TrueHadith

چھتوں پر اور منبر اور لکڑیوں پر نماز پڑھنے کا بیان، امام بخاری کہتے ہیں کہ حسن (بصری) نے برف پر اور پلوں پر نماز پڑھنے کو جائز سمجھا ہے، اگرچہ پلوں کے نچے یا اس اوپر یا اس کے آگے پیشاب بہہ رہا ہو، جب کہ ان دونوں کے درمیان میں کوئی حائل ہو، ابوہریرہ نے مسجد کی چھت پر امام کے ساتھ شریک ہو کر نماز پڑھی، ابن عمر نے برف پر نماز پڑھی

Sahih BukhariHadith 364

Narrated by Abu Hazim

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ الْمِنْبَرُ فَقَالَ مَا بَقِيَ بِالنَّاسِ أَعْلَمُ مِنِّي هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ عَمِلَهُ فُلَانٌ مَوْلَی فُلَانَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُمِلَ وَوُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ کَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ وَرَکَعَ وَرَکَعَ النَّاسُ خَلْفَهُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَی فَسَجَدَ عَلَی الْأَرْضِ ثُمَّ عَادَ إِلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَی حَتَّی سَجَدَ بِالْأَرْضِ فَهَذَا شَأْنُهُ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ أَعْلَی مِنْ النَّاسِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَکُونَ الْإِمَامُ أَعْلَی مِنْ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ کَانَ يُسْأَلُ عَنْ هَذَا کَثِيرًا فَلَمْ تَسْمَعْهُ مِنْهُ قَالَ لَا

علی بن عبداللہ ، سفیان، ابوحازم روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ منبر (نبوی) کس چیز کا تھا، وہ بولے اس بات کو جاننے والا لوگوں میں مجھ سے زیادہ (اب) کوئی باقی نہیں (رہا ہے) ، وہ مقام (غابہ) کے جھاؤ کا تھا، فلاں عورت کے فلاں غلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بنایا تھا، جب وہ بنا کر رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، پھر آپ نے قرات کی اور رکوع فرمایا، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اس کے بعد پیچھے ہٹے، یہاں تک کہ زمین پر سجدہ کیا، امام بخاری کہتے ہیں علی بن عبداللہ نے کہا کہ امام احمد بن حنبل نے مجھ سے یہ حدیث پوچھی اور کہا کہ میرا مقصود یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے اوپر تھے، تو یہ حدیث اس کی دلیل ہے کہ کچھ مضائقہ نہیں، اگر امام لوگوں سے اوپر ہو، علی بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ (تمہارے استاذ) سفیان بن عیینہ سے تو یہ حدیث پوچھی جاتی تھی، کیا تم نے ان سے نہیں سنا وہ بولے کہ نہیں۔

Narrated Abu Hazim: Sahl bin Sa'd was asked about the (Prophet's) pulpit as to what thing it was made of? Sahl replied: "None remains alive amongst the people, who knows about it better than I. It was made of tamarisk (wood) of the forest. So and so, the slave of so and so prepared it for Allah's Apostle. When it was constructed and place (in the Mosque), Allah's Apostle stood on it facing the Qibla and said 'Allahu Akbar', and the people stood behind him (and led the people in prayer). He recited and bowed and the people bowed behind him. Then he raised his head and stepped back, got down and prostrated on the ground and then he again ascended the pulpit, recited, bowed, raised his head and stepped back, got down and prostrate on the ground. So, this is what I know about the pulpit." Ahmad bin Hanbal said, "As the Prophet was at a higher level than the people, there is no harm according to the above-mentioned Hadith if the Imam is at a higher level than his followers during the prayers."

Permalink

Sahih BukhariHadith 365

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَتْ سَاقُهُ أَوْ کَتِفُهُ وَآلَی مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا فَجَلَسَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَصَلَّی بِهِمْ جَالِسًا وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِنْ صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ

محمد بن عبدالرحیم، یزید بن ہارون، حمید طویل، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ) اپنے گھوڑے سے گر پڑے، تو آپ کی پنڈلی یا آپ کا شانہ چھل گیا، اور (اسی زمانہ میں) آپ نے اپنی بیبیوں سے ایک مہینہ کا ایلاء کرلیا تھا، چنانچہ آپ اپنے ایک بالاخانہ میں بیٹھ گئے، جس کا زینہ کھجوروں کی شاخوں کا تھا، پس آپ کے اصحاب آپ کی عیادت کیلئے آپ کے پاس آئے، آپ نے بیٹھے بیٹھے، انہیں نماز پڑھائی اور وہ کھڑے ہوتے تھے، جب آپ نے سلام پھیرا، تو فرمایا کہ امام اسی لئے بنایا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہذا جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے، تو تم بھی تو رکوع کرو اور جب وہ سجدہ کرے، تو تم بھی سجدہ کرو اور کھڑے ہو کر نماز پڑھے، تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور آپ انتیسویں تاریخ کو اتر آئے، لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ایک مہینہ کا ایلا فرمایا تھا، تو آپ نے فرمایا کہ (یہ) مہینہ انتیس دن کا ہے۔

Narrated Anas bin Malik: Once Allah's Apostle fell off a horse and his leg or shoulder got injured. He swore that he would not go to his wives for one month and he stayed in a Mashruba (attic room) having stairs made of date palm trunks. So his companions came to visit him, and he led them in prayer sitting, whereas his companions were standing. When he finished the prayer, he said, "Imam is meant to be followed, so when he says 'Allahu Akbar,' say 'Allahu Akbar' and when he bows, bow and when he prostrates, prostrate and if he prays standing pray, standing. After the 29th day the Prophet came down (from the attic room) and the people asked him, "O Allah's Apostle! You swore that you will not go to your wives for one month." He said, "The month is 29 days."

Permalink