Sahih Bukhari — Hadith 4453
Narrated by Yusuf bin Mahak
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَکَ قَالَ کَانَ مَرْوَانُ عَلَی الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْکُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لِکَيْ يُبَايَعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ شَيْئًا فَقَالَ خُذُوهُ فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ هَذَا الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَکُمَا أَتَعِدَانِنِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَائِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِينَا شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عُذْرِي
موسی بن اسماعیل، ابوعوانہ، ابوبشر، یوسف بن ماہک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ مروان حجاز کا حاکم تھا جس کو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقرر کیا تھا اس نے خطبہ پڑھا تو یزید بن معاویہ کا ذکر کرنے لگا تاکہ (معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے بعد اس کی بیعت کی جائے تو عبدالرحمن بن ابی بکر نے اس سے کچھ کہا مروان نے کہا ان کو پکڑ و وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں گھس گئے اور یہ لوگ انہیں نہ پکڑ سکے مروان نے کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت (وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَا اَتَعِدٰنِنِيْ ۔ الخ) 46۔ الأحقاف : 17) نازل فرمائی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پردے کے پیچھے سے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے متعلق کوئی آیت نازل نہیں فرمائی بجز اس کے جو اللہ تعالیٰ نے میری برات میں نازل فرمائی۔ (آیت) ترجمہ پس جب انہوں نے اس کو اپنی وادیوں کے آگے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے یہی بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے یعنی ہوا جس میں درد ناک عذاب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ " عارض" سے مراد بدلی ہے۔
Narrated Yusuf bin Mahak: Marwan had been appointed as the governor of Hijaz by Muawiya. He delivered a sermon and mentioned Yazid bin Muawiya so that the people might take the oath of allegiance to him as the successor of his father (Muawiya). Then 'Abdur Rahman bin Abu Bakr told him something whereupon Marwan ordered that he be arrested. But 'Abdur-Rahman entered 'Aisha's house and they could not arrest him. Marwan said, "It is he ('AbdurRahman) about whom Allah revealed this Verse:-- 'And the one who says to his parents: 'Fie on you! Do you hold out the promise to me..?'" On that, 'Aisha said from behind a screen, "Allah did not reveal anything from the Qur'an about us except what was connected with the declaration of my innocence (of the slander)."