picked up both the things and rode the horse again. I attacked the onager and slaughtered it, and brought it (after it had been dead). They took it (cooked some of it) and started eating it, but they doubted whether it was allowed for them to eat it or not, as they were in the state of Ihram. So, we proceeded and I hid with me one of its fore-legs. When we met Allah's Apostle and asked him about the case, he asked, 'Do you have a portion of it with you?' I replied in the affirmative and gave him that fleshy fore-leg which he ate completely while he was in the state of Ihram .