TrueHadith

جو کوئی مقتول کافروں کے سازوسامان میں خمس دے اور جو کوئی کسی کافر کو قتل کر دے تو مقتول کافروں کا سازوسامان اسی کا ہے بغیر اس بات کے کہ وہ خمس نکالے یا امام کا حکم حاصل کرے۔

Sahih BukhariHadith 2908

Narrated by 'Abdur-Rahman bin 'Auf

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَإِذَا أَنَا بِغُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ أَنْ أَکُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قُلْتُ نَعَمْ مَا حَاجَتُکَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّی يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِکَ فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَی أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ قُلْتُ أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُکُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّی قَتَلَاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ أَيُّکُمَا قَتَلَهُ قَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْکُمَا قَالَا لَا فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ کِلَاکُمَا قَتَلَهُ سَلَبُهُ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَکَانَا مُعَاذَ بْنَ عَفْرَائَ وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الجَمُوحِ قَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعَ يُوسُفُ صَالِحًا وَإِبْرَاهِيمَ أَبَاهُ

مسدد یوسف بن ماجشون صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت کرتے ہیں کہ میں عبدالرحمن بن عوف بدر کے دن ایک لائن میں تھا اور میرے دائیں بائیں دو کمسن انصاری لڑکے دکھائی دیئے میرے جی میں اس وقت یہ آیا کہ کاش! میں دو طاقتور آدمیوں کے بیچ میں ہوتا اسی اثناء میں ان دونوں میں سے ایک نے مجھ سے دبا کر پوچھا کہ اے چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں! لیکن اے میرے بھتیجے تمہیں اس کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس کمسن انصاری لڑکے نے کہا مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو پھر میرا جسم اس کے جسم سے الگ نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ ہم دونوں میں سے کسی کی موت ہی جلدی کرے میں یہ سن کر حیرت زدہ رہ گیا پھر اس دوسرے نے بھی مجھے دبا کر پہلے والے کی طرح کہا پھر تھوڑی ہی دیر میں ابوجہل دوڑتا ہوا دکھائی دیا تو میں نے ان لوگوں سے کہا یہی وہ شخص ہے جس کی بابت تم دریافت کر رہے تھے تو وہ دونوں اپنی تلواریں لئے ہوئے اس کی طرف جھپٹے اور اس کو مار مار کے تہ تیغ کردیا پھر ان دونوں نے لوٹ کر ابوجہل کے قتل کی اطلاع رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی تو آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کس نے اس کو مارا ہے؟ تو ان میں سے ہر ایک نے کہا میں نے مارا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے اپنی خون بھری تلواریں صاف کرلی ہیں؟ ان دونوں نے ایک زبان ہو کر کہا جی نہیں تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کی تلواروں کو دیکھ کر فرمایا تم دونوں نے اس کو تہ تیغ کیا ہے لیکن اس کا سازو سامان اور مال و اسباب معاذ بن عمربن جموح کو ملے گا اور وہ دونوں لڑکے حقیقت میں معاذ بن عفر اور معاذ بن جموح نکلے۔

Narrated 'Abdur-Rahman bin 'Auf: While I was standing in the row on the day (of the battle) of Badr, I looked to my right and my left and saw two young Ansari boys, and I wished I had been stronger than they. One of them called my attention saying, "O Uncle! Do you know Abu Jahl?" I said, "Yes, What do you want from him, O my nephew?" He said, "I have been informed that he abuses Allah's Apostle. By Him in Whose Hands my life is, if I should see him, then my body will not leave his body till either of us meet his fate." I was astonished at that talk. Then the other boy called my attention saying the same as the other had said. After a while I saw Abu Jahl walking amongst the people. I said (to the boys), "Look! This is the man you asked me about." So, both of them attacked him with their swords and struck him to death and returned to Allah'S Apostle to inform him of that. Allah's Apostle asked, "Which of you has killed him?" Each of them said, "I Have killed him." Allah's Apostle asked, "Have you cleaned your swords?" They said, "No. " He then looked at their swords and said, "No doubt, you both have killed him and the spoils of the deceased will be given to Muadh bin Amr bin Al-Jamuh." The two boys were Muadh bin 'Afra and Muadh bin Amr bin Al-Jamuh.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2909

Narrated by Abu Qatada

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا کَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِکِينَ عَلَا رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ حَتَّی أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ حَتَّی ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَی حَبْلِ عَاتِقِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَکَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکَ يَا أَبَا قَتَادَةَ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ عَنِّي فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيکَ سَلَبَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَأَعْطَاهُ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ

عبداللہ مالک یحیی ابن افلح ابومحمد ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یوم حنین میں ہم لوگ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرکاب تھے کہ ہمارے اس مقابلہ میں ہم مسلمانوں کو کچھ شکست سی دکھائی دی اور میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے تو میں گھوم کر اس کے پیچھے سے آیا اور اس کے شانہ پر تلوار کا وار کیا تو وہ میرے مقابلہ پر ڈٹ گیا اور خوب گھمسان کی لڑائی ہوئی حتیٰ کہ اس نے مجھے موت کی خوشبو سونگھائی پھر وہ مر گیا تو اس نے میرا پیچھا چھوڑا تو پھر میں نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل کر پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے جواب دیا اللہ کا حکم ہے اس کے بعد وہ سب لوگ لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر فرمایا جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس ثبوت ہو تو اس مقتول کافر کا اس مسلمان مجاہد کو مال واسباب ملے گا تو میں (ابو قتادہ) نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری گواہی کون دے گا اور پھر بیٹھ گیا اس کے بعد دوسری مرتبہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس کسی کافر کو قتل کرنے کا ثبوت ہو تو اس کو اس کا مال واسباب ملے گا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا کون ہے جو میری شہادت دے اور (یہ کہہ کر) میں بیٹھ گیا اس کے بعد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح تیسری مرتبہ پھر فرمایا تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! یہ ابوقتادہ سچے ہیں اور اس مقتول کافر کا سازو سامان میرے پاس ہے اور ان کو مجھ سے رضی کردیجئے تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نہیں اللہ کی قسم! آپ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کے ساتھ جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کرتا ہے یہ نہیں کریں گے کہ اس کا سازو سامان تم کو دے دیں اس پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ سچ کہہ رہے ہیں چنانچہ وہ سازو سامان اس نے مجھ کو دے دیا اور میں نے اس کی زرہ کو بیچ کر بنو سلمہ کا ایک باغ مول لے لیا اور زمانہ اسلام کا یہ سب سے پہلا دور تھا جس میں مجھے یہ مال حاصل ہوا تھا۔

Narrated Abu Qatada: We set out in the company of Allah's Apostle on the day (of the battle) of Hunain. When we faced the enemy, the Muslims retreated and I saw a pagan throwing himself over a Muslim. I turned around and came upon him from behind and hit him on the shoulder with the sword He (i.e. the pagan) came towards me and seized me so violently that I felt as if it were death itself, but death overtook him and he released me. I followed 'Umar bin Al Khattab and asked (him), "What is wrong with the people (fleeing)?" He replied, "This is the Will of Allah," After the people returned, the Prophet sat and said, "Anyone who has killed an enemy and has a proof of that, will posses his spoils." I got up and said, "Who will be a witness for me?" and then sat down. The Prophet again said, "Anyone who has killed an enemy and has proof of that, will possess his spoils." I (again) got up and said, "Who will be a witness for me?" and sat down. Then the Prophet said the same for the third time. I again got up, and Allah's Apostle said, "O Abu Qatada! What is your story?" Then I narrated the whole story to him. A man (got up and) said, "O Allah's Apostle! He is speaking the truth, and the spoils of the killed man are with me. So please compensate him on my behalf." On that Abu Bakr As-Siddiq said, "No, by Allah, he (i.e. Allah's Apostle ) will not agree to give you the spoils gained by one of Allah's Lions who fights on the behalf of Allah and His Apostle." The Prophet said, "Abu Bakr has spoken the truth." So, Allah's Apostle gave the spoils to me. I sold that armor (i.e. the spoils) and with its price I bought a garden at Bani Salima, and this was my first property which I gained after my conversion to Islam.

Permalink