تیمم کا بیان
Explanation of Dry Ablution (Tayammum)
1.تیمم کے احکام، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ پس تم پاک مٹی سے تیمم کرو اور اس سے اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو ملو، جو تیمم کی اجازت دیتا ہے2.اگر کسی شخص کو پانی نہ ملے اور نہ مٹی (تو وہ کیا کرے؟)3.قیام کی حالت میں جب پانی نہ پائے اور نماز کے فوت ہوجانے کا خوف ہو ( تو) تیمم کر نے کا بیان اور عطاء اسی کے قائل ہیں، حسن بصری نے اس مریض کے متعلق جس کے پاس پانی ہو ( مگر خود اتنی طاقت نہ رکھتا ہو کہ اٹھ کر لے لے) اور وہ ایسے آدمی کو بھی نہ پائے، جو اسے پانی دے، یہ کہا ہے کہ وہ تیمم کر لے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زمین سے جو مقام جرف میں تھی، آۓ، اور عصر کا وقت مر بدالنعم میں آگیا، تو انہوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر مدینہ میں ایسے وقت پہنچے کہ آفتاب بلند ہو چکا تھا لیکن نماز کا اعادہ نہیں کیا4.ہاتھوں کو زمین پر مارنے کے بعد پھونک مار کر جھاڑنے کا بیان5.چہرہ اور ہاتھوں کے تیمم کا بیان6.پاک مٹی ایک مسلمان کے لئے وضو ( کی طرح) ہے، جو پانی سے کفایت کرتی ہے (اس کی جگہ ضرورت پوری کرتی ہے) حسن بصری نے کہا ہے کہ تیمم اس وقت تک کافی ہوتا ہے جب تک دوبارہ بے وضو نہ ہو، ابن عباس نے تیمم کی حالت میں امامت کی اور یحییٰ بن سعید نے کہا ہے کہ شور زمین پر نماز پڑھنا اور اس سے تیمم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں7.جس مریض کو غسل کی ضرورت ہو جائے اگر اسے مریض ہو جانے یا مر جانے کا خوف ہو تو تیمم کر لے بیان کیا جاتا ہے کہ عمر بن عاص ایک سربہ کہ رات میں جنبی ہو گۓ تو انہوں نے تیمم کر لیا اور تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بے شک اللہ تم پر مہربان ہے کی تلاوت کی پھر یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا گیا تو آپ نے ملا مت نہیں کی8.تیمم ( میں) صرف ایک ضرب ہے9.یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔