Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ
محمد بن یوسف، سفیان، موسیٰ بن عقبہ، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم یہ تھی، لا ومقلب القلوب (قسم ہے دلوں کے پھیرنے والے کی) ۔
Narrated Ibn 'Umar: The oath of the Prophet used to be: "No, by Him who turns the hearts."
Narrated by Jabir bin Samura
حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا هَلَکَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَکَ کِسْرَی فَلَا کِسْرَی بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ کُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
موسی ، ابوعوانہ، عبدالمالک، جابر بن سمرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب قیصر ہلاک ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اور جب کسری ہلاک ہوگیا تو فرمایا کہ اس کے بعد کوئی کسری نہ ہوگا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کئے جائیں گے۔
Narrated Jabir bin Samura: The Prophet said, "If Caesar is ruined, there will be no Caesar after him; and if Khosrau is ruined, there will be no Khosrau, after him; and, by Him in Whose Hand my soul is, surely you will spend their treasures in Allah's Cause."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هَلَکَ کِسْرَی فَلَا کِسْرَی بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَکَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ کُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ابوالیمان، شعیب، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب کسری ہلاک ہوگیا تو فرمایا کہ اس کے بعد کوئی کسری نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے کہ ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کئے جائیں گے۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "If Khosrau is ruined, there will be no Khosrau after him; and if Caesar is ruined, there will be no Caesar after him. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, surely you will spend their treasures in Allah's Cause."
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا
محمد، عبدہ، ہشام بن عروہ، عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے محمد کی امت خدا کی قسم اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے۔
Narrated 'Aisha: The Prophet said, "O followers of Muhammad! By Allah, if you knew what I know, you would weep much and laugh little."
Narrated by 'Abdullah bin Hisham
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْکَ مِنْ نَفْسِکَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ فَإِنَّهُ الْآنَ وَاللَّهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآنَ يَا عُمَرُ
یحیی بن سلیمان، ابن وہب، حیوۃ، ابوعقیل، زہرہ بن معبد، اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن الخطاب کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بجز میری جان کے تمام چیزوں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہیں تو آپ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے (تمہارا ایمان کامل نہیں) جب تک کہ میں تمہاری جان سے زیادہ تمہیں محبوب نہ ہوں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اب خدا کی قسم آپ مجھ کو میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما کہ اب اے عمر (تیرا ایمان کامل ہوگیا)
Narrated 'Abdullah bin Hisham: We were with the Prophet and he was holding the hand of 'Umar bin Al-Khattab. 'Umar said to Him, "O Allah's Apostle! You are dearer to me than everything except my own self." The Prophet said, "No, by Him in Whose Hand my soul is, (you will not have complete faith) till I am dearer to you than your own self." Then 'Umar said to him, "However, now, by Allah, you are dearer to me than my own self." The Prophet said, "Now, O 'Umar, (now you are a believer)."
Narrated by Abu Huraira and Zaid bin Khalid
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ تَكَلَّمْ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا قَالَ مَالِكٌ وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأُمِرَ أُنَيْسٌ الْأَسْلَمِيُّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنْ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
اسماعیل، مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے بیان کیا کہ دو آدمی رسول اللہ کی خدمت اقدس میں جھگڑتے ہوئے آئے ان میں ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کردیجئے اور ہمیں اجازت دیجئے کہ میں عرض کروں، آپ نے فرمایا کہ بیان کر اس نے کہا کہ میرا بیٹا اسکے ہاں مزدور تھا مالک نے کہا کہ عسیف سے مراد مزدور ہے میرے بیٹے نے اسکی بیوی سے زنا کیا لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے میں نے سو بکری اور ایک لونڈی فدیہ دے کر اس کو چھڑایا، پھر میں نے اہل علم سے دریافت کیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لئے جلاوطن ہونا پڑے گا سنگسار تو اسکی بیوی کو کیا جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں تمہارا فیصلہ اللہ کے مطابق کروں گا تمہاری بکری اور لونڈی تمہیں واپس کی جاتی ہیں اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کردیا اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ اس دوسرے کی بیوی کے پاس جائے، اگر وہ اعتراف کرے تو اس کو رجم کر دیا جائے اس نے اعتراف کرلیا تو اسکو رجم کر دیا گیا۔
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid: Two men had a dispute in the presence of Allah's Apostle. One of them said, "O Allah's Apostle! Judge between us according to Allah's Laws." The other who was wiser, said, "Yes, O Allah's Apostle! Judge between us according to Allah's Laws and allow me to speak. The Prophet said, "Speak." He said, "My son was a laborer serving this (person) and he committed illegal sexual intercourse with his wife, The people said that my son is to be stoned to death, but I ransomed him with one-hundred sheep and a slave girl. Then I asked the learned people, who informed me that my son should receive one hundred lashes and will be exiled for one year, and stoning will be the lot for the man's wife." Allah's Apostle said, "Indeed, by Him in Whose Hand my soul is, I will judge between you according to Allah's Laws: As for your sheep and slave girl, they are to be returned to you." Then he scourged his son one hundred lashes and exiled him for one year. Then Unais Al-Aslami was ordered to go to the wife of the second man, and if she confessed (the crime), then stone her to death. She did confess, so he stoned her to death.
Narrated by Abu Bakra
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ کَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَغَطَفَانَ وَأَسَدٍ خَابُوا وَخَسِرُوا قَالُوا نَعَمْ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ
عبداللہ بن محمد، وہب، شعبہ، محمد بن ابی یعقوب، عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ بتاؤ اگر اسلم اور غفار اور مزنیہ اور جہینیہ (قبیلوں کے نام ہیں) قبیلہ تمیم اور عامر بن صعصعہ اور غطفان اور اسد سے بہتر ہوں تو وہ لوگ گھاٹے اور نقصان میں ہوں، آپ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضے میں میری جان ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہیں۔
Narrated Abu Bakra: The Prophet said, "Do you think if the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina and Juhaina are better than the tribes of Tamim, 'Amir bin Sa'sa'a, Ghatfan and Asad, they (the second group) are despairing and losing?" They (the Prophet's companions) said, "Yes, (they are)." He said, "By Him in Whose Hand my soul is, they (the first group) are better than them (the second group)."
Narrated by Abu Humaid As-Sa'idi
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا فَجَائَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَکُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ لَهُ أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيکَ وَأُمِّکَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَی لَکَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِکُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَی لَهُ أَمْ لَا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدُکُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَائَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَی عُنُقِهِ إِنْ کَانَ بَعِيرًا جَائَ بِهِ لَهُ رُغَائٌ وَإِنْ کَانَتْ بَقَرَةً جَائَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ وَإِنْ کَانَتْ شَاةً جَائَ بِهَا تَيْعَرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّی إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِکَ مَعِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلُوهُ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عروہ، ابی حمید ساعدی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو عامل بنا کر بھیجا، عامل جب اپنے کام سے فارغ ہوچکا تو آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ، یہ آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ بھیجا گیا ہے، آپ نے فرمایا کہ تم اپنے باپ اور اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے رہے پھر دیکھتے کہ تجھے ہدیہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں، پھر رسول اللہ عشاء کے وقت نماز کے بعد کھڑے ہوئے، تشہد پڑھا اور اللہ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے، پھر فرمایا، امابعد، عامل کا کیا حال ہے کہ ہم اسے عامل بنا کر بھیجتے ہیں وہ ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی تحصیل کا ہے اور یہ ہمیں ہدیہ بھیجا گیا ہے، وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھتا پھر دیکھے کہ اسے ہدیہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں، قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضے میں میری جان ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی کوئی چیز اس میں رکھ لے گا تو قیامت کے دن وہ اس چیز کو اس طرح لے کر آئے گا کہ وہ چیز اس کی گردن پر سوار ہوگی، اگر وہ اونٹ ہے تو وہ بلبلاتا ہوا اور اگر وہ گائے ہے تو وہ بولتی ہوئی اور بکری ہے تو وہ ممیاتی ہوئی آئے گی، میں نے (تم لوگوں) کو پہنچا دیا ہے، ابوحمید کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا یہاں تک کہ ہم لوگوں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، ابوحمید نے کہا کہ میرے ساتھ اس کو زید بن ثابت نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، ان سے پوچھ لو۔
Narrated Abu Humaid As-Sa'idi: Allah's Apostle employed an employee (to collect Zakat). The employee returned after completing his job and said, "O Allah's Apostle! This (amount of Zakat) is for you, and this (other amount) was given to me as a present." The Prophet said to him, "Why didn't you stay at your father's or mother's house and see if you would be given presents or not?" Then Allah's Apostle got up in the evening after the prayer, and having testified that none has the right to be worshipped but Allah and praised and glorified Allah as He deserved, he said, "Now then ! What about an employee whom we employ and then he comes and says, 'This amount (of Zakat) is for you, and this (amount) was given to me as a present'? Why didn't he stay at the house of his father and mother to see if he would be given presents or not? By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, none of you will steal anything of it (i.e. Zakat) but will bring it by carrying it over his neck on the Day of Resurrection. If it has been a camel, he will bring it (over his neck) while it will be grunting, and if it has been a cow, he will bring it (over his neck), while it will be mooing; and if it has been a sheep, he will bring it (over his neck) while it will be bleeding." The Prophet added, "I have preached you (Allah's Message)." Abu Humaid said, "Then Allah's Apostle raised his hands so high that we saw the whiteness of his armpits."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ هُوَ ابْنُ يُوسُفَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا
ابراہیم بن موسی، ہشام بن یوسف، معمر، ہمام، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر وہ تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے۔
Narrated Abu Huraira: Abu-l-Qasim (the Prophet) said, "By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if you know that which I know, you would weep much and laugh little."
Narrated by Abu Dhar
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ يَقُولُ هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ قُلْتُ مَا شَأْنِي أَيُرَی فِيَّ شَيْئٌ مَا شَأْنِي فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْکُتَ وَتَغَشَّانِي مَا شَائَ اللَّهُ فَقُلْتُ مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْأَکْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا
عمر بن حفص، حفص، اعمش، معرور، ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں پہنچا، اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں فرما رہے تھے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں قسم ہے کعبہ کی وہ لوگ گھاٹے میں ہیں، میں نے عرض کیا کہ میری کیا حالت ہے؟ کیا مجھ سے کوئی بات نظر آئی ہے؟ کیا بات ہے؟چنانچہ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور آپ یہ فرماتے جاتے تھے، میں خاموش نہ کرسکا اور جب تک اللہ نے چاہا مجھ پر غم کی کیفیت طاری رہی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ کون لوگ ہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو زیادہ مال والے ہیں مگر وہ جو اس طرح اور اس طرح (خرچ کرتے ہیں)
Narrated Abu Dhar: I reached him (the Prophet ) while in the shade of the Ka'ba; he was saying, "They are the losers, by the Lord of the Ka'ba! They are the losers, by the Lord of the Ka'ba!" I said (to myself ), "What is wrong with me? Is anything improper detected in me? What is wrong with me? Then I sat beside him and he kept on saying his statement. I could not remain quiet, and Allah knows in what sorrowful state I was at that time. So I said, ' Who are they (the losers)? Let My father and mother be sacrificed for you, O Allah's Apostle!" He said, "They are the wealthy people, except the one who does like this and like this and like this (i.e., spends of his wealth in Allah's Cause)."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُلَيْمَانُ لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَی تِسْعِينَ امْرَأَةً کُلُّهُنَّ تَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ قُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ يَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ جَائَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ
ابوالیمان، شعیب، ابوالزناد، عبدالرحمن، اعرج، ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ میں اپنی نوے بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس رات میں جآؤں گا، ان میں سے ہر ایک ایسا بچہ جنے گی جو شہسوار ہوں گے اور اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، ان کے ساتھی نے کہا کہ انشاء اللہ کہیں لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا اور اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت حاملہ ہوئی جس نے ایک ناتمام بچہ جنا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے کہ اگر وہ انشاء اللہ کہتے (توسب کے بچے پیدا ہوتے) اور شہسوار ہو کر اللہ کی راہ میں سب کے سب جہاد کرتے۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "(The Prophet) Solomon once said, 'Tonight I will sleep with ninety women, each of whom will bring forth a (would-be) cavalier who will fight in Allah's Cause." On this, his companion said to him, "Say: Allah willing!" But he did not say Allah willing. Solomon then slept with all the women, but none of them became pregnant but one woman who later delivered a half-man. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if he (Solomon) had said, 'Allah willing' (all his wives would have brought forth boys) and they would have fought in Allah's Cause as cavaliers. "
Narrated by Al-Bara 'bin 'Azib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ وَيَعْجَبُونَ مِنْ حُسْنِهَا وَلِينِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا لَمْ يَقُلْ شُعْبَةُ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ
محمد، ابوالاحوص، ابواسحاق ، براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ بھیجا گیا لوگ اس کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے اور اس کی نرمی اور اس کی خوبصورتی کو تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو، لوگوں نے جواب دیا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ سعد کے رومال جنت میں اس سے بہتر ہوں گے، شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق کے واسطہ سے (جو روایت کی اس میں) والذی نفسی بیدہ (قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضہ میں میری جان ہے) کے لفظ بیان نہیں کئے۔
Narrated Al-Bara 'bin 'Azib: A piece of silken cloth was given to the Prophet as a present and the people handed it over amongst themselves and were astonished at its beauty and softness. Allah's Apostle said, "Are you astonished at it?" They said, "Yes, O Allah's Apostle!" He said, "By Him in Whose Hand my soul is, the handkerchiefs of Sa'd in Paradise are better than it."
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا کَانَ مِمَّا عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ أَخْبَائٍ أَوْ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِکَ أَوْ خِبَائِکَ شَکَّ يَحْيَی ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ أَهْلُ أَخْبَائٍ أَوْ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِکَ أَوْ خِبَائِکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيکٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنْ الَّذِي لَهُ قَالَ لَا إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ
یحیی بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک وقت تھا کہ) کہ روئے زمین پر مجھے سب سے پسند یہ تھا کہ کہ آپ کے خیمے والے (یعنی آپ کے تابع لوگ) ذلیل ہوں لیکن آج مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی بات نہیں کہ کہ آپ کے خیمے کے لوگ غالب رہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اس میں ابھی اور ترقی ہوگی، ہند نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوسفیان ایک بخیل آدمی ہے کیا میرے لئے اس بات میں کوئی حرج نہیں، اگر میں اس کے مال میں سے (اس کی اولاد کو) کھلاؤں، آپ نے فرمایا نہیں بشرطیکہ دستور کے مطابق ہو۔
Narrated 'Aisha: Hind bint 'Utba bin Rabi 'a said, "O Allah 's Apostle! (Before I embraced Islam), there was no family on the surface of the earth, I wish to have degraded more than I did your family. But today there is no family whom I wish to have honored more than I did yours." Allah's Apostle said, "I thought similarly, by Him in Whose Hand Muhammad's soul is!" Hind said, "O Allah's Apostle! (My husband) Abu Sufyan is a miser. Is it sinful of me to feed my children from his property?" The Prophet said, "No, unless you take it for your needs what is just and reasonable."
Narrated by Abdullah bin Masud
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَی قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ يَمَانٍ إِذْ قَالَ لِأَصْحَابِهِ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا بَلَی قَالَ أَفَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا بَلَی قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ
احمد بن عثمان، شریح بن مسلمہ، ابراہیم، ابراہیم کے والد، ابواسحاق ، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یمانی چمڑے کے ایک خیمہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم اس بات پر راضی ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو لوگوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کے نصف ہوں گے۔
Narrated Abdullah bin Masud: While Allah's Apostle was sitting, reclining his back against a Yemenite leather tent he said to his companions, "Will you be pleased to be one-fourth of the people of Paradise?" They said, 'Yes.' He said "Won't you be pleased to be one-third of the people of Paradise" They said, "Yes." He said, "By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, I hope that you will be one-half of the people of Paradise."
Narrated by Abu Sa'id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ وَکَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، عبدالرحمن بن عبداللہ عبدالرحمن، عبداللہ بن عبدالرحمن، ابوسعید سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کو قل ھو اللہ احد پڑھتے ہوئے سنا اور وہ اس کو بار بار پڑہ رھا تھا جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ شخص (اس سورت کی تلاوت) کو کم سجمھ رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ (سورت) تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Narrated Abu Sa'id Al-Khudri: A man heard another man reciting: Surat-ul-Ikhlas (The Unity) 'Say: He is Allah, the One (112) and he was repeating it. The next morning he came to Allah's Apostle and mentioned the whole story to him as if he regarded the recitation of that Sura as insufficient On that, Allah's Apostle said, "By Him in Whose Hand my soul is! That (Sura No. 112) equals one-third of the Qur'an."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتِمُّوا الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَکَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ
اسحاق ، حبان، ہمام، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم رکوع اور سجدے کو پورا کرو قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضے میں میری جان ہے کہ میں تمہیں پیچھے سے دیکھتا ہوں جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔
Narrated Anas bin Malik: I heard the Prophet saying, "Perform the bowing and the prostration properly (with peace of mind), for, by Him in Whose Hand my soul is, I see you from behind my back when you bow and when you prostrate."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا أَوْلَادٌ لَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّکُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ
اسحاق ، وہب بن جریر، شعبہ، ہشام بن زید، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ انصاری کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی جس کے ساتھ اس کی اولاد تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم لوگوں میں مجھ کو سب سے زیادہ محبوب ہو، آپ نے یہ تین بار فرمایا۔
Narrated Anas bin Malik: An Ansari woman came to the Prophet in the company of her children, and the Prophet said to her, "By Him in Whose Hand my soul is, you are the most beloved people to me!" And he repeated the statement thrice.