Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَکْتُبَ إِلَی الرُّومِ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لَا يَقْرَئُونَ کِتَابًا إِلَّا أَنْ يَکُونَ مَخْتُومًا فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
علی بن جعد، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب روم کے بادشاہ کو خط لکھنا چاہا، تو آپ سے بیان کیا گیا، کہ وہ لوگ بغیر مہر کے خط کو نہیں پڑھتے، لہٰذا آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی گویا میں اب بھی اس کی چمک آپ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں، اس میں آپ نے محمد رسول اللہ ، کندہ کرایا تھا۔
Narrated Anas: When the Prophet intended to write a letter to the ruler of the Byzantines, he was told that those people did not read any letter unless it was stamped with a seal. So, the Prophet got a silver ring-- as if I were just looking at its white glitter on his hand ---- and stamped on it the expression "Muhammad, Apostle of Allah".
Narrated by 'Abdullah bin 'Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِکِتَابِهِ إِلَی کِسْرَی فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَی عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَی کِسْرَی فَلَمَّا قَرَأَهُ کِسْرَی حَرَّقَهُ فَحَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا کُلَّ مُمَزَّقٍ
عبداللہ بن یوسف، لیث، عقیل، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا خط کسری بادشاہ ایران کو بھیجا تو قاصد کو آپ نے حکم دیا تھا، کہ وہ اس خط کو بحرین کے سردار کے حوالے کر دے، پھر بحرین کے سردار نے اس کو کسریٰ تک پہنچایا، جب اس کو کسریٰ نے پڑھا، تو پھاڑ ڈالا، خیال کرتا ہوں کہ سعید بن مسیب کہتے، کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کیلئے بد دعا کی، کہ وہ بالکل پارہ پارہ کردیئے جائیں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Allah's Apostle sent his letter to Khusrau and ordered his messenger to hand it over to the Governor of Bahrain who was to hand it over to Khusrau. So, when Khusrau read the letter he tore it. Said bin Al-Musaiyab said, "The Prophet then invoked Allah to disperse them with full dispersion, (destroy them (i.e. Khusrau and his followers) severely)".