TrueHadith

تفسیر سورت زمر اور مجاہد نے کہا (افمن یتقی بوجہہ) کے معنی ہیں وہ جو اپنے چہرے کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح کیا وہ شخص جو آگ میں ڈال دیا جائے گا بہتر ہے یا وہ جو امن و سلامتی کے ساتھ آئیگا "ذی عوج" بمعنی لبس (متشبہ گڑبڑ) " ورجلا سلما لرجل" اس میں ان کے معبودان باطل اور معبود برحق کی مثال ہے یخوفونک بالذین من دونہ میں الذین من دونہ سے مراد بت ہیں خولنا ہم نے دیا والذی جاء بالصدق سے مراد قرآن اور صدق سے مراد مومن ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور کہے گا کہ یہ وہ چیز ہے جو تو نے ہمیں دی اور ہم نے اس کے مطابق عمل کیا جو اس میں ہے متشاکسون شکس سخت کو جو انصاف پر رضا مندا نہ ہو رجلا سلما اور سالما سے مراد صالح ہے اشمازت نفرت کرنے لگے بماز تھم فوز سے مشتق ہے حافین چاروں طرف حلقہ باندھ کر گھوم رہے ہیں بحافیہ بجوانبہ (اس کے چاروں طرف) متشابھا اشتباہ سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تصدیق میں بعض کے مشابہ ہے (آیت) اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

Sahih BukhariHadith 4436

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ يَعْلَی إِنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْکِ کَانُوا قَدْ قَتَلُوا وَأَکْثَرُوا وَزَنَوْا وَأَکْثَرُوا فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا کَفَّارَةً فَنَزَلَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَنَزَلَتْ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ

ابراہیم بن موسی، ہشام بن یوسف، ابن جریج، یعلی، سعید بن جبیر، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے بہت زیادہ قتل اور بہت کثرت سے زنا کیا تھا تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اور جس کی طرف بلاتے ہیں بہت اچھا ہے اگر آپ بتلا دیں کہ جو کچھ ہم نے کیا ہے وہ معاف ہوجائے گا تو اس پر یہ آیت اتری اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ ہی کسی جان کو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ ہی زنا کرتے ہیں اور یہ آیت اتری کہ آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو اور ان لوگوں نے اللہ کی قدرت کا پورے طور پر اندازہ نہ کیا۔

Narrated Ibn Abbas: Some pagans who committed murders in great number and committed illegal sexual intercourse excessively, came to Muhammad and said, "O Muhammad! Whatever you say and invite people to, is good: but we wish if you could inform us whether we can make an expiration for our (past evil) deeds." So the Divine Verses came: 'Those who invoke not with Allah any other god, not kill such life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse.' (25.68) And there was also revealed:-- 'Say: O My slaves who have transgressed against their souls! Despair not of the Mercy of Allah.' (39.53)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4437

Narrated by 'Abdullah

حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ حَبْرٌ مِنْ الْأَحْبَارِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّا نَجِدُ أَنَّ اللَّهَ يَجْعَلُ السَّمَوَاتِ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْمَائَ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ عَلَی إِصْبَعٍ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ

آدم، شیبان، منصور، ابراہیم، عبیدہ، عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ تورات کے عالموں میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور امٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اٹھائے گا پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے دانت ظاہر ہو گئے گویا اس یہودی عالم کی بات کی تصدیق کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی کہ اور ان لوگوں نے اللہ کی قدرت کا پورے طور پر اندازہ نہ کیا اور زمین ساری قیامت کے دن اس کی ایک مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں تہ کیا ہوا ہوگا اللہ تعالیٰ پاک و برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔

Narrated 'Abdullah: A (Jewish) Rabbi came to Allah's Apostle and he said, "O Muhammad! We learn that Allah will put all the heavens on one finger, and the earths on one finger, and the trees on one finger, and the water and the dust on one finger, and all the other created beings on one finger. Then He will say, 'I am the King.' Thereupon the Prophet smiled so that his pre-molar teeth became visible, and that was the confirmation of the Rabbi. Then Allah's Apostle recited: 'No just estimate have they made of Allah such as due to Him.' (39.67)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4438

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَيْنَ مُلُوکُ الْأَرْضِ

سعید بن عفیر، لیث، عبدالرحمن بن خالد بن مسافر، ابن شہاب، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ (آیت) اور صور میں پھونکا جائے گا تو بیہوش ہو جائیں گے وہ لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر وہ جسے اللہ تعالیٰ چاہے پھر اس میں دوسری بار پھونکا جائے گا تو اس وقت کھڑے دیکھتے ہوں گے۔

Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, "Allah will hold the whole earth, and roll all the heavens up in His Right Hand, and then He will say, 'I am the King; where are the kings of the earth?"'

Permalink

Sahih BukhariHadith 4439

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ بَعْدَ النَّفْخَةِ الْآخِرَةِ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَی مُتَعَلِّقٌ بِالْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَکَذَلِکَ کَانَ أَمْ بَعْدَ النَّفْخَةِ

حسن، اسماعیل بن خلیل، عبدالرحیم، زکریا بن ابی زائدہ، عامر، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ دوسری بار صور پھونکے جانے کے بعد سب سے پہلے سر اٹھانے والوں میں سے میں ہوں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ اس وقت عرش سے لگے کھڑے ہوں گے میں نہیں جانتا کہ وہ پہلے ہی سے اس طرح ہوں گے یا صور پھونکے جانے کے بعد (ہوش میں آ گئے ہوں گے) ۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "I will be the first to raise my head after the second blowing of the trumpet and will see Moses hanging the Throne, and I will not know whether he had been in that state all the time or after the blowing of the trumpet."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4440

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَبَيْتُ قَالَ أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ أَبَيْتُ وَيَبْلَی کُلُّ شَيْئٍ مِنْ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ فِيهِ يُرَکَّبُ الْخَلْقُ

عمر بن حفص، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ دونوں صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس کی مدت ہے لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا چالیس دن؟ انہوں نے انکار کیا راوی نے کہا کیا چالیس سال؟ انہوں نے انکار کیا، راوی نے کہا چالیس مہینے؟ انہوں نے اس کا بھی انکار کیا، اور کہا کہ انسان کی ہر چیز ڈھڈی کی ہڈی کے سوا سڑ جائے گی جس سے انسان کا تمام جسم جوڑا جائے گا۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Between the two blowing of the trumpet there will be forty." The people said, "O Abu Huraira! Forty days?" I refused to reply. They said, "Forty years?" I refused to reply and added: Everything of the human body will decay except the coccyx bone (of the tail) and from that bone Allah will reconstruct the whole body.

Permalink