Sahih Bukhari — Hadith 29
Narrated by Al-Ma'rur
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي أَبُو بَکْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ کَانَ حَرِيصًا عَلَی قَتْلِ صَاحِبِهِ
عبدالرحمن بن مبارک، حماد بن زید، ایوب و یونس، حسن، احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ (جنگ جمل کے وقت) میں اس مرد (علی المرتضی) کی مدد کرنے چلا تو (راستے میں) مجھے ابوبکر مل گۓ، انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں (جانے کا) ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا اس مرد (علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی مدد کروں گا وہ بولے کہ لوٹ جاؤ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئیے سنا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ مقابلہ کریں، تو قاتل اور مقتول (دونوں) دوزخ میں ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قاتل (کی نسبت جو آپ نے فرمایا اس کی وجہ تو ظاہر) ہے مگر مقتول کا کیا سبب (وہ کیوں دوزخ میں جائے گا) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (اس وجہ سے کہ) وہ اپنے حریف کے قتل کا شائق تھا، حالانکہ وہ حریف مسلمان تھا۔
Narrated Al-Ma'rur: At Ar-Rabadha I met Abu Dhar who was wearing a cloak, and his slave, too, was wearing a similar one. I asked about the reason for it. He replied, "I abused a person by calling his mother with bad names." The Prophet said to me, 'O Abu Dhar! Did you abuse him by calling his mother with bad names? You still have some characteristics of ignorance. Your slaves are your brothers and Allah has put them under your command. So whoever has a brother under his command should feed him of what he eats and dress him of what he wears. Do not ask them (slaves) to do things beyond their capacity (power) and if you do so, then help them.'