Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّيْثُ کَتَبَ إِلَيَّ هِشَامٌ أَنَّهُ سَمِعَهُ وَوَعَاهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْئَ وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّی کَانَ ذَاتَ يَوْمٍ دَعَا وَدَعَا ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا فِيهِ شِفَائِي أَتَانِي رَجُلَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِيمَا ذَا قَالَ فِي مُشُطٍ وَمُشَاقَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَکَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ فَخَرَجَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لِعَائِشَةَ حِينَ رَجَعَ نَخْلُهَا کَأَنَّهُ رُئُوسُ الشَّيَاطِينِ فَقُلْتُ اسْتَخْرَجْتَهُ فَقَالَ لَا أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ وَخَشِيتُ أَنْ يُثِيرَ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ شَرًّا ثُمَّ دُفِنَتْ الْبِئْرُ
ابراہیم بن موسیٰ عیسیٰ ہشام ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا گیا لیث نے کہا کہ مجھے ہشام نے ایک خط لکھا جس میں لکھا تھا کہ میں نے و اپنے والد انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا اور میں نے اسئے خوب یاد رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا گیا جس کا یہ اثر ہوا کہ آپ کو نہ کئے کام کے متعلق یہ خیال ہوتا کہ کرلیا ہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن (اللہ سے اپنی شفا کی) خوب دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ چیز مجھے بتا دی جس سے میری شفا ہو میرے پاس دو آدمی آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی طرف تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے دوسرے نے کہا ان پر جادو ہوا ہے پہلے نے کہا یہ جادو کس نے کیا ہے دوسرے نے جواب دیا لبید بن عاصم نے پہلے نے کہا کہ کس چیز میں دوسرے نے جواب دیا کنگھی اور روئی کے گالے میں اور کھجور کی کلی کے اوپر والے چھلکے میں پہلے نے کہا یہ چیزیں کہاں ہی دوسر نے جواب دیا کہ ذروان کے کنویں میں تو آپ وہاں تشریف لے گئے پھر واپس آئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اس کنویں کے قریب کھجور کے درخت ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے (بھوتوں کے سر) یا شیطان کی کھوپڑیاں میں نے عرض کیا وہ جادو کی ہوئی چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلوالیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن اللہ نے مجھے شفا عطا فرمائی اور یہ اندیشہ ہوا کہ (ان کے نکلوانے سے) لوگوں میں فساد نہ پھیل جائے پھر وہ کنواں بند کردیا گیا۔
Narrated 'Aisha: Magic was worked on the Prophet so that he began to fancy that he was doing a thing which he was not actually doing. One day he invoked (Allah) for a long period and then said, "I feel that Allah has inspired me as how to cure myself. Two persons came to me (in my dream) and sat, one by my head and the other by my feet. One of them asked the other, "What is the ailment of this man?" The other replied, 'He has been bewitched" The first asked, 'Who has bewitched him?' The other replied, 'Lubaid bin Al-A'sam.' The first one asked, 'What material has he used?' The other replied, 'A comb, the hair gathered on it, and the outer skin of the pollen of the male date-palm.' The first asked, 'Where is that?' The other replied, 'It is in the well of Dharwan.' " So, the Prophet went out towards the well and then returned and said to me on his return, "Its date-palms (the date-palms near the well) are like the heads of the devils." I asked, "Did you take out those things with which the magic was worked?" He said, "No, for I have been cured by Allah and I am afraid that this action may spread evil amongst the people." Later on the well was filled up with earth.
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَی قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِکُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ کُلَّ عُقْدَةٍ مَکَانَهَا عَلَيْکَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَکَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ صَلَّی انْحَلَّتْ عُقَدُهُ کُلُّهَا فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ کَسْلَانَ
اسماعیل بن ابی اویس ان کے بھائی سلیمان بن بلال یحیی بن سعید سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کی گدی پر سونے میں شیطان تین گرہیں باندھ دیتا ہے اور ہر گرہ پر پھونک دیتا ہے کہ ابھی بہت رات پڑی ہے ابھی سو جا جب وہ شخص بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر اگر وہ وضو کرے تو دوسری بھی کھل جاتی ہے اور اگر وہ نماز پڑھے تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی صبح فرحت و انبساط اور شگفتہ خاطری سے نمودار ہوتی ہے (اور دن بھر یہی کیفیت رہتی ہے) ورنہ کبیدہ خاطری اور کسل مندی سے دوچار رہتا ہے۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "During your sleep, Satan knots three knots at the back of the head of each of you, and he breathes the following words at each knot, 'The night is, long, so keep on sleeping,' If that person wakes up and celebrates the praises of Allah, then one knot is undone, and when he performs ablution the second knot is undone, and when he prays, all the knots are undone, and he gets up in the morning lively and gay, otherwise he gets up dull and gloomy. "
Narrated by 'Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَهُ حَتَّی أَصْبَحَ قَالَ ذَاکَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ أَوْ قَالَ فِي أُذُنِهِ
عثمان بن ابی شیبہ جریر منصور ابووائل حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے آدمی کا ذکر ہوا جو صبح تک تمام رات سوتا رہا آپ نے فرمایا کہ آدمی کے کانوں میں (یا فرمایا کان میں) شیطان نے پیشاب کردیا ہے۔
Narrated 'Abdullah: It was mentioned before the Prophet that there was a man who slept the night till morning (after sunrise). The Prophet said, "He is a man in whose ears (or ear) Satan had urinated."
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَا إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا أَتَی أَهْلَهُ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَرُزِقَا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ
موسی بن اسماعیل ہمام منصور سالم بن ابوالجعد کریب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دیکھو! جب کوئی تم میں سے اپنی گھر والی کے پاس (جماع کے لئے) جائے اور یہ پڑھ لی اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان (کے اثر) سے بچا اور جو (اولاد) ہمیں عطا فرمائے اسے بھی شیطان سے بچا پھر ان کے جو بچہ پیدا ہوگا تو شیطان اسے ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet said, "If anyone of you, when having sexual relation with his wife, say: 'In the name of Allah. O Allah! Protect us from Satan and prevent Satan from approaching our offspring you are going to give us,' and if he begets a child (as a result of that relation) Satan will not harm it."
Narrated by Ibn Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَغِيبَ وَلَا تَحَيَّنُوا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ أَوْ الشَّيْطَانِ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَ هِشَامٌ
محمد عبدہ ہشام بن عروہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو! جب آفتاب کنارہ طلوع ہو تو نماز ترک کردو یہاں تک کہ وہ پورا طلوع ہوجائے اور جب آفتاب کا کنارہ غروب ہو تو نماز ترک کردو یہاں تک کہ پورا غروب ہوجائے اور تم اپنی نماز آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت نہ پڑھا کرو کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
Narrated Ibn Umar: Allah's Apostle said, "When the (upper) edge of the sun appears (in the morning), don't perform a prayer till the sun appears in full, and when the lower edge of the sun sets, don't perform a prayer till it sets completely. And you should not seek to pray at sunrise or sunset for the sun rises between two sides of the head of the devil (or Satan)."
Narrated by Abu Said Al-Khudri
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِکُمْ شَيْئٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبَی فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبَی فَليُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَکَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَکَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنْ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَی فِرَاشِکَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْکُرْسِيِّ لَنْ يَزَالَ عَلَيْکَ مِنْ اللَّهِ حَافِظٌ وَلَا يَقْرَبُکَ شَيْطَانٌ حَتَّی تُصْبِحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَکَ وَهُوَ کَذُوبٌ ذَاکَ شَيْطَانٌ
ابو معمر عبدالوارث یونس حمید بن ہلال ابوصالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کے سامنے سے نماز پڑھتے میں کوئی گزرے تو وہ اسے روک دے اگر نہ مانے تو پھر روکے اور اگر پھر بھی نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ (گزرنے والا) شیطان ہے اور عثمان بن ہیثم عوف محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت کے لئے مقرر فرمایا ایک آنے والا میرے پاس آیا اور دونوں ہاتھ بھر کے غلہ لینے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلوں گا پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی (اس میں یہ بھی تھا) پھر اس نے کہا جب تم اپنے بستر پر سونے کے لئے جاؤ اور آیۃ الکرسی پڑھ لو تو اللہ تعالیٰ برابر تمہاری حفاظت فرماتا رہے گا اور شیطان صبح تک تمہارے پاس بھی نہ پھٹکے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ ہے تو جھوٹا مگر اس نے یہ بات سچ کہی اور وہ شیطان تھا۔
Narrated Abu Said Al-Khudri: The Prophet said, "If while you are praying, somebody intends to pass in front of you, prevent him; and should he insist, prevent him again; and if he insists again, fight with him (i.e. prevent him violently e.g. pushing him violently), because such a person is (like) a devil." Narrated Muhammad bin Sirin: Abu Huraira said, "Allah's Apostle put me in charge of the Zakat of Ramadan (i.e. Zakat-ul-Fitr). Someone came to me and started scooping some of the foodstuff of (Zakat) with both hands. I caught him and told him that I would take him to Allah's Apostle." Then Abu Huraira told the whole narration and added "He (i.e. the thief) said, 'Whenever you go to your bed, recite the Verse of "Al-Kursi" (2.255) for then a guardian from Allah will be guarding you, and Satan will not approach you till dawn.' " On that the Prophet said, "He told you the truth, though he is a liar, and he (the thief) himself was the Satan."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَکُمْ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ کَذَا مَنْ خَلَقَ کَذَا حَتَّی يَقُولَ مَنْ خَلَقَ رَبَّکَ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ
یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ اور فلاں کو کس نے؟ حتیٰ کہ یہ کہتا ہے کہ (بتاؤ) تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب یہاں تک معاملہ پہنچ جائے تو اللہ سے پناہ مانگنا اور خاموش ہو جانا چاہیے۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Satan comes to one of you and says, 'Who created so-and-so? 'till he says, 'Who has created your Lord?' So, when he inspires such a question, one should seek refuge with Allah and give up such thoughts."
Narrated by Abu Huraira
حدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ مَوْلَی التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ
یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب تیمیین کے آزاد کردہ غلام ابن ابی انس ان کے والد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "When the month of Ramadan comes, the gates of Paradise are opened and the gates of the (Hell) Fire are closed, and the devils are chained."
Narrated by Ubai bin Kab
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مُوسَی قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَائَنَا قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْکُرَهُ وَلَمْ يَجِدْ مُوسَی النَّصَبَ حَتَّی جَاوَزَ الْمَکَانَ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ
حمیدی سفیان عمرو سعید بن جبیر حضرت ابن عباس حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کر فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے فرمایا ہمارا کھانا لاؤ تو خادم نے عرض کیا آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب ہم چٹان کے پاس پہنچے تھے تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے اس کی یاد شیطان ہی نے بھلائی ہے اور حضرت موسیٰ کو اس سفر میں تکان محسوس نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ اللہ کی مقرر کی ہوئی جگہ سے آگے بڑھ گئے۔
Narrated Ubai bin Kab: That he heard Allah's Apostle saying, "(The prophet) Moses said to his attendant, "Bring us our early meal' (18.62). The latter said, 'Did you remember when we betook ourselves to the rock? I indeed forgot the fish and none but Satan made me forget to remember it." (18.63) Moses did not feel tired till he had crossed the place which Allah ordered him to go to."
Narrated by 'Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَی الْمَشْرِقِ فَقَالَ هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
عبداللہ بن مسلمہ مالک عبداللہ بن دینار حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتنہ یہاں ہے فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: I saw Allah's Apostle pointing towards the east saying, "Lo! Afflictions will verily emerge hence; afflictions will verily emerge hence where the (side of the head of) Satan appears."
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَجْنَحَ اللَّيْلُ أَوْ قَالَ جُنْحُ اللَّيْلِ فَکُفُّوا صِبْيَانَکُمْ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنْ الْعِشَائِ فَخَلُّوهُمْ وَأَغْلِقْ بَابَکَ وَاذْکُرْ اسْمَ اللَّهِ وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَکَ وَاذْکُرْ اسْمَ اللَّهِ وَأَوْکِ سِقَائَکَ وَاذْکُرْ اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرْ إِنَائَکَ وَاذْکُرْ اسْمَ اللَّهِ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ شَيْئًا
یحیی بن جعفر محمد بن عبداللہ انصاری ابن جریج عطاء حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب رات کو تاریکی چھانے لگے تو اپنے بچوں کو (گھروں) سے باہر نہ جانے دو کیونکہ اس وقت شیاطین پھیل جاتے ہیں اور جب رات کا کچھ حصہ گزر جائے تو ان کو چھوڑ دو اور اللہ کا نام لے کر اپنا دروازہ بند کرو اور اللہ کا نام لے کر اپنا چراغ گل کرو اور اللہ کا نام لے کر اپنے پانی کا برتن بند کرو اور اللہ کا نام لے کر اپنے برتن ڈھانک دو اور اگر ڈھانکنے کی کوئی چیز نہ ملے تو عرضا کوئی چیز اس پر رکھ دو۔
Narrated Jabir: The Prophet said, "When nightfalls, then keep your children close to you, for the devil spread out then. An hour later you can let them free; and close the gates of your house (at night), and mention Allah's Name thereupon, and cover your utensils, and mention Allah's Name thereupon, (and if you don't have something to cover your utensil) you may put across it something (e.g. a piece of wood etc.)."
Narrated by Safiya bint Huyay
حَدَّثَنِا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَکِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي وَکَانَ مَسْکَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِکُمَا سُوئًا أَوْ قَالَ شَيْئًا
محمود بن غیلان عبدالرزاق معمر زہری علی بن حسین حضرت صفیہ بنت حیی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک دفعہ) حالت اعتکاف میں (مسجد میں) تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے رات کو آئی میں نے آپ سے کچھ گفتگو کی پھر میں واپسی کے لئے کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی میرے ساتھ مجھے پہنچانے کے لئے کھڑے ہوئے اور صفیہ کا قیام اسامہ بن زید کے مکان پر تھا اتنے میں دو انصاری ادھر سے گزرے جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اس حال میں) دیکھا تو تیزی سے چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ذرا ٹھہرو (عورت) صفیہ بنت حیی (میری زوجہ) ہیں (دل میں کچھ اور خیال نہ کرنا) انہوں نے کہا یا رسول اللہ! سبحان اللہ (کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دوسرے قسم کے خیالات کر سکتے ہیں) آپ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے جس میں خون کی طرح دوڑتا ہے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں تمہارے دل میں (میری طرف سے) کوئی برائی (یا بدگمانی) نہ ڈال دے۔
Narrated Safiya bint Huyay: While Allah's Apostle was in Itikaf, I called on him at night and having had a talk with him, I got up to depart. He got up also to accompany me to my dwelling place, which was then in the house of Usama bin Zaid. Two Ansari men passed by, and when they saw the Prophet they hastened away. The Prophet said (to them). "Don't hurry! It is Safiya, the daughter of Huyay (i.e. my wife)." They said, "Glorified be Allah! O Allah's Apostle! (How dare we suspect you?)" He said, "Satan circulates in the human mind as blood circulates in it, and I was afraid that Satan might throw an evil thought (or something) into your hearts."
Narrated by Sulaiman bin Surd
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلَانِ يَسْتَبَّانِ فَأَحَدُهُمَا احْمَرَّ وَجْهُهُ وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا ذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ لَوْ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ ذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ فَقَالُوا لَهُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ فَقَالَ وَهَلْ بِي جُنُونٌ
عبدان ابوحمزہ اعمش عدی بن ثابت حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا اور دو آدمی باہم گالم گلوچ کر رہے تھے ان میں سے ایک کا منہ (مارے غصہ کے) لال ہوگیا اور رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسی بات جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اس بات کو کہدے تو اس کا غصہ جاتا رہے اگر یہ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ کہدے تو اس کا غصہ ختم ہوجائے لوگوں نے اس سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ پڑھ لے تو اس نے جواب دیا کہ مجھے جنون ہوگیا ہے (کہ شیطان سے پناہ مانگوں) ۔
Narrated Sulaiman bin Surd: While I was sitting in the company of the Prophet, two men abused each other and the face of one of them became red with anger, and his jugular veins swelled (i.e. he became furious). On that the Prophet said, "I know a word, the saying of which will cause him to relax, if he does say it. If he says: 'I seek Refuge with Allah from Satan.' then all is anger will go away." Some body said to him, "The Prophet has said, 'Seek refuge with Allah from Satan."' The angry man said, "Am I mad?"
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا أَتَی أَهْلَهُ قَالَ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي فَإِنْ کَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ وَلَمْ يُسَلَّطْ عَلَيْهِ قَالَ وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ
آدم شعبہ منصورسالم بن ابوالجعد کریب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی گھر والی کے پاس (جماع کے لئے) آئے اور یہ دعا پڑھ لے جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي تو ان کے اگر بچہ پیدا ہو تو شیطان نہ اسے ضرر پہنچا سکے گا اور نہ اس پر قابو پا سکے گا اعمش سالم کریب بھی حضرت ابن عباس سے یہی روایت کرتے ہیں۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet said, "If anyone of you, on having sexual relation with his wife, says: 'O Allah! Protect me from Satan, and prevent Satan from approaching the offspring you are going to give me,' and if it happens that the lady conceives a child, Satan will neither harm it nor be given power over it."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّی صَلَاةً فَقَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي فَشَدَّ عَلَيَّ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ فَأَمْکَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذَکَرَالحديث
محمود شبابہ شعبہ محمد بن زیاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آیا اور نماز توڑ ڈالنے کی پوری کوشش کی (مگر) اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا پھر پوری حدیث بیان کی۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet offered a prayer, and (after finishing) he said, "Satan came in front of me trying persistently to divert my attention from the prayer, but Allah gave me the strength to over-power him."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ فَإِذَا قُضِيَ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ أَقْبَلَ حَتَّی يَخْطِرَ بَيْنَ الْإِنْسَانِ وَقَلْبِهِ فَيَقُولُ اذْکُرْ کَذَا وَکَذَا حَتَّی لَا يَدْرِيَ أَثَلَاثًا صَلَّی أَمْ أَرْبَعًا فَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّی أَوْ أَرْبَعًا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ
محمد بن یوسف اوزاعی یحیی بن ابی کثیر ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے جب اذان ختم ہوجائے تو سامنے آجاتا ہے پھر جب اقامت ہوتی تو بھاگتا ہے اور جب پوری ہوجائے تو سامنے آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر اور فلاں کام یاد کر حتیٰ کہ اس شخص کو یہ یاد نہیں رہتا کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو جب کسی کو یاد نہ رہے کہ تین رکعتیں پڑھیں ہیں یا چار تو (فقہ کی تفصیل کے مطابق) سہو کے دو سجدے کرے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "When the call for the prayer is pronounced, Satan takes to his heels, passing wind with noise, When the call for the prayer is finished, he comes back. And when the Iqama is pronounced, he again takes to his heels, and after its completion, he returns again to interfere between the (praying) person and his heart, saying to him. 'Remember this or that thing.' till the person forgets whether he has offered three or four Rakat: so if one forgets whether he has prayed three or four Rak'a-t, he should perform two prostrations of Sahu (i.e. forgetfulness)."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ فِي جَنْبَيْهِ بِإِصْبَعِهِ حِينَ يُولَدُ غَيْرَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعُنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ
ابو الیمان شعیب ابوالزناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی آدم کے پیدا ہوتے وقت شیطان اس کے پہلو میں ٹھوکے مارتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ تو ٹھوکا مارنے گیا تھا (مگر اس کا ہاتھ ان کے جسم تک نہ پہنچ سکا) تو اس نے اوپر کی جھلی ہی میں ٹھوکا مار دیا۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "When any human being is born. Satan touches him at both sides of the body with his two fingers, except Jesus, the son of Mary, whom Satan tried to touch but failed, for he touched the placenta-cover instead."
Narrated by Alqama
حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَدِمْتُ الشَّأْمَ فَقُلْتُ مَنْ هَا هُنَا قَالُوا أَبُو الدَّرْدَائِ قَالَ أَفِيکُمْ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنْ الشَّيْطَانِ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مالک بن اسماعیل اسرائیل مغیرہ ابراہیم علقمہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ملک شام میں گیا تو میں نے لوگوں سے پوچھا یہاں کوئی (صحابی) ہیں؟ انہوں نے کہا ابوالدرداء ہیں اس نے کہا کیا تم میں وہ شخص بھی ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے محفوظ رکھا ہے۔
Narrated Alqama: I went to Sham (and asked. "Who is here?"), The people said, "Abu Ad-Darda." Abu Darda said, "Is the person whom Allah has protected against Satan, (as Allah's Apostle said) amongst you". The sub-narrator, Mughira said that the person who was given Allah's Refuge through the tongue of the Prophet was 'Ammar (bin Yasir).
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ وَقَالَ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي عَمَّارًا قَالَ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ أَخْبَرَهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَلَائِکَةُ تَتَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ الْغَمَامُ بِالْأَمْرِ يَکُونُ فِي الْأَرْضِ فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْکَلِمَةَ فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْکَاهِنِ کَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِائَةَ کَذِبَةٍ
سلیمان بن حرب شعبہ مغیرہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبانی شیطان سے محفوظ رکھا ہے عمار بن یاسر ہیں لیث خالد بن یزید سعید بن ابی ہلال ابوالاسود عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے بادل میں آکر ان کاموں کا تذکرہ کرتے ہیں جو دنیا میں ہوں گے تو شیاطین ان میں سے کوئی ایک آدھ بات سن بھاگتے ہیں اور اسے کاہنوں کے کان میں اس طرح ڈال دیتے ہیں جیسے شیشی میں (پانی وغیرہ) ڈالا جاتا ہے تو وہ کاہن اس میں سو جھوٹ کا اضافہ (کر کے بیان) کرتے ہیں۔
Narrated 'Aisha: The Prophet said, "While the angels talk amidst the clouds about things that are going to happen on earth, the devils hear a word of what they say and pour it in the ears of a soothsayer as one pours something in a bottle, and they add one hundred lies to that (one word)."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّثَاؤُبُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَالَ هَا ضَحِکَ الشَّيْطَانُ
عاصم بن علی ابن ابی وہب سعید مقبری ان کے والد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہے لہذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو حتیٰ الامکان اس کو روکے کیونکہ جب جمائی لیتے وقت کوئی ہا کہتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Yawning is from Satan and if anyone of you yawns, he should check his yawning as much as possible, for if anyone of you (during the act of yawning) should say: 'Ha', Satan will laugh at him."
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا کَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِکُونَ فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاکُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ فَقَالَ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّی قَتَلُوهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَکُمْ قَالَ عُرْوَةُ فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّی لَحِقَ بِاللَّهِ عزوجل
زکریا بن یحیی ابوسامہ ہشام ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ احد کے دن جب کفار بھاگنے لگے تو ابلیس نے چلا کر کہا اے مسلمانو! اپنے پیچھے والوں کو مارو (کہ کافر ہیں حالانکہ پیچھے بھی مسلمان تھے) لہذا آگے والے پیچھے کی طرف لوٹ پڑے اور باہم لڑنے لگے حذیفہ نے اپنے والد یمان کو دیکھا (کہ مسلمان ان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ مسلمان تھے) تو کہنے لگے کہ اے مسلمانو! میرے والد میرے والد (مسلمان ہیں) مگر خدا کی قسم وہ نہ رکے حتیٰ کہ ان کے باپ کو قتل کردیا حذیفہ نے کہا اللہ تمہیں معاف فرمائے عروہ کہتے ہیں کہ حذیفہ کو برابر اس بات کا رنج حتیٰ کہ وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔
Narrated 'Aisha: On the day (of the battle) of Uhud when the pagans were defeated, Satan shouted, "O slaves of Allah! Beware of the forces at your back," and on that the Muslims of the front files fought with the Muslims of the back files (thinking they were pagans). Hudhaifa looked back to see his father "Al-Yaman," (being attacked by the Muslims). He shouted, "O Allah's Slaves! My father! My father!" By Allah, they did not stop till they killed him. Hudhaifa said, "May Allah forgive you." 'Urwa said that Hudhaifa continued to do good (invoking Allah to forgive the killer of his father till he met Allah (i.e. died).
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِکُمْ
حسن بن ربیع ابوالاحوص اشعث ان کے والد مسروق عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دست برد ہے جو شیطان تم میں سے کسی کو نماز میں کرتا ہے۔
Narrated 'Aisha: I asked the Prophet about one's looking here and there during the prayer. He replied, "It is what Satan steals from the prayer of any one of you."
Narrated by Abu Qatada
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو المغیرہ اوزاعی یحیی حضرت عبداللہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (سند اول)
Narrated Abu Qatada: as below i.e. Hadith No. 513)
Narrated by Abu Qatada
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ وَالْحُلُمُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُکُمْ حُلُمًا يَخَافُهُ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ
سلیمان بن عبدالرحمن ابوالولید اوزاعی یحیی بن ابی کثیر عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسو اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا خواب اللہ کی جانب سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے پس جو تم میں سے کوئی ایسا برا خواب دیکھے جو ڈراؤ نا ہو تو وہ اپنی بائیں جانب تھتکارے اور اللہ کے ذریعے اس کے شر سے پناہ مانگے تو وہ خواب اسے کچھ بھی ضرر نہ پہنچائے گا۔ (سند دوم)
Narrated Abu Qatada: The Prophet said, "A good dream is from Allah, and a bad or evil dream is from Satan; so if anyone of you has a bad dream of which he gets afraid, he should spit on his left side and should seek Refuge with Allah from its evil, for then it will not harm him."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ کَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَکُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَکَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنْ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِکَ حَتَّی يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ
عبداللہ بن یوسف مالک ابوبکر کے آزاد کردہ غلام سمی ابوصالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے روزانہ سو مرتبہ یہ دعا پڑھی (ترجمہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریف نہیں اس کی حکومت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا سو نیکیاں اس کے لئے لکھ لی جائیں گی اور اس کی سو برائیاں مٹادی جائیں گی اور وہ اس دن شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا اور کوئی شخص اس سے بہت ثواب کا عمل پیش نہیں کر سکے گا ہاں وہ شخص کر سکے گا جس نے اس دعا کو اس سے زیادہ پڑھا ہو۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "If one says one-hundred times in one day: "None has the right to be worshipped but Allah, the Alone Who has no partners, to Him belongs Dominion and to Him belong all the Praises, and He has power over all things (i.e. Omnipotent)", one will get the reward of manumitting ten slaves, and one-hundred good deeds will be written in his account, and one-hundred bad deeds will be wiped off or erased from his account, and on that day he will be protected from the morning till evening from Satan, and nobody will be superior to him except one who has done more than that which he has done."
Narrated by Sad bin Abi Waqqas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَائٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُکَلِّمْنَهُ وَيَسْتَکْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَکَ اللَّهُ سِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَائِ اللَّاتِي کُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ قَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُنْتَ أَحَقَّ أَنْ يَهَبْنَ ثُمَّ قَالَ أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَکَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِکًا فَجًّا إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّکَ
علی بن عبداللہ یعقوب بن ابراہیم ان کے والد صالح ابن شہاب عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید محمد بن سعد بن ابی وقاص حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر رہی تھیں اور اونچی آوازوں سے خوب زور سے گفتگو کر رہی تھیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ اٹھ کر جلدی سے پردہ میں چلی گئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہنستے ہوئے آنے کی اجازت دی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ خدا کرے آپ ہمیشہ تبسم ریز رہیں (اس وقت باعث تبسم کیا ہے) آپ نے فرمایا مجھے ان عورتوں پر تعجب ہو رہا ہے جو میرے پاس تھیں جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے پردہ میں گھس گئیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بہ نسبت میرے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈرنے کا زیادہ حق تھا پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے) کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ سے نہیں ڈرتیں انہوں نے کہا ہاں! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہ نسبت زیادہ درشت اور سخت ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب تمہیں شیطان کسی راستہ میں چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو تمہارے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ پر ہو لیتا ہے۔
Narrated Sad bin Abi Waqqas: Once Umar asked the leave to see Allah's Apostle in whose company there were some Quraishi women who were talking to him and asking him for more financial support raising their voices. When 'Umar asked permission to enter the women got up (quickly) hurrying to screen themselves. When Allah's Apostle admitted 'Umar, Allah's Apostle was smiling, 'Umar asked, "O Allah's Apostle! May Allah keep you gay always." Allah's Apostle said, "I am astonished at these women who were with me. As soon as they heard your voice, they hastened to screen themselves." 'Umar said, "O Allah's Apostle! You have more right to be feared by them." Then he addressed (those women) saying, "O enemies of your own souls! Do you fear me and not Allah's Apostle ?" They replied. "Yes, for you are a fearful and fierce man as compared with Allah's Apostle." On that Allah's Apostle said (to 'Umar), "By Him in Whose Hands my life is, whenever Satan sees you taking a path, he follows a path other than yours."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أُرَاهُ أَحَدُکُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَی خَيْشُومِهِ
ابراہیم بن حمزہ ابن ابی حازم یزید محمد بن ابراہیم عیسیٰ بن طلحہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی نیند سے بیدار ہو اور وضو کرے تو تین مرتبہ ناک (میں پانی ڈال کر) جھاڑنا چاہئے کیونکہ شیطان رات اس کی ناک کے بانسہ میں گزارتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "If anyone of you rouses from sleep and performs the ablution, he should wash his nose by putting water in it and then blowing it out thrice, because Satan has stayed in the upper part of his nose all the night."