TrueHadith

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 1358

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَيْفَ تَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ أَلِفًا تَجِدُهُ أَمْ يَائً مِنْ مَائٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَائٍ غَيْرِ يَاسِنٍ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَکُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذَا قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَکِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، ابوبکر، وکیع، اعمش، حضرت ابووائل سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمٰن! آپ اس حرف کو کیسے پڑھتے ہیں الف کے ساتھ یا یا کے ساتھ؟ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو نے اس حرف کے علاوہ پورا قرآن یاد کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ میں مفصل کی ساری سورتیں ایک ہی رکعت میں پڑھتا ہوں، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شعر کی طرح تو جلدی جلدی پڑھتا ہوگا بہت سے لوگ ایسے قرآن پڑھتے ہیں کہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا لیکن قرآن دل میں اتر جائے اور اس میں راسخ ہو جائے تو پھر نفع دیتا ہے نماز میں سب سے افضل ارکان رکوع اور سجود ہیں اور میں ان نظائر میں سے جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیچھے گئے پھر وہ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے انہوں نے اس چیز کی خبر دی ہے، ابن منیر نے اپنی روایت میں کہا کہ نبی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبداللہ کی خدمت میں آیا اور نہیک بن سنان نہیں کہا۔

Abu Wa'il reported that a person named Nabik b. Sinan came to Abdullah (b. Mas'ud) and said: Abu 'Abd al-Rahman, how do you recite this word (alif) or (ya)? Would you read It as: min ma'in ghaira asin or au min ma'in ghaira yasin. (al-Qur'an, xlvii. 15)? 'Abdullah said: You (seem to) have memorised the whole of the Qur'an except this. He (again) said: I recite all the mufassal surahs in one rak'ah. Upon this 'Abdullah said: (You must have been reciting It) hastily like the recitation of poetry. Verily. there are people who recite the Qur'an, but it does not go down beyond their collar bones. It is (a fact with the Qur'an) that it is beneficial only when it settles in the heart and is rooted deeply in it. The best of (the acts) in prayer are bowing and prostration. I am quite aware of the occasions when the Messenger of Allah (may peace be upon him) combined together two surahs in every rak'ah. 'Abdullah then stood up and went out with 'Alqama following in his footstep. He said Ibn Numair had told him that the narration was like that:" A person belonging to Banu Bajila came to 'Abdullah," and he did not mention (the name of) Nahik b. Sinan.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1211903)

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَجَائَ عَلْقَمَةُ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنْ النَّظَائِرِ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي رَکْعَةٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ

ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ کی طرف آیا جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے باقی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح نقل کی اس حدیث میں ہے کہ پھر حضرت علقمہ آئے اور وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں گئے ہم نے ان سے کہا کہ ان سے ان نظائر کے بارے میں پوچھ لو کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت میں پڑھتے تھے تو وہ گئے اور ان سے جا کر پوچھا پھر آکر بتایا کہ وہ مفصل میں سے تیس سورتیں ہیں کہ ان کو دس رکعتوں میں پڑھا جاتا تھا اور وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تالیف میں سے ہیں۔

Abu Wa'il reported: A person came to 'Abdullah, who was called Nahik b. Sinan, and the rest of the hadith is the same but for this:" Alqama came to him ('Abdullah b. Mas'ud) and we said to him: Ask him about the manners in which he combined (two surahs) in one rak'ah. So he went to him and asked him and then came to us and said: Twenty are the mufassal surahs in the compilation (of the Qur'an) made by 'Abdullah."

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1211904)

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَقَالَ إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ فِي رَکْعَةٍ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَکَعَاتٍ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش اس سند کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میں ان سورتوں کو پہچانتا ہوں جو شمائل میں ہیں جن میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو کو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے دس رکعتوں میں بیس سورتیں پڑھتے تھے۔

This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters in which ('Abdullah b. Mas'ud) said:" I know the manners in which the Messenger of Allah (may peace be upon him) recited the two surahs in one rak'ah and then twenty surahs in ten rak'ahs."

Permalink

Sahih MuslimHadith 1359

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ غَدَوْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَنَا قَالَ فَمَکَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً قَالَ فَخَرَجَتْ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ أَلَا تَدْخُلُونَ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ فَقَالَ مَا مَنَعَکُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَکُمْ فَقُلْنَا لَا إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ قَالَ ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّی ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ قَالَ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّی إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ قَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا فَقَالَ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلَمْ يُهْلِکْنَا بِذُنُوبِنَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ کُلَّهُ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي کَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنْ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم

شیبان بن فروخ، مہدی بن میمون، واصل احدب، حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ ہم اگلے دن صبح کی نماز پڑھنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف گئے اور دروازے سے سلام کیا تو انہوں نے ہمیں اجازت دیدی مگر ہم تھوڑی دیر دروازے کے ساتھ ٹھہرے رہے تو ایک باندی آئی اور اس نے کہا کہ تم اندر کیوں نہیں داخل ہو رہے ہو؟ تو پھر ہم اندر داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے تسبیح پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے اندر داخل ہونے سے روکا ہے جبکہ تمہیں اجازت دیدی گئی تھی! تو ہم نے کہا کہ کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ ہم نے خیال کیا کہ گھر والوں میں سے کوئی سو رہا ہو تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے بارے میں غفلت کا گمان کیا؟ راوی نے کہا کہ پھر حضرت عبداللہ نے تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل گیا ہے تو باندی سے فرمایا دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے اس نے دیکھا اور کہا کہ ابھی تک سورج نہیں نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر تسبیح پڑھنی شروع کر دی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل رہا ہے تو پھر باندی سے فرمایا کہ دیکھو سورج نکل گیا ہے؟ پھر اس نے دیکھا تو سورج نکل چکا تھا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا) راوی مہدی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ جملہ بھی فرمایا (وَلَمْ يُهْلِکْنَا بِذُنُوبِنَا) اور ہم کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہیں فرمایا جماعت میں سے ایک آدمی نے کہا میں نے آج کی رات مفصل کی ساری سورتیں پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو نے اس طرح پڑھا ہوگا کہ جس طرح شعر تیزی کے ساتھ پڑھتا ہے بے شک ہم نے قرآن مجید سنا اور مجھے وہ ساری سورتیں یاد ہیں کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے اور مفصل کی وہ اٹھارہ سورتیں ہیں اور دو سورتیں ختم کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں۔

Abu Wa'il reported: One day we went to 'Abdullah b. Mas'ud after we had observed the dawn prayer and we paid salutation at the door. He permitted us to enter, but we stayed for a while at the door, when the slave-girl came out and said: Why don't you come in? So we went in and (we found 'Abdullah b. Mas'ud) sitting and glorifying Allah (i. e. he was busy in dhikr) and he said: What obstructed you from coming in though you had been granted permission for it? We said: There was nothing (behind it) but we entertained the idea that some inmate of the house might be sleeping. He said: Do you presume any idleness on the part of the family of Ibn Umm 'Abd (the mother of Abdullah b. Mas'ud)? He was again busy with the glorification of Allah till he thought that the sun had risen. He said: Girl, see whether (the sun) has arisen. She glanced but it had not risen (by that time). He was again busy with the glorification (of Allah) and he (again) thought that the sun had arisen. She glanced (and confirmed) that, it had risen. Upon this he ('Abdullah b. Mas'ud) said: Praise be to Allah Who did not call us to account for our sins today. Mahdi said: I think that he said, He did not destroy us for our sins. One among the people said: I recited all the mufassal surahs during the night. 'Abdullah said: (You must have recited them) like the (recitation) of poetry. I heard (the Holy Prophet) combining (the sarahs) and I remember the combinations which the Messenger of Allah (may peace be upon him) made In the recitation (of surahs). These were constituted of eighteen mufassal surahs and two surahs (commencing with) Ha-Mim.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1360

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَکْعَةٍ

عبد بن حمید، حسین بن علی جعفی، زائدہ، منصور، حضرت شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک رکعت میں مفصل پڑھتا ہوں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم شعر کی طرح تیزی سے پڑتھے ہو گے، میں ان شمائل سورتوں کو جانتا ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔

Shaqiq reported: A person from Banu Bajila who was called Nabik b. Sinan came to Abdullah and said: I recite mufassal surahs in one rak'ah. Upon this 'Abdullah said: (You recite) like the recitation of poetry. I know the manner in which the Messenger of Allah (may peace be upon him) recited two surahs in one rak'ah.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1361

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ کُلَّهُ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ قَالَ فَذَکَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرة، حضرت ابووائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں نے رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تو نے شعر کی طرح تیزی سے پڑھا ہوگا حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں ان شمائل سورتوں کو جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مفصل میں سے بیس (20) سورتوں کا ذکر کیا ایک رکعت میں دو دو سورتیں۔

Abu Wa'il reported: A person came to 'Abdullah b. Mas'ud and said: I recited all the mufassal surahs in one rak'ah during the night. 'Abdullah said: You must have recited hastily like the recitation of poetry. 'Abdullah said: I remember well the manner in which the Messenger of Allah (may peace be upon him) used to combine them, and he then mentioned twenty of the mufassal surahs, and (their combinations in) two in every rak'ah.

Permalink