Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَی يَهُودَ فَخَرَجْنَا حَتَّی جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَالَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ يَجِدْ مِنْکُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
عبداللہ بن یوسف لیث سعید مقبری ان کے والد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد ہی میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر تشریف لا کر فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو اور جب ہم لوگ بیت مدارس میں پہنچے تو آپ نے یہودیوں سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تاکہ تم محفوظ ہو جاؤ اور اچھی طرح جان لو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ تم کو اس زمین میں سے نکال کر باہر کردوں سنو! کہ تم میں سے جس کے پاس مال ہو وہ اس کو فروخت کردے ورنہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ زمین صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔
Narrated Abu Huraira: While we were in the Mosque, the Prophet came out and said, "Let us go to the Jews" We went out till we reached Bait-ul-Midras. He said to them, "If you embrace Islam, you will be safe. You should know that the earth belongs to Allah and His Apostle, and I want to expel you from this land. So, if anyone amongst you owns some property, he is permitted to sell it, otherwise you should know that the Earth belongs to Allah and His Apostle."
Narrated by Said bin Jubair
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَکَی حَتَّی بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَی قُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِکَتِفٍ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا مَا لَهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ فَقَالَ ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ قَالَ أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا کُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَالثَّالِثَةُ خَيْرٌ إِمَّا أَنْ سَکَتَ عَنْهَا وَإِمَّا أَنْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا قَالَ سُفْيَانُ هَذَا مِنْ قَوْلِ سُلَيْمَانَ
محمد ابن عیینہ سلیمان الاحول سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جمعرات کا دن! اور آہ جمعرات کا دن! پھر انہوں نے ایسی گریہ وزاری کی کہ جس سے سنگریزے بھیگ گئے تو میں (ابن جبیر) نے پوچھا کہ اے ابوالعباس جمعرات کا دن کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس روز رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض میں شدت ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ شانہ کی کوئی ہڈی لاؤ تو میں تم کو ایک تحریر لکھ دوں تاکہ تم لوگ میرے بعد گمراہ نہ ہو سکو لیکن لوگوں نے اختلاف کیا درآنحالیکہ رسول اللہ کے پاس جھگڑا نہیں کرنا چاہئے تھا پھر ان لوگوں نے کچھ سمجھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کو چھوڑ رہے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا تم مجھے چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ اس کیفیت و حالت سے اچھا ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو پھر آپ نے تین باتوں کے کرنے کا حکم دیا فرمایا کہ تم جزیزہ عرب سے مشرکوں کو نکال باہر کرو اور وفد کو اس طرح انعام دیتے رہنا جس طرح میں انعام و اکرام دیتا ہوں اور تیسیر بات بھلی سی تھی جس کو کہ میں بھول گیا سفیان کا بیان ہے کہ یہ قول سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے؟
Narrated Said bin Jubair: that he heard Ibn 'Abbas saying, "Thursday! And you know not what Thursday is? After that Ibn 'Abbas wept till the stones on the ground were soaked with his tears. On that I asked Ibn 'Abbas, "What is (about) Thursday?" He said, "When the condition (i.e. health) of Allah's Apostle deteriorated, he said, 'Bring me a bone of scapula, so that I may write something for you after which you will never go astray.'The people differed in their opinions although it was improper to differ in front of a prophet, They said, 'What is wrong with him? Do you think he is delirious? Ask him (to understand). The Prophet replied, 'Leave me as I am in a better state than what you are asking me to do.' Then the Prophet ordered them to do three things saying, 'Turn out all the pagans from the Arabian Peninsula, show respect to all foreign delegates by giving them gifts as I used to do.' " The sub-narrator added, "The third order was something beneficial which either Ibn 'Abbas did not mention or he mentioned but I forgot.'