TrueHadith

جانور، گھوڑے اسباب، چاندی سونا وقف کرنے کا بیان زہری نے اس شخص کے بارے میں جس نے ہزار اشرفیاں خدا کی راہ میں وفق کیں اور اپنے غلام تاجر کو اس لئے حوالہ کیں کہ وہ ان سے تجارت کرے اور نفع کو مسکینوں پر اور اپنے اعزاء پر خیرات کر دے تو کیا اس شخص کو جائز ہے کہ اس ہزار اشرفیوں کے نفع میں سے خود بھی کھالے اگرچہ اس نے اس کے نفع کو مسکینوں کے لے خیرات نہیں کیا، کہا اس کو اس میں سے کھانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

Sahih BukhariHadith 2568

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَی فَرَسٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَعْطَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا رَجُلًا فَأُخْبِرَ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَبِيعُهَا فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَهَا فَقَالَ لَا تَبْتَعْهَا وَلَا تَرْجِعَنَّ فِي صَدَقَتِکَ

مسدد، یحیی ، عبیداللہ ، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک مرتبہ اپنا ایک گھوڑا خدا کی راہ میں دے دیا تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو دیا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوا کریں لیکن حضرت عمر نے وہ ایک اور شخص کو سوار ہونے کیلئے دے دیا پھر حضرت عمر نے دیکھا کہ وہ شخص کھڑا اس گھوڑے کو بازار میں بیچ رہا ہے اس پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی جازت طلب کی کہ اس کو مول لے لیں آپ نے فرمایا تم اس کو مول نہ لو اور اپنے صدقہ کو واپس نہ کرو۔

Narrated Ibn 'Umar: Once 'Umar gave a horse in charity to be used in holy fighting. It had been given to him by Allah's Apostle . 'Umar gave it to another man to ride. Then 'Umar was informed that the man put the horse for sale, so he asked Allah's Apostle whether he could buy it. Allah's Apostle replied, "You should not buy it, for you should not take back what you have given in charity."

Permalink