TrueHadith

خریدوفروخت ٹھیکہ اور ناپ تول میں ہر شہر کے لوگوں کے عرف ان کے رسم ورواج نیتوں اور مشہور طریقوں پر حکم جاری ہوگا اور شریح نے سوت بیچنے والوں سے کہا کہ تمہاری رسم رواج کے مطابق ہی حکم دیا جائے گا اور عبدالوہاب نے بواسطہ اؤب محمد بیان کیا کہ دس کی چیز کا گیا رہ کے عوض بیچنے میں کوئی حرج نہیں اور خرچ کے عوض نفع لے لے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند سے فرمایا قاعدہ کے مطابق اتنا لے لے جو تجھ کو اور تیرے بچوں کا کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو فقیر ہو تو قاعدہ کے مطابق کھائے اور حسن نے عبداللہ بن مرد اس کا ایک گدھا کرایہ پر لیا تو پوچھا کتنا کرایہ ہوگا کہا دو دانق پھر اس پر سوار ہو گئے پھر دوسری مرتبہ آئے تو کہا گدھا چاہیے گدھا چاہیے اس پر سوار ہو گئے اور کوئی کرایہ طے نہیں کیا اور عبداللہ کو نصف درہم بیج دیا ۔

Sahih BukhariHadith 2058

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ

عبداللہ بن یوسف، مالک، حمید، طویل، انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابوطیبہ نے پچھنے لگائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اپنے عمال کو حکم دیا کہ خراج کم کر دیں

Narrated Anas bin Malik: Abu Taiba cupped Allah's Apostle and so Allah's Apostle ordered that a Sa of dates be paid to him and ordered his masters (for he was a slave) to reduce his tax.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2059

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ هِنْدٌ أُمُّ مُعَاوِيَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ سِرًّا قَالَ خُذِي أَنْتِ وَبَنُوکِ مَا يَکْفِيکِ بِالْمَعْرُوفِ

ابو نعیم، سفیان، ہشام، عروہ، عائشہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ معاویہ کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابوسفیان ایک بخیل آدمی ہے کیا میرے لیے جائز ہے کہ اس کے مال میں سے چپکے سے کچھ لے لوں آپ نے فرمایا تو قاعدہ کے مطابق اتنا لے لے جو تجھ کو اور تیرے بیٹوں کو کافی ہو۔

Narrated 'Aisha: Hind, the mother of Mu'awiya said to Allah's Apostle, "Abu Sufyan (her husband) is a miser. Am I allowed to take from his money secretly?" The Prophet said to her, "You and your sons may take what is sufficient reasonably and fairly." ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 2060

Narrated by Hisham bin 'Urwa from his father

حَدَّثَنا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ فَرْقَدٍ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ وَمَنْ کَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ الَّذِي يُقِيمُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُ فِي مَالِهِ إِنْ کَانَ فَقِيرًا أَکَلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ

اسحاق بن نمیر، ہشام، ح، محمد، عثمان بن فرقد، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی تھیں کہ جو شخص مالدار ہو وہ بچے اور جو شخص فقیر ہو تو وہ دستور کے موافق کھائے اور یہ آیت یتیم کے سر پرست کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگرانی کرتا ہے اور اس کے مال کی دیکھ بھال کرتا ہے اگر فقیر ہو تو دستور کے موافق اس سے کھائے۔

Narrated Hisham bin 'Urwa from his father: who heard Aisha saying, "The Holy Verse; 'Whoever amongst the guardians is rich, he should take no wages (from the property of the orphans) but If he is poor, let him have for himself what is just and reasonable (according to his labors)' (4.6) was revealed concerning the guardian of the orphans who looks after them and manages favorably their financial affairs; If the guardian Is poor, he could have from It what Is just and reasonable, (according to his labors)." ________________________________________

Permalink