Narrated by 'Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ وَسُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ح قَالَ وَحَدَّثَنِي وَاصِلٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَکْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِکَ قَالَ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
مسدد، یحیی ، سفیان، منصور و سلیمان، ابووائل، ابومیسرہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ (دوسری سند) واصل ابی وائل، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے یا کسی اور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو اس کی کسی صفت میں شریک کرنا حالانکہ وہی تمہارا پیدا کرنے والا ہے میں نے کہا پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اولاد کو اس خیال سے مار ڈالنا کہ یہ ہمارے مال میں شریک ہوگی اور ہم اس کو کس طرح کھلائیں گے اور اس کے بعد اپنے دوست یا پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھی (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰ هًا اٰخَرَ ۔ الخ) 25۔ الفرقان : 68)
Narrated 'Abdullah: I or somebody, asked Allah's Apostle "Which is the biggest sin in the Sight of Allah?" He said, "That you set up a rival (in worship) to Allah though He Alone created you." I asked, "What is next?" He said, "Then, that you kill your son, being afraid that he may share your meals with you." I asked, "What is next?" He said, "That you commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor." Then the following Verse was revealed to confirm the statement of Allah's Apostle: "Those who invoke not with Allah, any other god, nor kill life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse." (25.68)
Narrated by Al-Qasim bin Abi Bazza
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ فَقَالَ سَعِيدٌ قَرَأْتُهَا عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ کَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ فَقَالَ هَذِهِ مَکِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَائِ
ابراہیم بن موسی، ہشام بن یوسف، ابن جریج، قاسم بن ابی بزہ، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا جو کوئی کسی مومن کو قصدا مار ڈالے اس کی توبہ قبول ہے؟ پھر میں نے یہ آیت پڑھی (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰ هًا اٰخَرَ آخر تک) 25۔ الفرقان : 68) تو سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے ابن کے سامنے یہی آیت پڑھی تھی جیسے تم نے میرے سامنے پڑھی تو انہوں نے کہا کہ یہ آیت مکی ہے مگر مدنی آیت نے اس کو منسوخ کردیا اور وہ یہ ہے کہ (وَمَنْ قَتَلَه مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا آخر تک۔) 5۔ المائدہ : 95)
Narrated Al-Qasim bin Abi Bazza: That he asked Said bin Jubair, "Is there any repentance of the one who has murdered a believer intentionally?" Then I recited to him:-- "Nor kill such life as Allah has forbidden except for a just cause." Said said, "I recited this very Verse before Ibn 'Abbas as you have recited it before me. Ibn 'Abbas said, 'This Verse was revealed in Mecca and it has been abrogated by a Verse in Surat-An-Nisa which was later revealed in Medina."
Narrated by Said bin Jubair
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْکُوفَةِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ فَرَحَلْتُ فِيهِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَيْئٌ
محمد بن بشار، غندر، شعبہ، مغیرہ بن نعمان، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ اہل کوفہ کا اس بات میں اختلاف ہے کہ مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہیں؟ تو ابن عباس نے کہا کہ قتل مومن کے متعلق یہ آیت (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا الخ) 4۔ النساء : 93) اس سے آخری ہے لہذا یہ ناسخ ہے اور اس کو کسی نے منسوخ نہیں کیا۔
Narrated Said bin Jubair: The people of Kufa differed as regards the killing of a believer so I entered upon Ibn 'Abbas (and asked him) about that. Ibn 'Abbas said, "The Verse (in Surat-An-Nisa', 4:93) was the last thing revealed in this respect and nothing cancelled its validity."