Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَضْحَکُ اللَّهُ إِلَی رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَی الْقَاتِلِ فَيُسْتَشْهَدُ
عبداللہ بن یوسف، مالک ابوالزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اللہ ان دو مردوں کے حال سے تعجب کرتا ہے ایک وہ جو دوسرے کو قتل کرتا ہے پھر وہ دونوں جنت میں جاتے ہیں ایک تو اس وجہ سے کہ خدا کی راہ میں لڑکے مقتول ہوجاتا ہے، پھر اللہ قاتل کو بھی توبہ نصیب کرتا ہے، تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتا ہے۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Allah welcomes two men with a smile; one of whom kills the other and both of them enter Paradise. One fights in Allah's Cause and gets killed. Later on Allah forgives the 'killer who also get martyred (In Allah's Cause)."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحُوهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْهِمْ لِي فَقَالَ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ فَقَالَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّی عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَی عَلَيَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَکْرَمَهُ اللَّهُ عَلَی يَدَيَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَی يَدَيْهِ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَسْهَمَ لَهُ أَمْ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ السَّعِيدِيُّ هُوَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ
حمیدی، سفیان، زہری، عنبسہ بن سعید، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا آپ اس وقت خیبر میں تھے اور مسلمان خیبر فتح کر چکے تھے، میں نے عرض کیا رسول اللہ مال غنیمت میں میرا حصہ بھی لگائیے، سعید بن عاص کے بیٹوں میں سے کسی نے کہا یا رسول اللہ ان کا حصہ نہ لگائے میں نے کہا کہ حضرت یہ ابن قوقل کا قاتل ہے، بحالت کفر اس نے ان کو قتل کیا تھا، آپ اس کی بات نہ مانئے، سعید بن عاص کے بیٹے نے کہا، تعجب ہے ارضان پہاڑی کے گیدڑ تو مجھ پر ایک مرد مسلمان کے قتل کا عیب لگاتا ہے، جسے اللہ نے میرے ہاتھوں بزرگی دی اور مجھے اس کے ہاتھوں ذلیل نہیں کیا، اعرج کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں کہ پھر حضرت نے انکا حصہ لگایا یا نہیں لگایا، سفیان نے کہا، یہ حدیث مجھے سے سعیدی نے بواسطہ اپنے دادا اور حضرت ابوہریرہ کے بیان کی ہے۔ بخاری نے کہا کہ سعیدی کا نام عمر بن یحیی بن سعید بن عمر بن سعید بن عاص ہے۔
Narrated Abu Huraira: I went to Allah's Apostle while he was at Khaibar after it had fallen in the Muslims' hands. I said, "O Allah's Apostle! Give me a share (from the land of Khaibar)." One of the sons of Sa'id bin Al-'As said, "O Allah's Apostle! Do not give him a share." I said, "This is the murderer of Ibn Qauqal." The son of Said bin Al-As said, "Strange! A Wabr (i.e. guinea pig) who has come down to us from the mountain of Qaduim (i.e. grazing place of sheep) blames me for killing a Muslim who was given superiority by Allah because of me, and Allah did not disgrace me at his hands (i.e. was not killed as an infidel)." (The sub-narrator said "I do not know whether the Prophet gave him a share or not.")