TrueHadith

اگر اختیار کی تعین نہ کرے تو کیا بیع جائز ہے ؟

Sahih BukhariHadith 1967

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اخْتَرْ وَرُبَّمَا قَالَ أَوْ يَکُونُ بَيْعَ خِيَارٍ

ابوالنعمان، حماد بن زید، ایوب، نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بائع اور مشتری کو اختیار ہے جب تک دونوں جدا نہ ہو جائیں یا ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ تجھے اختیار ہے اور کبھی یوں فرمایا کہ یا بیع خیار ہو۔

Narrated Ibn 'Umar: Allah's Apostle said, "The seller and the buyer have the option of cancelling or confirming the deal unless they separate, or one of them says to the other, 'Choose (i.e. decide to cancel or confirm the bargain now)." Perhaps he said, 'Or if it is an optional sale.' " Ibn Umar, Shuraih, Ash-Shabi, Tawus, Ata, and Ibn Abu Mulaika agree upon this judgment. ________________________________________

Permalink