TrueHadith

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا بیان کہ میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے جب کہ نوحہ کرنا اس کی عادت میں سے ہو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاو

Sahih BukhariHadith 1204

Narrated by Usama bin Zaid

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ وَمُحَمَّدٌ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَرْسَلَتْ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَی وَکُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ قَالَ حَسِبْتُهُ أَنَّهُ قَالَ کَأَنَّهَا شَنٌّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا فَقَالَ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَائَ

عبدان و محمد، عبداللہ ، عاصم بن سلیمان، ابوعثمان، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے آپ کو کہلا بھیجا کہ میرا ایک لڑکا وفات پا گیا ہے اس لئے آپ تشریف لائیں۔ آپ نے اس کا جواب کہلا بھیجا کہ سلام کہتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ کی جو چیز تھی وہ لے لی اور اسی کی ہے وہ چیز جو اس نے دی اور ہر شخص کی ایک مدت مقرر ہے اس لئے صبر کر اور اسے بھی ثواب سمجھ۔ آپ کی صاحبزادی نے پھر آپ کے پاس آدمی قسم دیتے ہوئے بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائیں تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت اور کچھ لوگ تھے وہ لڑکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور اس کی سانس اکھڑ رہی تھی۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ ایک مشک تھی پس آپ کی دونوں آنکھیں بہنے لگیں، سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتے ہیں۔

Narrated Usama bin Zaid: The daughter of the Prophet (p.b.u.h) sent (a messenger) to the Prophet requesting him to come as her child was dying (or was gasping), but the Prophet returned the messenger and told him to convey his greeting to her and say: "Whatever Allah takes is for Him and whatever He gives, is for Him, and everything with Him has a limited fixed term (in this world) and so she should be patient and hope for Allah's reward." She again sent for him, swearing that he should come. The Prophet got up, and so did Sad bin 'Ubada, Muadh bin Jabal, Ubai bin Ka'b, Zaid bin Thabit and some other men. The child was brought to Allah's Apostle while his breath was disturbed in his chest (the sub-narrator thinks that Usama added: ) as if it was a leather water-skin. On that the eyes of the Prophet (p.b.u.h) started shedding tears. Sad said, "O Allah's Apostle! What is this?" He replied, "It is mercy which Allah has lodged in the hearts of His slaves, and Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others). ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1205

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْنَا بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَی الْقَبْرِ قَالَ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ قَالَ فَقَالَ هَلْ مِنْکُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَنَا قَالَ فَانْزِلْ قَالَ فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا

عبداللہ بن محمد، ابوعامر، فلیج بن سلیمان، ہلال بن علی، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کے جنازہ میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے تھے میں نے دیکھا آپ کی دونوں آنکھیں بہہ رہی تھیں، آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جس نے رات کو اپنی بیوی سے ہم بستری نہ کی ہو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں، آپ نے فرمایا کہ قبر میں اترو چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔

Narrated Anas bin Malik: We were (in the funeral procession) of one of the daughters of the Prophet and he was sitting by the side of the grave. I saw his eyes shedding tears. He said, "Is there anyone among you who did not have sexual relations with his wife last night?" Abu Talha replied in the affirmative. And so the Prophet told him to get down in the grave. And so he got down in her grave. ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1206

Narrated by 'Abdullah bin 'Ubaidullah bin Abi Mulaika

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَکَّةَ وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا أَوْ قَالَ جَلَسْتُ إِلَی أَحَدِهِمَا ثُمَّ جَائَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَلَا تَنْهَی عَنْ الْبُکَائِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَدْ کَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِکَ ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَکَّةَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ إِذَا هُوَ بِرَکْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَائِ الرَّکْبُ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي فَرَجَعْتُ إِلَی صُهَيْبٍ فَقُلْتُ ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْکِي يَقُولُ وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا صُهَيْبُ أَتَبْکِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَلَکِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْکَافِرَ عَذَابًا بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَقَالَتْ حَسْبُکُمْ الْقُرْآنُ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ ذَلِکَ وَاللَّهُ هُوَ أَضْحَکَ وَأَبْکَی قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ وَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا

عبدان، عبداللہ ، ابن جریج، عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک لڑکی مکہ میں وفات پاگئی، تو ہم لوگ جنازہ میں شریک ہونے کے لئے پہنچے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی حاضر ہوئے۔ میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا یا یہ کہا کہ میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دوسرے آکر میرے پاس بیٹھ گئے، تو عبداللہ بن عمر نے عثمان سے کہا کہ رونے سے کیوں نہیں روکتے ہو۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے تھے، چنانچہ بیان کیا میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے لوٹا یہاں تک کہ ہم بیداء میں پہنچے تو ایک سوار کو دیکھا کہ درخت کے سایہ میں سورہا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا کر دیکھو کون سورہا ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ میں پھر صہیب کے پاس گیا اور کہا چلو چنانچہ صہیب امیرالمومنین سے ملے جب حضرت عمر مجروح ہوئے تو صہیب روتے ہوئے پہنچے اور کہنے لگے افسوس میرے بھایی افسوس اے میرے ساتھی۔ عمر نے فرمایا اے صہیب کیا تم مجھ پر روتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ابن عباس کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر انتقال کر گئے تو میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ سے بیان کی تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ اس پر رحم کرے بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیتا ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب زیادہ کر دیتا ہے اور عائشہ نے فرمایا کہ تمہارے لیے قرآن کافی ہے کہ کوئی گناہ گار دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا ابن عباس نے اسوقت کہا اللہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا ابن ملیکہ نے کہا بخدا ابن عمر نے کچھ بھی نہیں کہا۔

Narrated 'Abdullah bin 'Ubaidullah bin Abi Mulaika: One of the daughters of 'Uthman died at Mecca. We went to attend her funeral procession. Ibn 'Umar and Ibn Abbas were also present. I sat in between them (or said, I sat beside one of them. Then a man came and sat beside me.) 'Abdullah bin 'Umar said to 'Amr bin 'Uthman, "Will you not prohibit crying as Allah's Apostle has said, 'The dead person is tortured by the crying of his relatives.?" Ibn Abbas said, "Umar used to say so." Then he added narrating, "I accompanied Umar on a journey from Mecca till we reached Al-Baida. There he saw some travelers in the shade of a Samura (A kind of forest tree). He said (to me), "Go and see who those travelers are." So I went and saw that one of them was Suhaib. I told this to 'Umar who then asked me to call him. So I went back to Suhaib and said to him, "Depart and follow the chief of the faithful believers." Later, when 'Umar was stabbed, Suhaib came in weeping and saying, "O my brother, O my friend!" (on this 'Umar said to him, "O Suhaib! Are you weeping for me while the Prophet said, "The dead person is punished by some of the weeping of his relatives?" Ibn Abbas added, "When 'Umar died I told all this to Aisha and she said, 'May Allah be merciful to Umar. By Allah, Allah's Apostle did not say that a believer is punished by the weeping of his relatives. But he said, Allah increases the punishment of a non-believer because of the weeping of his relatives." Aisha further added, "The Quran is sufficient for you (to clear up this point) as Allah has stated: 'No burdened soul will bear another's burden.' " (35.18). Ibn Abbas then said, "Only Allah makes one laugh or cry." Ibn Umar did not say anything after that. ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1207

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی يَهُودِيَّةٍ يَبْکِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْکُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا

عبداللہ بن یوسف، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، ابوبکر، عمرۃ بنت عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں عمرہ نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے۔ اس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور یہ (عورت) اپنی قبر میں عذاب دی جا رہی ہے۔

Narrated 'Aisha: (the wife of the Prophet) Once Allah's Apostle passed by (the grave of) a Jewess whose relatives were weeping over her. He said, "They are weeping over her and she is being tortured in her grave."

Permalink

Sahih BukhariHadith 1208

Narrated by Abu Burda

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ وَهْوَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَا أَخَاهُ فَقَالَ عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ

اسمعیل بن خلیل، علی بن مسہر، ابواسحاق، شیبانی، ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی کئے گئے تو صہیب رضی اللہ عنہ کہنے لگے افسوس اے میرے بھائی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مردے زندوں کے رونے کے سبب سے عذاب دئیے جاتے ہیں۔

Narrated Abu Burda: That his father said, "When Umar was stabbed, Suhaib started crying: O my brother! 'Umar said, 'Don't you know that the Prophet said: The deceased is tortured for the weeping of the living'?" ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1213

Narrated by 'Amir bin Sad bin Abi Waqqas

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنْ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا فَقُلْتُ بِالشَّطْرِ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَبِيرٌ أَوْ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِکَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً ثُمَّ لَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی يَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَی أَعْقَابِهِمْ لَکِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَکَّةَ

عبداللہ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے سال ہماری اس بیماری میں عیادت کرتے تھے جو اس سال مجھے بہت زیادہ ہوگئی تھی، میں نے عرض کیا مجھے بیماری ہوگئی اور میں مالدار ہوں اور میرے وارث سوائے میری بیٹی کے اور کوئی نہیں۔ کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ نہ کردوں ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ نصف، آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تہائی اور تہائی بھی بڑی ہے یا فرمایا کہ زیادہ ہے۔ تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑے اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑے کہ لوگوں سے سوال کرتے پھریں اور تم خرچ نہیں کرتے ہو اللہ کی رضامندی کی خاطر مگر اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا تم کبھی نہیں چھوڑے جاؤ گے مگر اس سے تمہارے درجہ اور بلندی میں زیادتی ہوگی پھر ممکن ہے کہ اگر تم پیچھے چھوڑ دییے گئے تو تم سے ایک قوم فائدہ اٹھائے گی اور دوسری قوم نقصان اٹھایے گی اے اللہ میرے اصحاب کی ہجرت کو پختہ اور کامل کردے اور ان کو پیچھے نہ لوٹا لیکن تنگ حال سعد بن خولہ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم افسوس کرتے تھے وہ مکہ میں وفات پاگئے

Narrated 'Amir bin Sad bin Abi Waqqas: That his father said, "In the year of the last Hajj of the Prophet I became seriously ill and the Prophet used to visit me inquiring about my health. I told him, 'I am reduced to this state because of illness and I am wealthy and have no inheritors except a daughter, (In this narration the name of 'Amir bin Sad is mentioned and in fact it is a mistake; the narrator is 'Aisha bint Sad bin Abi Waqqas). Should I give two-thirds of my property in charity?' He said, 'No.' I asked, 'Half?' He said, 'No.' then he added, 'One-third, and even one-third is much. You'd better leave your inheritors wealthy rather than leaving them poor, begging others. You will get a reward for whatever you spend for Allah's sake, even for what you put in your wife's mouth.' I said, 'O Allah's Apostle! Will I be left alone after my companions have gone?' He said, 'If you are left behind, whatever good deeds you will do will up-grade you and raise you high. And perhaps you will have a long life so that some people will be benefited by you while others will be harmed by you. O Allah! Complete the emigration of my companions and do not turn them renegades.' But Allah's Apostle felt sorry for poor Sad bin Khaula as he died in Mecca." (but Sad bin Abi Waqqas lived long after the Prophet (p.b.u.h).) ________________________________________

Permalink