TrueHadith

فارسی یا کسی غیر عربی زبان میں گفتگو کرنے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ تمہارے رنگ اور زبان کا اختلاف اور ہم نے ہر قوم میں اس کا ہم زبان رسول بھیجا

Sahih BukhariHadith 2841

Narrated by Jabir bin Abdullah

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُؤْرًا فَحَيَّ هَلًا بِکُمْ

عمرو بن علی ابوعاصم حنظلہ ابوسفیان سعید حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم نے بکری کا ایک چھوٹا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا پیسا ہے لہذا آپ چند آدمیوں کو لے کر تشریف لایے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا کہ اے اہل خندق! جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھانا پکایا ہے پس جلدی سے چلو کہ یہ خوشخبری کی بات ہے۔

Narrated Jabir bin Abdullah: I said, "O Allah's Apostle! We have slaughtered a young sheep of ours and have ground one Sa of barley. So, I invite you along with some persons." So, the Prophet said in a loud voice, "O the people of the Trench! Jabir had prepared "Sur" so come along."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2842

Narrated by Um Khalid

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي وَعَلَيَّ قَمِيصٌ أَصْفَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَهْ سَنَهْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهِيَ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنَةٌ قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي أَبِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْلِي وَأَخْلِفِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَقِيَتْ حَتَّی ذَکَرَ

حبان عبداللہ خالد سعید ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں پیلے رنگ کا ایک کرتہ پہنے ہوئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سنہ سنہ عبداللہ کہتے ہیں کہ سنہ کے معنی حبشی زبان میں حسنہ اور خوب کے ہیں پھر (ام خالد) مہر نبوت سے کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا جس پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھیلنے دو پھر آپ نے مجھے درازی عمر کی دعا دے کر فرمایا کرتا پرانا کرو اور پھاڑو قمیص پرانی کرو اور پھاڑو اور پھر پرانی کرو اور پھاڑو عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ ام خالد نے اتنی عمر پائی کہ ان کی درازی عمر کا لوگوں میں چرچا ہوا کرتا تھا۔

Narrated Um Khalid: (the daughter of Khalid bin Said) I went to Allah's Apostle with my father and I was Nearing a yellow shirt. Allah's Apostle said, "Sanah, Sanah!" ('Abdullah, the narrator, said that 'Sanah' meant 'good' in the Ethiopian language). I then started playing with the seal of Prophethood (in between the Prophet's shoulders) and my father rebuked me harshly for that. Allah's Apostle said. "Leave her," and then Allah's Apostle (invoked Allah to grant me a long life) by saying (thrice), "Wear this dress till it is worn out and then wear it till it is worn out, and then wear it till it is worn out." (The narrator adds, "It is said that she lived for a long period, wearing that (yellow) dress till its color became dark because of long wear.")

Permalink

Sahih BukhariHadith 2843

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ کِخْ کِخْ أَمَا تَعْرِفُ أَنَّا لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَةَ قال عکرمة سنه الحسنة بالحبشية قال ابوعبدالله لم تعش امرأة مثل ماعاشت هذه يعني ام خالد

محمد بن بشار غندر شعبہ محمد بن زیاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضر حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صدقہ کے چھوہاروں میں سے ایک چھوہارہ لے کر اپنے منہ میں رکھ لیا تو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کخ کخ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے فارسی زبان میں کخ کخ کے معنی ہیں تھو تھو۔

Narrated Abu Huraira: Al-Hasan bin 'All took a date from the dates of the Sadaqa and put it in his mouth. The Prophet said (to him) in Persian, "Kakh, kakh! (i.e. Don't you know that we do not eat the Sadaqa (i.e. what is given in charity) (charity is the dirt of the people))."

Permalink