TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب غار میں دو میں سے ایک آپ تھے معنا کے معنی ناصرنا یعنی اللہ ہمارا مدد گار ہے سکینتہ بروزن فیلہ بمعنی سکون و اطمینان۔

Sahih BukhariHadith 4295

Narrated by Abu Bakr

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَرَأَيْتُ آثَارَ الْمُشْرِکِينَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ رَفَعَ قَدَمَهُ رَآنَا قَالَ مَا ظَنُّکَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا

عبداللہ بن محمد، حبان، ہمام، ثابت، انس، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غار میں موجود تھا کہ مشرکوں کے آنے کی آہٹ معلوم ہوئی تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر کسی نے قدم اٹھایا تو ہمیں دیکھ لے گا اس وقت آپ نے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم ان دو آدمیوں کے متعلق کیا خیال کرتے ہو کہ جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔

Narrated Abu Bakr: I was in the company of the Prophet in the cave, and on seeing the traces of the pagans, I said, "O Allah's Apostle If one of them (pagans) should lift up his foot, he will see us." He said, "What do you think of two, the third of whom is Allah?"

Permalink

Sahih BukhariHadith 4296

Narrated by Ibn Abi Mulaika

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ حِينَ وَقَعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ قُلْتُ أَبُوهُ الزُّبَيْرُ وَأُمُّهُ أَسْمَائُ وَخَالَتُهُ عَائِشَةُ وَجَدُّهُ أَبُو بَکْرٍ وَجَدَّتُهُ صَفِيَّةُ فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ إِسْنَادُهُ فَقَالَ حَدَّثَنَا فَشَغَلَهُ إِنْسَانٌ وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ جُرَيْجٍ

عبداللہ بن محمد، ابن عیینہ، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب میرے اور ابن عباس کے درمیان بیعت ابن زیبر پر گفتگو ہوئی اور میں نے بیعت سے انکار کیا تو ابن عباس نے کہا کہ وہ بہت عمدہ آدمی ہیں ان کے والد ابن عوام عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں ان کی ماں حضرت ابوبکر کی صاحبزادی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ہمشیرہ ہیں جو ذات النطاقین ہیں اور ان کی خالہ حضرت عائشہ ہیں اور دادا ابوبکر ہیں اور دادی حضرت صفیہ جو کہ عبدالمطلب کی صاحبزادی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی ہیں۔

Narrated Ibn Abi Mulaika: When there happened the disagreement between Ibn Az-Zubair and Ibn 'Abbas, I said (to the latter), "(Why don't you take the oath of allegiance to him as) his father is Az-Zubair, and his mother is Asma,' and his aunt is 'Aisha, and his maternal grandfather is Abu Bakr, and his grandmother is Safiya?"

Permalink

Sahih BukhariHadith 4297

Narrated by Ibn Abi Mulaika

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ وَکَانَ بَيْنَهُمَا شَيْئٌ فَغَدَوْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَتُحِلَّ حَرَمَ اللَّهِ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ کَتَبَ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَبَنِي أُمَيَّةَ مُحِلِّينَ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُحِلُّهُ أَبَدًا قَالَ قَالَ النَّاسُ بَايِعْ لِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقُلْتُ وَأَيْنَ بِهَذَا الْأَمْرِ عَنْهُ أَمَّا أَبُوهُ فَحَوَارِيُّ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الزُّبَيْرَ وَأَمَّا جَدُّهُ فَصَاحِبُ الْغَارِ يُرِيدُ أَبَا بَکْرٍ وَأُمُّهُ فَذَاتُ النِّطَاقِ يُرِيدُ أَسْمَائَ وَأَمَّا خَالَتُهُ فَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ يُرِيدُ عَائِشَةَ وَأَمَّا عَمَّتُهُ فَزَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ خَدِيجَةَ وَأَمَّا عَمَّةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَدَّتُهُ يُرِيدُ صَفِيَّةَ ثُمَّ عَفِيفٌ فِي الْإِسْلَامِ قَارِئٌ لِلْقُرْآنِ وَاللَّهِ إِنْ وَصَلُونِي وَصَلُونِي مِنْ قَرِيبٍ وَإِنْ رَبُّونِي رَبُّونِي أَکْفَائٌ کِرَامٌ فَآثَرَ التُّوَيْتَاتِ وَالْأُسَامَاتِ وَالْحُمَيْدَاتِ يُرِيدُ أَبْطُنًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ بَنِي تُوَيْتٍ وَبَنِي أُسَامَةَ وَبَنِي أَسَدٍ إِنَّ ابْنَ أَبِي الْعَاصِ بَرَزَ يَمْشِي الْقُدَمِيَّةَ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ وَإِنَّهُ لَوَّی ذَنَبَهُ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ

عبداللہ بن محمد، یحیی بن معین، حجاج، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں خلافت کے متعلق اختلاف ہوا تو میں نے ابن عباس سے ملاقات کی اور کہا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جنگ کرو اور اس طرح اللہ کے حرم کی تو ہیں ہو ابن عباس نے فرمایا خدا کی پناہ! یہ کام تو ابن زبیر اور بنی امیہ ہی کے حصہ میں لکھا گیا ہے میں تو خدا گواہ ہے کہ کبھی یہ کام نہیں کرونگا۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے ابن عباس سے کہا کہ آپ ابن زبیر سے بیعت کر لیجئے تو وہ کہنے لگے کہ اس میں کیا مضائقہ ہے؟ وہ اس قابل ہیں کیونکہ ان کے والد حضور صلی الله علیه وسلم کے معاون تھے اور ان کے نانا حضور کے یار غار تھے اور ان کی ماں کو ذا لنطاقین ہونے کا شرف حاصل ہے اور ان کی خالہ ام المومنین ہیں ان کی پھوپھی حضرت خدیجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ تھیں ان کی دادی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنت عبدالمطلب ہیں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی ہیں پھر وہ خود بھی ہمیشہ پاک دامن رہے ہیں اور قرآن کے قاری ہیں خدا کی قسم!! اگر وہ ہم سے اچھا برتاؤ کریں اور کرنا ہی چاہئے کہ وہ ہمارے نزدیکی رشتہ دار ہیں اور اگر وہ ہم پر حاکم ہوں تو ہمارے برابر ہیں مگر عبداللہ بن زبیر نے بنی اسد، بنی تویت اور بنی اسامہ کو ہم سے زیادہ اپنا مقرب اور نزدیکی بنا لیا ہے اور عبدالملک نے اپنی چال میں غرور پیدا کرلیا ہے مگر ابن زبیر نے یہ کام اچھا نہیں کیا ہے کہ پھر ان ہی لوگوں کو اپنا دوست و مقرب بنا لیا ہے۔

Narrated Ibn Abi Mulaika: There was a disagreement between them (i.e. Ibn 'Abbas and Ibn Az-Zubair) so I went to Ibn 'Abbas in the morning and said (to him), "Do you want to fight against Ibn Zubair and thus make lawful what Allah has made unlawful (i.e. fighting in Meccas?" Ibn 'Abbas said, "Allah forbid! Allah ordained that Ibn Zubair and Bani Umaiya would permit (fighting in Mecca), but by Allah, I will never regard it as permissible." Ibn Abbas added. "The people asked me to take the oath of allegiance to Ibn AzZubair. I said, 'He is really entitled to assume authority for his father, Az-Zubair was the helper of the Prophet, his (maternal) grandfather, Abu Bakr was (the Prophet's) companion in the cave, his mother, Asma' was 'Dhatun-Nitaq', his aunt, 'Aisha was the mother of the Believers, his paternal aunt, Khadija was the wife of the Prophet , and the paternal aunt of the Prophet was his grandmother. He himself is pious and chaste in Islam, well versed in the Knowledge of the Quran. By Allah! (Really, I left my relatives, Bani Umaiya for his sake though) they are my close relatives, and if they should be my rulers, they are equally apt to be so and are descended from a noble family.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4298

Narrated by Ibn Abi Mulaika

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ دَخَلْنَا عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَلَا تَعْجَبُونَ لِابْنِ الزُّبَيْرِ قَامَ فِي أَمْرِهِ هَذَا فَقُلْتُ لَأُحَاسِبَنَّ نَفْسِي لَهُ مَا حَاسَبْتُهَا لِأَبِي بَکْرٍ وَلَا لِعُمَرَ وَلَهُمَا کَانَا أَوْلَی بِکُلِّ خَيْرٍ مِنْهُ وَقُلْتُ ابْنُ عَمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ أَبِي بَکْرٍ وَابْنُ أَخِي خَدِيجَةَ وَابْنُ أُخْتِ عَائِشَةَ فَإِذَا هُوَ يَتَعَلَّی عَنِّي وَلَا يُرِيدُ ذَلِکَ فَقُلْتُ مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعْرِضُ هَذَا مِنْ نَفْسِي فَيَدَعُهُ وَمَا أُرَاهُ يُرِيدُ خَيْرًا وَإِنْ کَانَ لَا بُدَّ لَأَنْ يَرُبَّنِي بَنُو عَمِّي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي غَيْرُهُمْ

محمد بن عبید، میمون، عیسیٰ بن یونس، عمر بن سعید، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو کہنے لگے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلافت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں میں نے دل میں کہا کہ میں غور کروں گا کہ آیا وہ اس کے مستحق ہیں یا نہیں ہاں میں نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے معاملہ میں کبھی کچھ غور نہیں کیا کیونکہ وہ ہر طرح اس کے لائق تھے پھر میں نے دل میں سوچا کہ وہ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے اور زبیر بن عوام کے صاحبزادے ہیں جو کہ عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یار غار کے پوتے ہیں اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی کے صاحبزادے اور حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو مجھ سے افضل خیال کرتے ہیں اور اس بات کی کوشش نہیں کرتے کہ میں ان کا مقرب بن جاؤ میں اپنے دل میں ان سے کبھی نہ کھنجوں گا مگر ابن زبیر میری طرف توجہ نہیں کرتے ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں کچھ بھلائی پاتے ہوں لیکن میں اب اپنے چچا کے بیٹے (یعنی عبدالملک) کی بیت کر لونگا کیونکہ غیر کے حاکم ہونے سے یہ بہتر ہے کہ ہمارے عزیز حاکم ہوں۔

Narrated Ibn Abi Mulaika: We entered upon Ibn 'Abbas and he said "Are you not astonished at Ibn Az-Zubair's assuming the caliphate?" I said (to myself), "I will support him and speak of his good traits as I did not do even for Abu Bakr and 'Umar though they were more entitled to receive al I good than he was." I said "He (i.e Ibn Az-Zubair) is the son of the aunt of the Prophet and the son of AzZubair, and the grandson of Abu Bakr and the son of Khadija's brother, and the son of 'Aisha's sister." Nevertheless, he considers himself to be superior to me and does not want me to be one of his friends. So I said, "I never expected that he would refuse my offer to support him, and I don't think he intends to do me any good, therefore, if my cousins should inevitably be my rulers, it will be better for me to be ruled by them than by some others."

Permalink