TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ اے ایمان والو! تم پر قصاص فرض کیا گیا ہے مقتولین کے بارے میں آزاد کے بدلے آزاد عذاب الیم تک عفی کے معنی ہیں ترک یعنی معاف کیا گیا۔

Sahih BukhariHadith 4138

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ کَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَکُنْ فِيهِمْ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَی لِهَذِهِ الْأُمَّةِ کُتِبَ عَلَيْکُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَی بِالْأُنْثَی فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئٌ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَائٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ يَتَّبِعُ بِالْمَعْرُوفِ وَيُؤَدِّي بِإِحْسَانٍ ذَلِکَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَةٌ مِمَّا کُتِبَ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَمَنْ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَتَلَ بَعْدَ قَبُولِ الدِّيَةِ

حمیدی، سفیان، عمرو ، مجاہد، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ بنی اسرئیل میں صرف قصاص کا قانون تھا مگر دیت کا رواج نہیں تھا، امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے دیت کا حکم نازل فرمایا لہذا جو کسی کو قتل کر ڈالے اس پر قصاص واجب ہے جان کے بدلے جان، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت، اور اگر دیت ادا کرنے کا خیال ہو تو مقتول کے وارثوں کو چاہئے کہ باہمی طور پر مقرر کرکے قبول کرلیں اور قاتل کو اچھی طرح دیت ادا کرنا چاہئے کہ یہ دیت کا حکم اللہ تعالیٰ کی ایک مہربانی اور تخفیف ہے اگلے لوگوں پر قصاص کا حکم تھا اور تم کو دیت کی بھی رعایت دی گئی ہے لہذا اس کے بعد بھی اگر کوئی زیادتی کرے گا تو اس کے لئے درد ناک عذاب ہے (یعنی قبول دیت کے بعد قتل) ۔

Narrated Ibn Abbas: The law of Qisas (i.e. equality in punishment) was prescribed for the children of Israel, but the Diya (i.e. blood money was not ordained for them). So Allah said to this Nation (i.e. Muslims): "O you who believe! The law of Al-Qisas (i.e. equality in punishment) is prescribed for you in cases of murder: The free for the free, the slave for the slave, and the female for the female. But if the relatives (or one of them) of the killed (person) forgive their brother (i.e. the killers something of Qisas (i.e. not to kill the killer by accepting blood money in the case of intentional murder)----then the relatives (of the killed person) should demand blood-money in a reasonable manner and the killer must pay with handsome gratitude. This is an allevitation and a Mercy from your Lord, (in comparison to what was prescribed for the nations before you). So after this, whoever transgresses the limits (i.e. to kill the killer after taking the blood-money) shall have a painful torment." (2.178)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4139

Narrated by Anas

حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ

محمد بن عبداللہ انصاری، حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے بشرطیکہ دیت قبول نہ کریں۔

Narrated Anas: The Prophet said, "The prescribed Law of Allah is the equality in punishment (i.e. Al-Qisas)." (In cases of murders, etc.)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4140

Narrated by Anas

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَکْرٍ السَّهْمِيَّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّتَهُ کَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا إِلَيْهَا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَعَرَضُوا الْأَرْشَ فَأَبَوْا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَوْا إِلَّا الْقِصَاصَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُکْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا تُکْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ کِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ

عبداللہ بن منیر، عبداللہ بن بکرسہمی، حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میری پھوپھی ربیع نے ایک عورت کا دانت توڑ دیا جو سامنے کا تھا، ربیع کے رشتہ داروں نے معافی کو کوشش کی مگر عورت کے رشتہ داروں نے معاف نہیں کیا آخر معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور قصاص کیا مطالبہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم جاری کردیا ربیع کے بھائی انس بن نضر نے کہا، یا رسول اللہ! کیا واقعی ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا، میں اس اللہ کی قسم! کھا کر کہتا ہوں کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے ربیع کا دانت نہ توڑا جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے انس! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے اس کے بعد یہ ہوا کہ عورت کے رشتہ دار معاف کرنے پر راضی ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر اللہ کی قسم کھائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔

Narrated Anas: That his aunt, Ar-Rubai' broke an incisor tooth of a girl. My aunt's family requested the girl's relatives for forgiveness but they refused; then they proposed a compensation, but they refused. Then they went to Allah's Apostle and refused everything except Al-Qisas (i.e. equality in punishment). So Allah's Apostle passed the judgment of Al-Qisas (i.e. equality of punishment). Anas bin Al-Nadr said, "O Allah's Apostle! Will the incisor tooth of Ar-Rubai be broken? No, by Him Who sent you with the Truth, her incisor tooth will not be broken." Allah's Apostle said, "O Anas! The prescribed law of Allah is equality in punishment (i.e. Al-Qisas.)" Thereupon those people became satisfied and forgave her. Then Allah's Apostle said, "Among Allah's Worshippers there are some who, if they took Allah's Oath (for something), Allah fulfill their oaths."

Permalink