Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ وَذَلِکَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا ثُمَّ قَرَأَ الْآيَةَ
اسحاق، عبدالرزاق، معمر، ہمام، حضرت ابوہریره سے روایت کرتے ہیں که انهوں نے بیان کیا که آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے ارشاد فرمایا که قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک که سورج مغرب سے نہیں نکلے گا، پھر اس حال کو دیکھ کر سب لوگ ایمان لائیں گے مگر یه وقت ایسا ہوگا، که جو پہلے ایمان نہیں لایا ہے، اس کا ایمان اسے کوئی فائده نہیں پهنچائے گا۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "The hour will not be established till the sun rises from the West; and when it rises (from the West) and the people see it, they all will believe. And that is (the time) when no good will it do to a soul to believe then." Then he recited the whole Verse (6.158)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَائَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ قَالَ جِبْرِيلُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاکَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ
عبدان، عبد اللہ، یونس، (دوسری سند) احمد بن صالح، عنبسۃ، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس تشریف لے گئے آپ کے سامنے دو پیالے پیش کئے گئے ایک میں شراب تھا اور دوسرے میں دودھ تھا آپ نے دونوں کی طرف دیکھا اور پھر دودھ کا پیالہ لے لیا حضرت جبریل نے عرض کیا کہ الحمد للہ کہ خدا نے آپ کو پیدائشی راستہ یعنی اسلام بتایا اگر آپ شراب کے پیالہ کو ہاتھ میں لے لیتے تو آپ کی امت گمراہی میں گرفتار ہوجاتی۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle was presented with two cups one containing wine and the other milk on the night of his night journey at Jerusalem. He looked at it and took the milk. Gabriel said, "Thanks to Allah Who guided you to the Fitra (i.e. Islam); if you had taken the wine, your followers would have gone astray.
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَمَّا کَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَّی اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ زَادَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ لَمَّا کَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ حِينَ أُسْرِيَ بِي إِلَی بَيْتِ الْمَقْدِسِ نَحْوَهُ قَاصِفًا رِيحٌ تَقْصِفُ کُلَّ شَيْئٍ
احمد بن صالح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ آپ کہہ رہے تھے کہ جب کافروں نے معراج کو جھٹلایا تو میں کعبہ میں مقام حجر میں گیا اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا میں اسے دیکھ کر نشانیاں بتانے لگا یعقوب بن ابراہیم نے اس طرح کہا کہ آپ نے فرمایا بیت المقدس میں میرے جانے کو کافروں نے جب جھٹلایا " قاصفا " وہ آندھی جو ہر چیز کو تباہ کردے" ضعف الحیات" کے معنی زندگی کے عذاب " ضعف الممات" معنی موت کا عذات " کرمنا اور اکرمنا " دونوں کے ایک ہی معنی ہیں یعنی ہم نے بزرگی دی " خلافک اور خلفک" دونوں کے ایک ہی معنی ہیں یعنی تیرے پیچھے" ونای" کے معنی دور ہوا " شاکلتہ" کے معنی اپنے طریقے پر " صرفنا " ہم نے واضح کیا " قبیلا " کے معنی مقابلہ یعنی آنکھوں کے سامنے " الانفاق" خرچ کرنا " فتورا " تنگ دل " اذقان" ذقن کی جمع ہے جس کے معنی ہیں تھوڑی یا ٹھڈی " موفورا " بھر پور یہ مجاہد نے بیان کیا ہے " تبیعا " بدلہ لینے والا، مگر حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ مدد گار " خبت" کے معنی ہیں بجھ جائے گی حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ " لاتبذر" کے معنی یہ ہیں کہ برے کاموں میں مت خرچ کرو " ابتغاء " رحمۃ روزی کی تلاش میں " مثبورا " کے معنی لعنت کیا گیا " لا تقف" مت پیچھے لگ تقل مت کہو " فجاسوا " گھس گئے قصد کیا " یزجی الفلک" کشی چلاتا ہے " یخرون للاذقان" کے معنی ہیں منہ کے بل گر پڑتے ہیں اس جگہ منہ سے مراد ٹھوڑیاں ہیں۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: The Prophet said, "When the Quraish disbelieved me (concerning my night journey), I stood up in Al-Hijr (the unroofed portion of the Ka'ba) and Allah displayed Bait-ul-Maqdis before me, and I started to inform them (Quraish) about its signs while looking at it."