TrueHadith

تفسیر سورت الطلاق اور مجاہد نے کہا کہ وہاں " امر ہا " سے مراد اس کام کا بدلہ ہے۔

Sahih BukhariHadith 4528

Narrated by Salim

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَکَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِکْهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْکَ الْعِدَّةُ کَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

یحیی بن بکیر، لیث، عقیل بن شہاب، سالم، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جب کہ وہ حائضہ تھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر غصہ کا اظہار کیا پھر فرمایا کہ اس کو لوٹا لے پھر اس کو روک رکھے یہاں تک کہ پاک ہوجائے پھر حیض آئے اور پاک ہو لے پھر اگر اس کو طلاق دینے کی خواہش ہو تو اس کو جماع سے قبل پاکی کی حالت میں طلاق دے یہی عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ (آیت) اور حمل والی عورتیں ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن لیں اور جو شخص کہ اللہ سے ڈرا اللہ تعالیٰ اس کے کام کو آسان بنا دیتا ہے "وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ " 65۔ الطلاق : 4) اس کا واحد ذات حمل (حمل والی عورت ہے) ۔

Narrated Salim: That Abdullah bin Umar told him that he had divorced his wife while she was in her menses so 'Umar informed Allah's Apostle of that. Allah's Apostle became very angry at that and said, "(Ibn 'Umar must return her to his house and keep her as his wife till she becomes clean and then menstruates and becomes clean again, whereupon, if he wishes to divorce her, he may do so while she is still clean and before having any sexual relations with her, for that is the legally prescribed period for divorce as Allah has ordered."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4529

Narrated by Abu Salama

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ عِنْدَهُ فَقَالَ أَفْتِنِي فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ بَعْدَ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرُ الْأَجَلَيْنِ قُلْتُ أَنَا وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ غُلَامَهُ کُرَيْبًا إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا فَقَالَتْ قُتِلَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ وَهِيَ حُبْلَی فَوَضَعَتْ بَعْدَ مَوْتِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَخُطِبَتْ فَأَنْکَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ خَطَبَهَا وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ کُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَی وَکَانَ أَصْحَابُهُ يُعَظِّمُونَهُ فَذَکَرُوا لَهُ فَذَکَرَ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ فَحَدَّثْتُ بِحَدِيثِ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ فَضَمَّزَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ قَالَ مُحَمَّدٌ فَفَطِنْتُ لَهُ فَقُلْتُ إِنِّي إِذًا لَجَرِيئٌ إِنْ کَذَبْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْکُوفَةِ فَاسْتَحْيَا وَقَالَ لَکِنْ عَمُّهُ لَمْ يَقُلْ ذَاکَ فَلَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِکَ بْنَ عَامِرٍ فَسَأَلْتُهُ فَذَهَبَ يُحَدِّثُنِي حَدِيثَ سُبَيْعَةَ فَقُلْتُ هَلْ سَمِعْتَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِيهَا شَيْئًا فَقَالَ کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا تَجْعَلُونَ عَلَيْهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَائِ الْقُصْرَی بَعْدَ الطُّولَی وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ

سعد بن حفص، شیبان، یحیی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عباس کے پاس آیا۔ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس نے کہا مجھے اس عورت کے متعلق مسئلہ بتائیے جو اپنے شوہر کے مرنے کے چالیس دن بعد بچہ جنے ابن عباس نے کہا کہ دونوں عدتوں میں سے آخری عدت ہے میں نے کہا کہ حمل والی عورت کی عدت تو وضع حمل ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ تو ابن عباس نے اپنے غلام کریب کو حضرت ام سلمہ کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ کا شوہر قتل کیا گیا اس وقت وہ حاملہ تھیں شوہر کے مرنے کے چالیس دن بعد ان کے بچہ پیدا ہوا۔ پھر ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح کردیا اور نکاح کا پیغام بھیجنے والوں میں ابوالسنابل بھی تھے اور سلیمان بن حرب اور ابوالنعمان نے بواسطہ حماد بن زیدہ، ایوب، محمد بن سیرین کا قول نقل کیا کہ میں اسی مجلس میں تھا جس میں عبدالرحمن بن ابی لیلی تھے ان کے ساتھ ان کی تعظیم کرتے تھے انہوں نے آخر الاجلین (آخر میں نازل ہونے والی عدت) کا ذکر کیا تو میں نے سبیعہ بنت حارث کی حدیث عبداللہ بن عتبہ کے واسطہ سے بیان کی محمد کا بیان ہے کہ مجھے ان کے بعض ساتھیوں نے روکا میں سمجھ گیا کہ میری حدیث کو جھوٹا سمجھتے ہیں میں نے کہا اگر میں نے عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹ بولا تو میں بہت زیادہ دلیر ہوں اور وہ اس وقت کوفہ کے کونہ میں موجود ہیں۔ عبدالرحمن شرما گئے اور کہا کہ مگر ان کے چچا نے یہ بیان نہیں کیا۔چنانچہ میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا میں نے ان سے پوچھا تو وہ مجھ سے سبیعہ کی حدیث بیان کرنے لگے میں نے پوچھا کیا تم نے عبداللہ بن مسعود سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے تو انہوں نے کہا تم ان عورتوں پر کیا کرتے اور رخصت نہیں دیتے حالانکہ کم عدت والی آیت (یعنی وضع حمل) زیادہ عدت والی آیت (یعنی چار ماہ دس دن) کے بعد نازل ہوئی۔

Narrated Abu Salama: A man came to Ibn 'Abbas while Abu Huraira was sitting with him and said, "Give me your verdict regarding a lady who delivered a baby forty days after the death of her husband." Ibn 'Abbas said, "This indicates the end of one of the two prescribed periods." I said "For those who are pregnant, their prescribed period is until they deliver their burdens." Abu Huraira said, I agree with my cousin (Abu Salama)." Then Ibn 'Abbas sent his slave, Kuraib to Um Salama to ask her (regarding this matter). She replied. "The husband of Subai 'a al Aslamiya was killed while she was pregnant, and she delivered a baby forty days after his death. Then her hand was asked in marriage and Allah's Apostle married her (to somebody). Abu As-Sanabil was one of those who asked for her hand in marriage".

Permalink