Narrated by Abdullah bin Abu Mulaika
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَائَ جَائَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا فَذَکَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَيْفَ وَقَدْ قِيلَ وَقَدْ کَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ
محمد بن کثیر، سفیان، عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین، عبداللہ بن ابی ملیکہ، عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ ایک سیاہ عورت آئی اور اس نے دعوی کیا کہ اس نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے، عقبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان کیا تو آپ نے منہ پھیر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا کہ اب تم اس عورت کو کیسے رکھ سکتے ہو جب کہ اسکے بارے میں اس طرح کی بات کہی جاتی ہے، عقبہ کی بیوی ابواہاب تمیمی کی بیٹی تھیں۔
Narrated Abdullah bin Abu Mulaika: y the same woman)?" His wife was the daughter of Abu Ihab-al-Tamimi. ________________________________________
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَی أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ عَامَ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي کَانَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَکَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَی مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّی لَقِيَ اللَّهَ
یحیی بن قزعۃ، مالک، ابن شہاب، عروۃ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے، اس لئے اس پر قبضہ کر لینا، عائشہ کا بیان ہے کہ جس سال مکہ فتح ہوا اس کو سعد بن ابی وقاص نے لیا اور کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے، میرے بھائی نے اس کے متعلق وصیت کی تھی، عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، دونوں اپنا مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے، سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ میرا بھتیجا ہے، میرے بھائی نے اس کے متعلق وصیت کی تھی، عبد بن زمعہ نے عرض کیا یہ میرا بھائی ہے، اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد بن زمعہ! یہ لڑکا تجھ کو ملے گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکا اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لئے پتھر ہے، پھر سودہ بنت زمعہ زوجہ نبی صلی اللہ سے فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کرو، اس لئے کہ اس میں عتبہ کی مشابہت پائی جاتی ہے، اس لڑکے نے حضرت سودہ کو مرتے دم تک نہیں دیکھا۔
Narrated Aisha: Utba bin Abu Waqqas took a firm promise from his brother Sad bin Abu Waqqas to take the son of the slave-girl of Zam'a into his custody as he was his (i.e. 'Utba's) son. In the year of the Conquest (of Mecca) Sad bin Abu Waqqas took him, and said that he was his brother's son, and his brother took a promise from him to that effect. 'Abu bin Zam'a got up and said, "He is my brother and the son of the slave-girl of my father and was born on my father's bed." Then they both went to the Prophet Sad said, "O Allah's Apostle! He is the son of my brother and he has taken a promise from me that I will take him." 'Abu bin Zam'a said, "(He is) my brother and the son of my father's slave-girl and was born on my father's bed." Allah's Apostle said, "The boy is for you. O 'Abu bin Zam'a." Then the Prophet said, "The son is for the bed (i.e the man on whose bed he was born) and stones (disappointment and deprivation) for the one who has done illegal sexual intercourse." The Prophet told his wife Sauda bint Zam'a to screen herself from that boy as he noticed a similarity between the boy and 'Utba. So, the boy did not see her till he died. ________________________________________
Narrated by 'Adi bin Hatim
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَکُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَلَا تَأْکُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُرْسِلُ کَلْبِي وَأُسَمِّي فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَی الصَّيْدِ کَلْبًا آخَرَ لَمْ أُسَمِّ عَلَيْهِ وَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ قَالَ لَا تَأْکُلْ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَی کَلْبِکَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَی الْآخَرِ
ابوالولید، شعبہ، عبداللہ بن ابی السفر، شعبی عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تیر کے ساتھ شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی نوک کی طرف سے لگے تو اس کو کھاؤ اور جب اس کی چوڑائی کی طرف سے اس کو لگے تو نہ کھاؤ، وہ مردار ہے، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور بسم اللہ کہتا ہوں پھر اس کے شکار پر ایک دوسرا کتا پاتا ہوں جس پر میں نے بسم اللہ نہیں کہی اور میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس نے پکڑا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مت کھاؤ! اس لئے کہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی ہے دوسرے پر نہیں کہی۔
Narrated 'Adi bin Hatim: I asked Allah's Apostle about Al Mirad (i.e. a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a piece of iron used for hunting). He replied, "If the game is hit by its sharp edge, eat it, and if it is hit by its broad side, do not eat it, for it has been beaten to death." I asked, "O Allah's Apostle! I release my dog by the name of Allah and find with it at the game, another dog on which I have not mentioned the name of Allah, and I do not know which one of them caught the game." Allah's Apostle said (to him), 'Don't eat it as you have mentioned the name of Allah on your dog and not on the other dog." ________________________________________