TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسول! عفو کو اختیار کرو اور اچھی باتوں کا حکم دو اور جاہلوں سے چشم پوشی کرو عرف کے معنی ہیں معروف یعنی اچھا کام ۔

Sahih BukhariHadith 4276

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ فَنَزَلَ عَلَی ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ وَکَانَ مِنْ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ وَکَانَ الْقُرَّائُ أَصْحَابَ مَجَالِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ کُهُولًا کَانُوا أَوْ شُبَّانًا فَقَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ يَا ابْنَ أَخِي هَلْ لَکَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ فَاسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ قَالَ سَأَسْتَأْذِنُ لَکَ عَلَيْهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَأْذَنَ الْحُرُّ لِعُيَيْنَةَ فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ هِيْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ وَلَا تَحْکُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّی هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِهِ فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنْ الْجَاهِلِينَ وَإِنَّ هَذَا مِنْ الْجَاهِلِينَ وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلَاهَا عَلَيْهِ وَکَانَ وَقَّافًا عِنْدَ کِتَابِ اللَّهِ

ابوالیمان، شعیب، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ عیینہ بن حصن بن حذیفہ اپنے بھتیجے حربن قیس کے پاس آئے حربن قیس ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقرب تھے حضرت عمر کی یہ عادت تھی کہ وہ مقرب اسی کو بناتے تھے جو عالم اور قاری ہوتاغرض ایسے لوگ ہی انکی مجلس میں شامل ہوتے تھے بوڑھے جوان کی کوئی پابندی نہ تھی عیینہ بن حصن نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ تمہاری تو حضرت عمر تک رسائی ہے ذرا مجھے بھی ان کے پاس لے چلو حربن قیس نے کہا اچھا میں اجازت طلب کرتا ہوں آخر حر نے عیینہ کیلئے اجازت حاصل کرلی عیینہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ اے خطاب کے بیٹے! نہ تو تم انصاف کرتے ہو اور نہ ہمارے ساتھ کچھ سخاوت سے پیش آتے ہو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر غصہ ہوئے اور قریب تھا کہ اسے ماریں اس وقت حر نے کہا۔ اے امیرالمومنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا ہے کہ (خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ) 7۔ الأعراف : 199) اور بیشک یہ بھی جاہلوں سے ہے حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ جس وقت حر نے یہ آیت تلاوت کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش ہوگئے۔

Narrated Ibn Abbas: 'Uyaina bin Hisn bin Hudhaifa came and stayed with his nephew Al-Hurr bin Qais who was one of those whom 'Umar used to keep near him, as the Qurra' (learned men knowing Qur'an by heart) were the people of 'Umar's meetings and his advisors whether they were old or young. 'Uyaina said to his nephew, "O son of my brother! You have an approach to this chief, so get for me the permission to see him." Al-Hurr said, "I will get the permission for you to see him." So Al-Hurr asked the permission for 'Uyaina and 'Umar admitted him. When 'Uyaina entered upon him, he said, "Beware! O the son of Al-Khattab! By Allah, you neither give us sufficient provision nor judge among us with justice." Thereupon 'Umar became so furious that he intended to harm him, but Al-Hurr said, "O chief of the Believers! Allah said to His Prophet: "Hold to forgiveness; command what is right; and leave (don't punish) the foolish." (7.199) and this (i.e. 'Uyaina) is one of the foolish." By Allah, 'Umar did not overlook that Verse when Al-Hurr recited it before him; he observed (the orders of) Allah's Book strictly.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4277

Narrated by 'Abdullah bin AzZubair

حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ خُذْ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا فِي أَخْلَاقِ النَّاسِ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ أَوْ کَمَا قَالَ

یحیی، وکیع، ہشام، عروہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو (خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ) 7۔ الأعراف : 199) اخلاق انسانی کیلئے نازل فرمایا ہے عبداللہ بن براء کہتے ہیں کہ مجھ سے یہ حدیث ابواسامہ نے روایت کی اور کہا کہ ہشام نے اپنے والد سے اور وہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اور تمام انسانوں کو درستی اخلاق کیلئے عفو کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے یا کچھ اس قسم کی کوئی اور بات فرمائی۔

Narrated 'Abdullah bin AzZubair: (The Verse) "Hold to forgiveness; command what is right..." was revealed by Allah except in connection with the character of the people. 'Abdullah bin Az-Zubair said: Allah ordered His Prophet to forgive the people their misbehavior (towards him).

Permalink