TrueHadith

من بعد وصیتہ تو صون بھا اودین یعنی قرض اور وصیت کا مطلب، رسول اللہ نے وصیت کرنے سے پہلے ایک کا دوسرے سے قرضہ جو اس کے ذمہ واجب تھا، ادا کر دیا تھا، نیزاللہ عزوجل کا ارشاد ہے، ان اللہ یاء مرکم ان توء دو الا مانات الی اھلھا لہٰذا امانت کا ادا کر دینا وصیت نفلی پوری کرنے سے مقدم ہے، رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ، صدقہ مالداری کی حالت میں دینا چاہیے، ابن عباس نے کہا غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر وصیت نہ کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کہ غلام اپنے مالک کے مال کا نگران اور محافظ ہے۔

Sahih BukhariHadith 2545

Narrated by 'Urwa bin Az-Zubair

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ لِي يَا حَکِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِکَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ وَکَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی قَالَ حَکِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَکَ شَيْئًا حَتَّی أُفَارِقَ الدُّنْيَا فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يَدْعُو حَکِيمًا لِيُعْطِيَهُ الْعَطَائَ فَيَأْبَی أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَيَأْبَی أَنْ يَقْبَلَهُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَ اللَّهُ لَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْئِ فَيَأْبَی أَنْ يَأْخُذَهُ فَلَمْ يَرْزَأْ حَکِيمٌ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تُوُفِّيَ

محمد بن یوسف اوزاعی، زہری، سعید بن مسیب و عروہ بن زبیر حکیم بن حزام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مرتبہ کچھ مانگا، آپ نے مجھے دیدیا، پھر میں نے آپ سے مانگا، آپ نے پھر مجھے دیدیا، اس کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا، کہ اے حکیم یہ مال ایک سبز شیریں چیز ہے، جو شخص اس کو بغیر حرص کے لے گا، اس کیلئے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو شخص اس کو لالچ کے ساتھ مانگے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ دی جائے گی اور وہ مثل اس شخص کے ہوگا، جو کھائے اور سیر نہ ہو، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، حضرت حکیم کہتے ہیں پھر میں نے کہا یا رسول اللہ قسم ہے اس کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو بھیجا ہے، میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں گا۔ یہاں تک کہ دنیا سے سدھار جاؤں، حضرت ابوبکر اپنی خلافت کے زمانہ میں حضرت حکیم کو وظیفہ دینے کیلئے بلاتے رہے، لیکن وہ اس میں سے کچھ قبول کرنے سے انکار کرتے رہے، پھر حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ان کو بلایا، تاکہ ان کو وظیفہ دیں، مگر انہوں نے اس کے لینے سے انکار کرد یا، تو حضرت عمر نے کہا اے مسلمانو! میں حکیم کو ان کا وہ حق جو اللہ نے ان کے لئے اس مال غنیمت میں مقرر فرمایا ہے، دینا چاہتا ہوں، مگر وہ اس کے لینے سے انکار کرتے ہیں، الغرض حضرت حکیم نے رسول اللہ کے بعد کسی سے مرتے دم تک سوال نہیں کیا۔

Narrated 'Urwa bin Az-Zubair: Hakim bin Hizam said, "I asked Allah's Apostle for something, and he gave me, and I asked him again and he gave me and said, 'O Hakim! This wealth is green and sweet (i.e. as tempting as fruits), and whoever takes it with The upper (i.e. giving) hand is better than the lower (i.e. taking) hand." Hakim added, "I said, O Allah's Apostle! By Him Who has sent you with the Truth I will never demand anything from anybody after you till I die." Afterwards Abu Bakr used to call Hakim to give him something but he refused to accept anything from him. Then 'Umar called him to give him (something) but he refused. Then 'Umar said, "O Muslims! I offered to him (i.e. Hakim) his share which Allah has ordained for him from this booty and he refuses to take it." Thus Hakim did not ask anybody for anything after the Prophet, till he died--may Allah bestow His mercy upon him.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2546

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّخْتِيَانِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ

بشر بن محمد سختیانی، عبداللہ یونس، زہری، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ہر شخص نگرانی کا ذمہ دار ہے، حاکم سے اس کی رعیت کی بابت پرسش ہوگی، امام بھی نگراں ہے اور اس سے اس کے مقتدیوں کے بابت پرسش ہوگی، مرد بھی اپنے گھر کا نگراں ہے اس سے اس کے گھروالوں کی بابت پر سش ہوگی اور عورت شوہر کے گھر کی نگراں ہے، اس سے اس کے گھر کی بابت پرسش ہوگی، اور خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے، اس سے اس کے مال کی بابت پر سش ہوگی، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں مجھے خیال ہوتا ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مرد اپنے باپ کے مال کا نگران ہے۔

Narrated Ibn Umar: I heard Allah's Apostle saying, "All of you are guardians and responsible for your charges: the Ruler (i.e. Imam) is a guardian and responsible for his subjects; and a man is a guardian of his family and is responsible for his charges; and a lady is a guardian in the house of her husband and is responsible for her charge; and a servant is a guardian of the property of his master and is responsible for his charge." I think he also said, "And a man is a guardian of the property of his father."

Permalink