TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ اس عہد کے بدلہ میں جو اللہ سے کیا ہے اور اپنی قسموں کے بدلہ میں رقم حاصل کرتے ہیں انکے لئے کوئی حصہ نہیں یعنی آخرت میں ان کے لئے کوئی بھلائی نہیں الیم کے معنی دکھ دینے والا جیسے مولم یہ فعیل بمعنی مفعل ہے ۔

Sahih BukhariHadith 4185

Narrated by Abu Wail

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِکَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِکَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ مَا يُحَدِّثُکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْنَا کَذَا وَکَذَا قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ کَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيِّنَتُکَ أَوْ يَمِينُهُ فَقُلْتُ إِذًا يَحْلِفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانٌ

حجاج بن منہال، ابوعوانہ، اعمش، ابووائل، حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی مسلمان کا مال مارنے کی غرض سے جھوٹی قسم کھاتا ہے جب قیامت کے دن اللہ سے ملے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غصہ فرمائے گا پھر اللہ تعالیٰ نے یہی مضمون قرآن میں نازل فرمایا کہ ِانَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۔ الخ 3۔ آل عمران : 77) یعنی وہ لوگ اللہ کے عہد کے بدلے اور اپنی قسموں کے بدلے دنیا کا حقیر مال لیتے ہیں۔ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے آخر آیت تک ابووائل کہتے ہیں کہ اشعب بن قیس ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ عبداللہ بن مسعود نے تم سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ ہم نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو کہنے لگے کہ یہ آیت تو میرے حق میں نازل ہوئی تھی کیونکہ میرے چچا زاد بھائی کی زمین میرا کنواں تھا اور میں نے اس پر مال خرچ کیا تھا وہ انکار کرتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گواہ لے کر آؤ ورنہ اس سے قسم لے لو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ تو قسم کھالے گا چنانچہ اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی مسلمان کا مال مارنے کے لئے جھوٹی قسم کھائے اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔

Narrated Abu Wail: 'Abdullah bin Masud said, "Allah's Apostle said, 'Whoever takes an oath when asked to do so, in which he may deprive a Muslim of his property unlawfully, will meet Allah Who will be angry with him.' So Allah revealed in confirmation of this statement:--"Verily! Those who Purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and oaths, they shall have no portion in the Hereafter..." (3.77) Then entered Al-Ash'ath bin Qais and said, "What is Abu 'Abdur-Rahman narrating to you?" We replied, 'So-and-so." Al-Ash'ath said, "This Verse was revealed in my connection. I had a well in the land of my cousin (and he denied my, possessing it). On that the Prophet said to me, 'Either you bring forward a proof or he (i.e. your cousin) takes an oath (to confirm his claim)' I said, 'I am sure he would take a (false) oath, O Allah's Apostle.' He said, 'If somebody takes an oath when asked to do so through which he may deprive a Muslim of his property (unlawfully) and he is a liar in his oath, he will meet Allah Who will be angry with him.' "

Permalink

Sahih BukhariHadith 4186

Narrated by 'Abdullah bin Abu Aufa

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ أَبِي هَاشِمٍ سَمِعَ هُشَيْمًا أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً فِي السُّوقِ فَحَلَفَ فِيهَا لَقَدْ أَعْطَی بِهَا مَا لَمْ يُعْطِهِ لِيُوقِعَ فِيهَا رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ

علی بن ہاشم، ہشیم، عوام بن حوشب، ابراہیم بن عبدالرحمٰن، حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص بازار میں کوئی چیز فروخت کرنے لایا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ لوگ اس کی اتنی قیمت لگا رہے ہیں حالانکہ اس کا یہ کہنا غلط تھا اور کوئی بھی اتنی قیمت جو وہ بتا رہا تھا نہیں لگا رہا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِکَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ آخر آیت تک۔

Narrated 'Abdullah bin Abu Aufa: A man displayed some merchandise in the market and took an oath that he had been offered a certain price for it while in fact he had not, in order to cheat a man from the Muslims. So then was revealed:--"Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths..."(3.77)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4187

Narrated by Ibn Abu Mulaika

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ کَانَتَا تَخْرِزَانِ فِي بَيْتٍ أَوْ فِي الْحُجْرَةِ فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَقَدْ أُنْفِذَ بِإِشْفَی فِي کَفِّهَا فَادَّعَتْ عَلَی الْأُخْرَی فَرُفِعَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لذَهَبَ دِمَائُ قَوْمٍ وَأَمْوَالُهُمْ ذَکِّرُوهَا بِاللَّهِ وَاقْرَئُوا عَلَيْهَا إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ فَذَکَّرُوهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَيْهِ

نصر بن علی بن نصر، عبداللہ بن داؤد، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں ایک مکان میں ساتھ بیٹھ کر موزہ سیا کرتی تھیں ان میں سے ایک باہر آئی اور کہنے لگی کہ میرے ہاتھ میں اس (دوسری) نے موزہ سینے کا سوا چبھو دیا ہے جو ہاتھ میں لگا ہوا تھا آخر یہ معاملہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر لوگوں کو دعویٰ کرنے پر دلا دیا جاتا، تب تو بہت سوں کے مال اور خون تلف اور ضائع ہو جاتے اور دوسری عورت سے فرمایا کہ تم کو قسم کھانا ہوگی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ِانَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۔ الخ 3۔ آل عمران : 77) یعنی جھوٹی قسم کھانے سے ڈرا بھی دیا چنانچہ اس کے بعد وہ عورت ڈر گئی اور اپنے جرم کا اقرار کرلیا حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قسم مدعاعلیہ پر ہے۔

Narrated Ibn Abu Mulaika: Two women were stitching shoes in a house or a room. Then one of them came out with an awl driven into her hand, and she sued the other for it. The case was brought before Ibn 'Abbas, Ibn 'Abbas said, "Allah's Apostle said, 'If people were to be given what they claim (without proving their claim) the life and property of the nation would be lost.' Will you remind her (i.e. the defendant), of Allah and recite before her:--"Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths..."(3.77) So they reminded her and she confessed. Ibn 'Abbas then said, "The Prophet said, 'The oath is to be taken by the defendant (in the absence of any proof against him)."

Permalink