TrueHadith

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی قبروں کا بیان، اقبرتہ، قبرت الرجل اقبر کے معنی ہیں میں نے اس کے لئے قبر بنائی، قبرتہ کے معنی ہیں میں نے اس کو قبر میں دفن کیا، کفاتا کے معنی ہیں کہ اسی پر زندگی بسر کریں گے اور مرنے کے بعد اسی میں دفن کئے جائیں گے ۔

Sahih BukhariHadith 1300

Narrated by 'Aisha

حدّثناإِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَی بْنُ أَبِي زَکَرِيَّائَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَعَذَّرُ فِي مَرَضِهِ أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ أَيْنَ أَنَا غَدًا اسْتِبْطَائً لِيَوْمِ عَائِشَةَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَدُفِنَ فِي بَيْتِي

اسمعیل، سلیمان، ہشام، ح، محمد بن حرب، ابومروان یحیی بن ابی زکریا و ہشام، عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الوفات میں معذرت کے طور پر فرماتے ہیں کہ آج میں کہاں ہوں، کل کہاں ہوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے باری کے دن کو بہت دور سمجھتے تھے جب میری باری کا دن آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھا لیا اس حال میں کہ آپ میرے پہلو اور سینے کے بیچ میں تھے اور میرے گھر میں دفن ہوئے۔

Narrated 'Aisha: During his sickness, Allah's Apostle was asking repeatedly, "Where am I today? Where will I be tomorrow?" And I was waiting for the day of my turn (impatiently). Then, when my turn came, Allah took his soul away (in my lap) between my chest and arms and he was buried in my house. ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1301

Narrated by 'Aisha

حَدّثناموسی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالٍ هُوَ الْوَزَّانُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ لَوْلَا ذَلِکَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَوْ خُشِيَ أَنَّ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا وَعَنْ هِلَالٍ قَالَ کَنَّانِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يُولَدْ لِي

موسی بن اسماعیل، ابوعوانہ، ہلال، عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس سے آپ نہیں اٹھے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہود نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی مگر یہ کہ آپ کو ڈر ہوا یا لوگ ڈرے کہ کہیں مسجد نہ بنائی جائے اور ہلال نے بیان کیا کہ عروہ نے میری کنیت رکھ دی حالانکہ میری کوئی اولاد نہ تھی۔

Narrated 'Aisha: Allah's Apostle in his fatal illness said, "Allah cursed the Jews and the Christians, for they built the places of worship at the graves of their prophets." And if that had not been the case, then the Prophet's grave would have been made prominent before the people. So (the Prophet ) was afraid, or the people were afraid that his grave might be taken as a place for worship. ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1302

Narrated by Abu Bakr bin 'Aiyash

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ قال أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَی قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا

محمد، عبداللہ ، ابوبکر بن عیاش، سفیان تمار سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو دیکھا جو کوہان کی طرح ہے۔

Narrated Abu Bakr bin 'Aiyash : Sufyan At-Tammar told me that he had seen the grave of the Prophet elevated and convex. ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1303

Narrated by 'Urwa

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمْ الْحَائِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِکَ حَتَّی قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ لَا وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

فروہ، علی بن مسہر، ہشام بن عروہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں جب ولید بن عبدالملک کے زمانے میں دیوار گر گئی تو لوگ اس کے بنانے میں مشغول ہوگئے تو ایک پاؤں دکھائی دیا تو لوگ ڈرے اور سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اس کو جانتا ہو، یہاں تک ان لوگوں سے عروہ نے کہا کہ بخدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک نہیں ہے بلکہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا پاؤں ہے

Narrated 'Urwa: When the wall fell on them (i.e. graves) during the caliphate of Al-Walid bin 'Abdul Malik, the people started repairing it, and a foot appeared to them. The people got scared and thought that it was the foot of the Prophet. No-one could be found who could tell them about it till I ('Urwa) said to them, "By Allah, this is not the foot of the Prophet but it is the foot of Umar." Aisha narrated that she made a will to 'Abdullah bin Zubair, "Do not bury me with them (the Prophet and his two companions) but bury me with my companions (wives of the Prophet (p.b.u.h) ) in

Permalink

Sahih BukhariHadith 1304

وَعَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَوْصَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا تَدْفِنِّي مَعَهُمْ وَادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي بِالْبَقِيعِ لَا أُزَکَّی بِهِ أَبَدًا

ہشام بواسطہ اپنے والد، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر کو وصیت کی کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ دفن نہ کرو بلکہ میری سوکنوں کیساتھ بقیع میں دفن کرنا میں آپ کے ساتھ دفن کئے جانے کے سبب پاک نہ ہوجاؤں گی۔

-

Permalink

Sahih BukhariHadith 1305

Narrated by 'Amr bin Maimun Al-Audi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اذْهَبْ إِلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْ يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْکِ السَّلَامَ ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ قَالَتْ کُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي فَلَأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَی نَفْسِي فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ لَهُ مَا لَدَيْکَ قَالَ أَذِنَتْ لَکَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ مَا کَانَ شَيْئٌ أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِکَ الْمَضْجَعِ فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي ثُمَّ سَلِّمُوا ثُمَّ قُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَادْفِنُونِي وَإِلَّا فَرُدُّونِي إِلَی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ إِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَائِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَمَنْ اسْتَخْلَفُوا بَعْدِي فَهُوَ الْخَلِيفَةُ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا فَسَمَّی عُثْمَانَ وَعَلِيًّا وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَوَلَجَ عَلَيْهِ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَی اللَّهِ کَانَ لَکَ مِنْ الْقَدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ ثُمَّ اسْتُخْلِفْتَ فَعَدَلْتَ ثُمَّ الشَّهَادَةُ بَعْدَ هَذَا کُلِّهِ فَقَالَ لَيْتَنِي يَا ابْنَ أَخِي وَذَلِکَ کَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ خَيْرًا أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَأَنْ يَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا الَّذِينَ تَبَوَّئُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيُعْفَی عَنْ مُسِيئِهِمْ وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَی لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَأَنْ لَا يُکَلَّفُوا فَوْقَ طَاقَتِهِمْ

قتیبہ، جریر بن عبدالمجید، حصین بن عبدالرحمن، عمرو بن میمون اودی روایت کرتے ہیں میں نے عمر ابن خطاب کو دیکھا کہتے تھے کہ اے عبداللہ تو ام المومنین حضرت عائشہ کے پاس جا اور کہہ کہ عمربن خطاب آپ کو سلام کہتے ہیں پھر ان سے اجازت مانگ کہ میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جاؤں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس جگہ کو میں اپنے لیے پسند کرتی تھیں لیکن آج میں عمر کو اپنے اوپر ترجیح دوں گی جب عبداللہ بن عمر واپس ہوئے تو عمر نے فرمایا کہ کیا خبر لے کر آئے انہوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین عائشہ نے آپ کو اجازت دیدی فرمایا آج میرے نزدیک اس خواب گاہ میں (دفن ہونے کی جگہ) سے زیادہ کوئی چیز اہم نہ تھی جب میں مرجاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جاؤ پھر سلام کہنا اور عرض کرنا کہ عمر بن خطاب اجازت چاہتے ہیں اگر وہ اجازت دیں تو دفن کردینا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیں۔ میں اس امر خلافت کا مستحق ان لوگوں سے زیادہ کسی کو نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس حال میں کہ آپ لوگوں سے راضی تھے میرے بعد یہ جس کو بھی خلیفہ بنالے تو وہ خلیفہ ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور عثمان، علی، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھم کا نام لیا اور ایک انصاری نوجوان آیا اور عرض کیا کہ اے امیرالمومنین آپ اللہ بزرگ وبرتر کی رحمت سے خوش ہوں آپ کا اسلام میں جو مرتبہ تھا وہ آپ جانتے ہیں پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے عدل سے کام لیا پھر سب کے بعد آپ نے شہادت پائی۔عمر نے فرمایا کہ اے میرے بتھیجے کاش میرے ساتھ معاملہ مساوی ہوتا کہ اس کے سبب سے نہ مجھ پر عذاب ہوتا اور نہ ثواب ہوتا میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کا حق پہنچائیں اور ان کی عزت کی حفاظت کرنا اور میں انصار کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتا ہوں جنہوں نے دارالجرت اور ایمان میں ٹھکانہ پکڑا ان کے احسان کرنے والوں کے احسان کو قبول کریں اور ان کے بروں کی برائی سے درگزر کریں اور میں اس سے وصیت کرتا ہوں اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کا کہ ان کے (ذمیوں) عہد کو پورا کریں اور ان کے دشمنوں سے لڑے اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ لادیں۔

Narrated 'Amr bin Maimun Al-Audi: I saw 'Umar bin Al-Khattab (when he was stabbed) saying, "O 'Abdullah bin 'Umar! Go to the mother of the believers Aisha and say, 'Umar bin Al-Khattab sends his greetings to you,' and request her to allow me to be buried with my companions." (So, Ibn 'Umar conveyed the message to 'Aisha.) She said, "I had the idea of having this place for myself but today I prefer him ('Umar) to myself (and allow him to be buried there)." When 'Abdullah bin 'Umar returned, 'Umar asked him, "What (news) do you have?" He replied, "O chief of the believers! She has allowed you (to be buried there)." On that 'Umar said, "Nothing was more important to me than to be buried in that (sacred) place. So, when I expire, carry me there and pay my greetings to her ('Aisha ) and say, 'Umar bin Al-Khattab asks permission; and if she gives permission, then bury me (there) and if she does not, then take me to the grave-yard of the Muslims. I do not think any person has more right for the caliphate than those with whom Allah's Apostle (p.b.u.h) was always pleased till his death. And whoever is chosen by the people after me will be the caliph, and you people must listen to him and obey him," and then he mentioned the name of 'Uthman, 'Ali, Talha, Az-Zubair, 'Abdur-Rahman bin 'Auf and Sad bin Abi Waqqas. By this time a young man from Ansar came and said, "O chief of the believers! Be happy with Allah's glad tidings. The grade which you have in Islam is known to you, then you became the caliph and you ruled with justice and then you have been awarded martyrdom after all this." 'Umar replied, "O son of my brother! Would that all that privileges will counterbalance (my short comings), so that I neither lose nor gain anything. I recommend my successor to be good to the early emigrants and realize their rights and to protect their honor and sacred things. And I also recommend him to be good to the Ansar who before them, had homes (in Medina) and had adopted the Faith. He should accept the good of the righteous among them and should excuse their wrongdoers. I recommend him to abide by the rules and regulations concerning the Dhimmis (protectees) of Allah and His Apostle, to fulfill their contracts completely and fight for them and not to tax (overburden) them beyond their capabilities."

Permalink