TrueHadith

کیا لونڈی کے ساتھ قبل اس کے کہ اس کا استبرا کرے سفر کر سکتا ہے اور حسن بصری نے بوسہ یا مباشرت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اور ابن عمر نے کہا کہ ایسی لانڈی ہبہ کی جائے یا بیچی جائے یا آزاد ہو جس سے صحبت کی جاتی تھی تو وہ ایک حیض تک استبراء کرے اور کنواری عورت استبرا نہ کرے عطاء نے کہا ہے کہ حاملہ لونڈی سے اس کی شرمگاہ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر ۔

Sahih BukhariHadith 2081

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُکِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَکَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّی بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَائِ حَلَّتْ فَبَنَی بِهَا ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذِنْ مَنْ حَوْلَکَ فَکَانَتْ تِلْکَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی صَفِيَّةَ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَائَهُ بِعَبَائَةٍ ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُکْبَتَهُ فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَی رُکْبَتِهِ حَتَّی تَرْکَبَ

عبدالغفار بن داؤد، یعقوب بن عبدالرحمن، عمرو بن ابی عمرو، انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے خیبر کا قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صفیہ بنت حیی بن اخطب کا حسن و جمال بیان کیا گیا اس کا شوہر مارا گیا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے لیے چن لیا اور ان کو لے کر ساتھ خلوت کی پھر ایک چھوٹے دسترخوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ تھا پھر ہم مدینہ کی طرف چلے کہ حضرت صفیہ کو اپنی عبا سے گھیرے ہوئے ہیں پھر اونٹ کے پاس بیٹھتے اپنا گھٹنا رکھتے اور حضرت صفیہ اپنا پاؤں آپ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتیں۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet came to Khaibar and when Allah made him victorious and he conquered the town by breaking the enemy's defense, the beauty of Safiya bint Huyai bin Akhtab was mentioned to him and her husband had been killed while she was a bride. Allah's Apostle selected her for himself and he set out in her company till he reached Sadd-ar-Rawha' where her menses were over and he married her. Then Hais (a kind of meal) was prepared and served on a small leather sheet (used for serving meals). Allah's Apostle then said to me, "Inform those who are around you (about the wedding banquet)." So that was the marriage banquet given by Allah's Apostle for (his marriage with) Safiya. After that we proceeded to Medina and I saw that Allah's Apostle was covering her with a cloak while she was behind him. Then he would sit beside his camel and let Safiya put her feet on his knees to ride (the camel). ________________________________________

Permalink