Sahih Bukhari — Hadith 6765
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَرِضْتُ فَجَائَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَبُو بَکْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ فَأَتَانِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ وَضُوئَهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي کَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي قَالَ فَمَا أَجَابَنِي بِشَيْئٍ حَتَّی نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ
علی بن عبداللہ ، سفیان، ابن مکندر، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار ہوا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ابوبکر میری عیادت کو تشریف لائے، دونوں پیادہ تھے، جب میرے پاس تشریف لائے تو اس وقت مجھ پر بیہوشی طاری تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، میں ہوش آیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اور اکثر سفیان نے یا رسول کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لفظ بیان فرمائے ہیں) کس طرح اپنے مال میں حکم لگاؤں اور میں اپنے مال میں کس طرح کروں جابر کا بیان ہے، کہ آپ نے کچھ بھی جواب نہ دیا، حتی کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: I fell ill, Allah's Apostle and Abu Bakr came to visit me on foot. The Prophet came to me while I was unconscious. Allah's Apostle performed ablution and poured the Remaining water of his ablution over me whereupon I became conscious and said, 'O Allah's Apostle! How should I spend my wealth? Or how should I deal with my wealth?" But the Prophet did not give me any reply till the Verse of the laws of inheritance was revealed.