TrueHadith

تفسیر سورت مدثر ابن عباس نے کہا عسیر بمعنے شدید سخت دشوار اور قسورہ کے معنی ہیں آدمیوں کا شور و غوغا اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس کا معنی شیر ہے اور ہر سخت چیز قسورہ ہے مسنتفرۃ خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے۔

Sahih BukhariHadith 4541

Narrated by Yahya bin Abi Kathir

حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُلْتُ يَقُولُونَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِکَ وَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ فَقَالَ جَابِرٌ لَا أُحَدِّثُکَ إِلَّا مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَائٍ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي هَبَطْتُ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ أَمَامِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ شَيْئًا فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ مَائً بَارِدًا قَالَ فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَائً بَارِدًا قَالَ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ

یحیی ، وکیع، علی ابن مبارک، یحیی بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کی کون سی آیت نازل ہوئی؟ تو انہوں نے کہا (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ) 74۔ المدثر : 1۔2) نازل ہوئی میں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ) سب سے پہلے نازل ہوئی تو ابوسلمہ نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ سے اس کے متعلق پوچھا اور میں نے وہی کہا جو تم نے کہا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا آپ نے فرمایا کہ میں حرا میں گوشہ نشین تھا جب میں نے گوشہ نشینی کی مدت کو پورا کرلیا تو میں وہاں سے اترا تو میں پکارا گیا ایک آواز سنی میں نے اپنی دائیں طرف دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا۔ میں نے اپنے بائیں طرف دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھایا تو ایک چیز دیکھی پھر میں خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو میں نے کہا مجھ کو کمبل اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہاؤ آپ نے بیان کیا کہ لوگوں نے مجھے کمبل اڑھائے اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہایا پھر آیت (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ) 74۔ المدثر : 1۔2) نازل ہوئی (آیت) تم کھڑے ہو اور ڈراؤ۔

Narrated Yahya bin Abi Kathir: I asked Aba Salama bin 'Abdur-Rahman about the first Sura revealed of the Qur'an. He replied "O you, wrapped-up (i.e. Al Muddaththir)." I said, "They say it was, 'Read, in the Name of your Lord Who created,' (i.e. Surat Al-'Alaq (the Clot)." On that, Abu Salama said, "I asked Jabir bin 'Abdullah about that, saying the same as you have said, whereupon he said, 'I will not tell you except what Allah's Apostle had told us. Allah's Apostle said, "I was in seclusion in the cave of Hiram', and after I completed the limited period of my seclusion. I came down (from the cave) and heard a voice calling me. I looked to my right, but saw nothing. Then I looked up and saw something. So I went to Khadija (the Prophet's wife) and told her to wrap me up and pour cold water on me. So they wrapped me up and poured cold water on me." Then, 'O you, (Muhammad) wrapped up! Arise and warn,' (Surat Al Muddaththir) was revealed." (74.1)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4542

Narrated by Jabir bin 'Abdullah

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ قَالَا حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَائٍ مِثْلَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی اور ایک اور شخص حرب بن شداد، یحیی بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں حراء میں گوشہ نشین تھا اور عثمان بن عمر کی حدیث کے مثل جو علی بن مبارک سے مروی ہے روایت کی ہے۔ (آیت) (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ) 74۔ المدثر : 1۔2) (اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے) ۔

Narrated Jabir bin 'Abdullah: The Prophet said, "I was in a seclusion in the cave of Hira........."(similar to the narration related by 'Ali bin Al-Mubarak, 444 above).

Permalink

Sahih BukhariHadith 4543

Narrated by Yahya

حَدَّثَنَي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أُنْبِئْتُ أَنَّهُ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أُنْبِئْتُ أَنَّهُ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ فَقَالَ لَا أُخْبِرُکَ إِلَّا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاوَرْتُ فِي حِرَائٍ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي هَبَطْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَی کُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ مَائً بَارِدًا وَأُنْزِلَ عَلَيَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ

اسحاق بن منصور، عبدالصمد، حرب، یحیی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ کون سی آیت قرآن کی سب سے پہلے نازل ہوئی؟ تو انہوں نے کہا (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ) 74۔ المدثر : 1۔2) میں نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ (اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ) 96۔ العلق : 1) سب سے پہلے نازل ہوئی تو ابوسلمہ نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے پوچھا کہ قرآن کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی؟ تو انہوں نے کہا (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ) 74۔ المدثر : 1۔2) میں نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے (اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ) 96۔ العلق : 1) ہے انہوں نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے آپ نے فرمایا کہ میں حرا میں گوشہ نشین تھا جب میں گوشہ نشینی ختم کر چکا تو وہاں سے اترا جب میں وادی کے نیچے پہنچا تو ایک آواز آئی میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا تو وہ فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان عرش پر بیٹھا ہوا نظر آیا میں خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کمبل اڑھا دو اور مجھ پر پانی بہاؤ اور مجھ پر یہ آیت (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ) 74۔ المدثر : 1۔2) ۔ (آیت) اور اپنے کپڑے پاک رکھ۔

Narrated Yahya: I asked Aba Salama, "Which Sura of the Qur'an was revealed first?" He replied, "O you, wrapped-up' (Al-Muddaththir)." I said, "I have been informed that it was, 'Read, in the Name of your Lord who created........ (i.e. Surat Al-Alaq).

Permalink

Sahih BukhariHadith 4544

Narrated by Jabir bin 'Abdullah

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِي جَائَنِي بِحِرَائٍ جَالِسٌ عَلَی کُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَجَئِثْتُ مِنْهُ رُعْبًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَدَثَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ إِلَی وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الْأَوْثَانُ

یحیی بن بکیر، لیث، عقیل ابن شہاب، دوسری سند عبداللہ بن محمد، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپ وحی کے رکنے کا حال بیان فرما رہے تھے آپ نے فرمایا کہ اس دوران کہ میں چل رہا تھا میں نے آسمان سے ایک آواز سنی سر اٹھایا تو وہ فرشتہ نظر آیا جو میرے پاس حرا میں آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا مجھ پر اس سے خوف طاری ہوگیا۔ میں لوٹ کر واپس آیا تو میں نے کہا کہ مجھ کو کمبل اڑھا دو مجھ کو کمبل اڑھا دو لوگوں نے مجھے کمبل اڑھایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ) 74۔ المدثر : 1۔2) تک نازل فرمائی یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اور رجز سے مراد بت ہے اور آیت وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ میں بعض کے نزدیک رجز اور رجس کے معنی عذاب کے ہیں۔

Narrated Jabir bin 'Abdullah: I heard the Prophet describing the period of pause of the Divine Inspiration. He said in his talk, "While I was walking, I heard voices from the sky. I looked up, and behold ! I saw the same Angel who came to me in the cave of Hira' sitting on a chair between the sky and the earth. I was too much afraid of him (so I returned to my house) and said, 'Fold me up in garments!' They wrapped me up. Then Allah revealed: 'O you wrapped...and desert the idols before the prayer became compulsory.' Rujz means idols.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4545

Narrated by Jabir bin 'Abdullah

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَائِ فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِي جَائَنِي بِحِرَائٍ قَاعِدٌ عَلَی کُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَجَئِثْتُ مِنْهُ حَتَّی هَوَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ إِلَی قَوْلِهِ فَاهْجُرْ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَالرِّجْزَ الْأَوْثَانَ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ

عبداللہ بن یوسف، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابوسلمہ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے رک جانے کے متعلق بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک بار چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی میں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو فرشتے کو دیکھا جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا مجھ پر اس کی وجہ سے رعب طاری ہوگیا یہاں تک کہ میں زمین پر گر پڑا میں اپنی بیوی (حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کمبل اڑھاؤ مجھے کمبل اڑھاؤ چنانچہ ان لوگوں نے مجھے کمبل اڑھا دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ) تک نازل فرمائی ابوسلمہ نے کہا کہ رجز سے مراد بت ہیں پھر وحی کی آمد کا سلسلہ گرم ہوگیا اور مسلسل وحی آنے لگی۔

Narrated Jabir bin 'Abdullah: That he heard Allah's Apostle describing the period of pause of the Divine Inspiration, and in his description he said, "While I was walking I heard a voice from the sky. I looked up towards the sky, and behold! I saw the same Angel who came to me in the Cave of Hira', sitting on a chair between the sky and the earth. I was so terrified by him that I fell down on the ground. Then I went to my wife and said, 'Wrap me in garments! Wrap me in garments!' They wrapped me, and then Allah revealed: "O you, (Muhammad) wrapped-up! Arise and warn...and desert the idols." (74.1-5) Abu Salama said....Rujz means idols." After that, the Divine Inspiration started coming more frequently and regularly.

Permalink