Narrated by 'Aisha and 'Abdullah bin 'Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَا لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَی وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا کَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ وَهُوَ کَذَلِکَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَی الْيَهُودِ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا
ابوالیمان، شعیب، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (وفات کی) بیماری لاحق ہوئی، تو آپ اپنی چادر بار بار اپنے منہ پر ڈالتے تھے، جب اس سے آپ کو گرمی معلوم ہوتی، تو اس کو اپنے چہرے سے ہٹا دیتے، اسی حالت میں آپ نے فرمایا کہ یہود ونصاری پر خدا کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، آپ ان کے افعال سے ممانعت فرماتے تھے۔
Narrated 'Aisha and 'Abdullah bin 'Abbas: When the last moment of the life of Allah's Apostle came he started putting his 'Khamisa' on his face and when he felt hot and short of breath he took it off his face and said, "May Allah curse the Jews and Christians for they built the places of worship at the graves of their Prophets." The Prophet was warning (Muslims) of what those had done.
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
عبداللہ بن مسلمہ، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں کا ناس کردے کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنالیا۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "May Allah's curse be on the Jews for they built the places of worship at the graves of their Prophets."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ وَمَعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَيْنِ يُضِيئَانِ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا فَلَمَّا افْتَرَقَا صَارَ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاحِدٌ حَتَّی أَتَی أَهْلَهُ
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، ہشام دستوائی، قتادہ، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں دو شخص اندھیری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے نکل کر گئے، ان میں ایک عباد بن بشر تھے اور دوسرا میرے خیال میں اسید بن حضیر تھے ان دونوں کے ہمراہ چراغوں کی طرح (کوئی چیز) تھی، جو ان کے سامنے روشن تھے، پھر جب وہ علیحدہ ہو گئے، تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ہو گیا، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر پہنچ گیا۔
Narrated Anas bin Malik: Two of the companions of the Prophet departed from him on a dark night and were led by two lights like lamps (going in front of them from Allah as a miracle) lighting the way in front of them, and when they parted, each of them was accompanied by one of these lights till he reached their (respective) houses.
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا دَخَلَ الْکَعْبَةَ مَشَی قِبَلَ وَجْهِهِ حِينَ يَدْخُلُ وَجَعَلَ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ فَمَشَی حَتَّی يَکُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ صَلَّی يَتَوَخَّی الْمَکَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِهِ بِلَالٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِيهِ قَالَ وَلَيْسَ عَلَی أَحَدِنَا بَأْسٌ إِنْ صَلَّی فِي أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَائَ
ابراہیم بن منذر، ابوضمرہ، موسیٰ بن عقبہ، نافع روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ (بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جب کعبہ میں جاتے تو داخل ہوتے ہی سیدھے چلے جاتے، جب اندر پہنچ جاتے تو دروازہ کو اپنی پشت کی طرف کر لیتے تو (تھوڑا) اور چلتے، یہاں تک کہ جب ان کے اور اس کے درمیان میں، جو ان کے منہ کے سامنے ہوتی تھی، تین گز کا فاصلہ رہ جاتا تھا، تو نماز پڑھتے، وہ اس مقام (میں نماز پڑھنے) کی کوشش کرتے تھے، جس کی نسبت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں خبر دی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کسی پر کچھ تنگی نہ تھی، کعبہ کی جس کی طرف چاہے نماز پڑھ لے۔
-