Narrated by Al-Sa'ib bin Yazid
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ کُنْتُ قَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا قَالَ مَنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالَا مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ لَوْ کُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُکُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَکُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
علی بن عبداللہ بن جعفر بن نجیح مدینی، یحیی بن سعید قطان، جعید بن عبدالرحمن، یزید بن خصیفہ، سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں مسجد میں کھڑا تھا کہ ایک شخص نے مجھے کنکری ماری، میں نے اس کی طرف دیکھا، تو وہ عمر بن خطاب تھے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ ان دونوں کو میرے پاس لاؤ چنانچہ میں ان دونوں کو ان کے پاس لے گیا۔ عمران سے کہا کہ تم کس (قبیلہ) میں سے ہو یا (یہ کہا کہ) تم کس مقام کے (رہنے والے) ہو؟ انہوں نے کہا کہ (ہم) طائف کے رہنے والوں میں سے ہیں عمرنے کہا کہ اگر تم اس شہر کے رہنے والوں میں ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا تم رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو۔
Narrated Al-Sa'ib bin Yazid: I was standing in the mosque and somebody threw a gravel at me. I looked and found that he was 'Umar bin Al-Khattab. He said to me, "Fetch those two men to me." When I did, he said to them, "Who are you? (Or) where do you come from?" They replied, "We are from Ta'if." 'Umar said, "Were you from this city (Medina) I would have punished you for raising your voices in the mosque of Allah's Apostle
Narrated by 'Kab bin Malik
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّی سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَی کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ يَا کَعْبُ قَالَ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعْ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِکَ قَالَ کَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ فَاقْضِهِ
احمد بن صالح، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عبداللہ بن کعب، حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن ابی حدرد سے اپنے ایک قرض کا، جو ان پر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تقاضا کیا، ( چنانچہ ) باہمی گفتگو میں دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سن لیا، حالانکہ آپ اپنے گھر میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حجرہ کا پردہ کھول دیا، اور کعب بن مالک کو پکارا، کہ اے کعب! انہوں کہا، لبیک یا رسول اللہ! آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنا آدھا قرض معاف کردو، کعب نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے (معاف) کردیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد سے فرمایا کہ اٹھو اور (باقی) قرض ادا کردو۔
Narrated 'Kab bin Malik: During the life-time of Allah's Apostle I asked Ibn Abi Hadrad in the mosque to pay the debts which he owed to me and our voices grew so loud that Allah's Apostle heard them while he was in his house. So he came to us after raising the curtain of his room. The Prophet said, "O Ka'b bin Malik!" I replied, "Labaik, O Allah's Apostle." He gestured with his hand to me to reduce the debt to one half. I said, "O Allah's Apostle has done it." Allah's Apostle said (to Ibn Hadrad), "Get up and pay it."