Sahih Bukhari — Hadith 2940
Narrated by Auf bin Mali
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَائِ بْنِ زَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مَوْتِي ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مُوْتَانٌ يَأْخُذُ فِيکُمْ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّی يُعْطَی الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَی بَيْتٌ مِنْ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ ثُمَّ هُدْنَةٌ تَکُونُ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَکُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ کُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا
حمیدی ولید عبداللہ بسر ابوادریس عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں (عوف بن مالک) نے غزوہ تبوک میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضری دی اور وہ چمڑے کے ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے ارشاد فرمایا کہ یاد کرلو قیامت برپا ہونے سے پہلے چھ باتیں معرض وجود میں آئی گی میری رحلت فتح بیت المقدس یکدم سے مرنا ہے یہ وبا تم میں اس طرح پھیلے گی جس طرح بکریوں میں یکایک مرنے کی بیماری پھیل جاتی ہے سرمایہ داری کی کثرت یعنی اگر کسی کو سو اشرفیاں دی جائیں تب بھی وہ خوش نہ ہو فتنہ کی بیماری جو عرب کے ہر گھر میں داخل ہوگی اور پھر صلح نامہ جو تم مسلمانوں اور بنو اصغر رومیوں کے درمیان مرتب ہوگا پھر وہ اس صلح نامہ سے پھر جائیں گے اور تمہارے مقابلہ کے لئے اسی جھنڈے لئے ہوئے آئیں گے اور یہ ان کے ہر ایک پر چم کے نیچے بارہ ہزار آدمیوں کا غول ہوگا۔
Narrated Auf bin Mali: I went to the Prophet during the Ghazwa of Tabuk while he was sitting in a leather tent. He said, "Count six signs that indicate the approach of the Hour: my death, the conquest of Jerusalem, a plague that will afflict you (and kill you in great numbers) as the plague that afflicts sheep, the increase of wealth to such an extent that even if one is given one hundred Dinars, he will not be satisfied; then an affliction which no Arab house will escape, and then a truce between you and Bani Al-Asfar (i.e. the Byzantines) who will betray you and attack you under eighty flags. Under each flag will be twelve thousand soldiers.