TrueHadith

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 1332

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ النِّسَائَ حَتَّی إِذَا بَلَغْتُ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَی جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن پڑھ کر سناؤں، حالانکہ قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے سورت النسا پڑھنی شروع کر دی یہاں تک کہ جب میں اس (فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَاءِ شَهِيدًا) پر پہنچا تو میں انے اپنا سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو جاری ہیں۔

'Abdullah (b. Mas'ud) reported: The Messenger of Allah (may peace be upon (him) asked me to recite the Qur'an. He said: Messenger of Allah, (how) should I recite to you whereas it has been sent down to you? He (the Holy Prophet) said: I desire to hear it from someone else. So I recited Surat al-Nisa' till I reached the verse: How then shall it be when We shall bring from every people a witness and bring you against them as a witness?" (verse 41). I lifted my head or a person touched me in my side, and so I lifted my head and saw his tears falling (from the Holy Prophet's eyes).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1211862)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ اقْرَأْ عَلَيَّ

ہناد بن سری، منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، اعمش اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تو اس وقت آپ منبر پر تھے۔

This hadith has been narratted by A'mash with the same chain of transmitters but with this addition:" The Messenger of Allah (may peace be upon him) was on the pulpit when he asked me to recite to him."

Permalink

Sahih MuslimHadith 1333

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ وَقَالَ أَبُو کُرَيْبٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ اقْرَأْ عَلَيَّ قَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَائِ إِلَی قَوْلِهِ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا فَبَکَی قَالَ مِسْعَرٌ فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ أَوْ مَا کُنْتُ فِيهِمْ شَکَّ مِسْعَرٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، مسعر، عمرو بن مرة، حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ! میں نے عرض کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سورت النساء کے شروع سے سنانا شروع کیا جب میں اس آیت پر پہنچا (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰ ؤُلَا ءِ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء : 41) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو پڑے، مسعر کہتے ہیں کہ مجھے سے معن، جعفر بن عمرو بن حریث نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ) 5۔ المائدہ : 117) کہ میں امت کے حال سے اس وقت تک واقف تھا جب تک کہ میں ان میں تھا مسعر کو شک ہے کہ دُمْتُ فرمایا یا کُنتُ فرمایا۔

Ibrahim reported that the Apostle of Allah (may peace be upon him) asked 'Abdullah b. Mas'ud to recite to him (the Qur'an). He said: Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he ('Abdullah b. Mas'ud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa' up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud through another chain of transmitters that the Apostle of Allah (may peace be upon him) also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I lived among them or I had been among them.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1334

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ بِحِمْصَ فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ اقْرَأْ عَلَيْنَا فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَاللَّهِ مَا هَکَذَا أُنْزِلَتْ قَالَ قُلْتُ وَيْحَکَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَحْسَنْتَ فَبَيْنَمَا أَنَا أُکَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ قَالَ فَقُلْتُ أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُکَذِّبُ بِالْکِتَابِ لَا تَبْرَحُ حَتَّی أَجْلِدَکَ قَالَ فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سنائیں میں نے انہیں سورت یوسف پڑھ کر سنائی، ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ سورت اسی طرح سنائی تھا اس آدمی نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں اس سے بات کر رہا تھا تو میں نے اس کے منہ سے شراب کی بدبو محسوس کی، میں نے کہا تو تو شراب پیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے میں تجھے یہاں سے نہیں جانے دوں گا یہاں تک کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر میں نے (اسے شراب کی حد میں) کوڑے لگائے۔

'Abdullah (b. Mas'ud) reported: I was in Homs when some of the people asked me to recite the Qur'an to them. So I recited Surah Yusuf to them. One of the persons among the people said: By Allah, this is not how it has been sent down. I said: Woe upon you! By Allah, I recited it to the Messenger of Allah (may peace be upon him) and he said to me: You have (recited) it well. I was talking with him (the man who objected to my recitation) that I sensed the smell of wine from him. So I said to him. Do you drink wine and belie the Book (of Allah)? You would not depart till I would whip you. So I lashed him according to the prescribed punishment (for the offence of drinking wine).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1211865)

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لِي أَحْسَنْتَ

اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters but with an exception that it is not mentioned in it:" He said to me: You recited (the Qur'an) well."

Permalink