TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ خیرات کرنے والے مومنین کو طعنہ دیتے ہیں یلمزون کے معنی عیب لگاتے ہیں جھدھم اور جھدھم کے معنی ہیں کہ اپنی کوشش اور طاقت کے موافق ۔

Sahih BukhariHadith 4300

Narrated by Abu Musud

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ کُنَّا نَتَحَامَلُ فَجَائَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ وَجَائَ إِنْسَانٌ بِأَکْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِئَائً فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ الْآيَةَ

بشر بن خالد، ابومحمد، محمد بن جعفر، شعبہ، سلیمان، ابووائل، حضرت ابی مسعود سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب خیرات کرنے کا حکم آیا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے ایک دن ابوعقیل آدھا صاع کھجور لے کر آئے اور ایک شخص عبدالرحمن بن عوف بہت زیادہ مال لے کر آئے منافق کہنے لگے اللہ اس حقیر خیرات سے بے پرواہ ہے اور یہ زیادہ مال دکھانے کے لئے لایا گیا ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ منافق خیرات کرنے والوں کو عیب لگاتے ہیں جو کم دیتا ہے اسے حقیر کہتے ہیں اور جو زیادہ دیتا ہے اسے ریاکاری پر محمول کرتے ہیں۔

Narrated Abu Musud: When we were ordered to give alms, we began to work as porters (to earn something we could give in charity). Abu Uqail came with one half of a Sa (special measure for food grains) and another person brought more than he did. So the hypocrites said, "Allah is not in need of the alms of this (i.e. 'Uqail); and this other person did not give alms but for showing off." Then Allah revealed:-- 'Those who criticize such of the Believers who give charity voluntarily and those who could not find to give in charity except what is available to them.' (9.79)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4301

Narrated by Shaqiq

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَکُمْ زَائِدَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ فَيَحْتَالُ أَحَدُنَا حَتَّی يَجِيئَ بِالْمُدِّ وَإِنَّ لِأَحَدِهِمْ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ کَأَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ

اسحاق بن ابراہیم، ابواسامہ، زائدہ، سلیمان، شقیق، حضرت ابن مسعود انصاری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو خیرات کا حکم دیتے تو ہم نہایت کوشش کرکے گہیوں یا کھجور کا ایک مد لا سکتے تھے۔ یعنی بہت تھوڑا خیرات کر سکتے تھے مگر اب ہم ایک لاکھ دینے کی طاقت رکھتے ہیں پھر حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی طرف اشارہ کیا۔

Narrated Shaqiq: Abu Mas'ud Al-Ansari said, "Allah's Apostle, used to order us to give alms. So one of us would exert himself to earn one Mud (special measure of wheat or dates, etc.,) to give in charity; while today one of us may have one hundred thousand." Shaqiq said: As if Abu Masud referred to himself.

Permalink