TrueHadith

اس بات کے بیان میں کہ رسول اللہ شریعت کا جو حکم بھی فرمائیں اس پر عمل کرنا واجب ہے اور دنیوں معیشت کے بارے میں جو مشورہ یا جو بات اپنی رائے سے فرمائیں اس پر عمل کرنے میں اختیار ہے ۔

Sahih MuslimHadith 4356

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ عَلَی رُئُوسِ النَّخْلِ فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَائِ فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ يَجْعَلُونَ الذَّکَرَ فِي الْأُنْثَی فَيَلْقَحُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِکَ شَيْئًا قَالَ فَأُخْبِرُوا بِذَلِکَ فَتَرَکُوهُ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ فَقَالَ إِنْ کَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِکَ فَلْيَصْنَعُوهُ فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ وَلَکِنْ إِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ اللَّهِ شَيْئًا فَخُذُوا بِهِ فَإِنِّي لَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

قتیبہ بن سعید، ثقفی ابوکامل جحدر قتیبہ ابوعوانہ، سماک حضرت موسیٰ بن طلحہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کے ساتھ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو کہ کھجور کے درختوں کے پاس تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا یہ لوگ قلم لگاتے ہیں یعنی نر کو مادہ کے ساتھ ملاتے ہیں تو وہ پھل دار ہو جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے خیال میں اس چیز میں کچھ فائدہ نہیں راوی کہتے ہیں کہ جب اس بات کی خبر ان لوگوں کو ہوئی تو انہوں نے اس طرح کرنا چھوڑ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ کام ان کو نفع دیتا ہے تو وہ لوگ یہ کام کریں کیونکہ میرے خیال پر تم مجھے نہ پکڑو لیکن جب میں تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم بیان کروں تو تم اس پر عمل کرو کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوڑ بولنے والا نہیں ہوں۔

Musa b. Talha reported: I and Allah's Messenger (may peace be upon him) happened to pass by people near the date-palm trees. He (the Holy Prophet) said: What are these people doing? They said: They are grafting, i.e, they combine the male with the female (tree) and thus they yield more fruit. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: I do not find it to be of any use. The people were informed about it and they abandoned this practice. Allah's Messenger (may peace be upon him) was later on informed that the yield had dwindled, whereupon he said: If there is any use of it, then they should do it, for it was just a personal opinion of mine, and do not go after my personal opinion; but when I say to you anything on behalf of Allah, then do accept it, for I do not attribute lie to Allah, the Exalted and Glorious.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4357

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ مَا تَصْنَعُونَ قَالُوا کُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا کَانَ خَيْرًا فَتَرَکُوهُ فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ قَالَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْئٍ مِنْ دِينِکُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْئٍ مِنْ رَأْيٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ قَالَ عِکْرِمَةُ أَوْ نَحْوَ هَذَا قَالَ الْمَعْقِرِيُّ فَنَفَضَتْ وَلَمْ يَشُکَّ

عبداللہ بن رومی یمامی عباس بن عبدالعظیم عنبری احمد بن جعفر نضر بن محمد عکرمہ ابن عمار ابونجاشی حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ لوگ کھجوروں کو قلم لگا رہے تھے یعنی کھجوروں کو گابھن کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کر رہے ہو انہوں نے کہا ہم لوگ اسی طرح کرتے چلے آئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو شاید تمہارے لئے یہ بہتر ہو انہوں نے اس طرح کرنا چھوڑ دیا تو کھجوریں کم ہو گئیں صحابہ کرام نے اس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک انساں ہوں جب میں تمہیں کوئی دین کی بات کا حکم دوں تو تم اس کو اپنا لو اور جب میں اپنی رائے سے کسی چیز کے بارے میں بتاؤں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ یا اسی طرح کچھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

Rafi' b. Khadij reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) came to Medina and the people had been grafting the trees. He said: What are you doing? They said: We are grafting them, whereupon he said: It may perhaps be good for you if you do not do that, so they abandoned this practice (and the date-palms) began to yield less fruit. They made a mention of it (to the Holy Prophet), whereupon he said: I am a human being, so when I command you about a thing pertaining to religion, do accept it, and when I command you about a thing out of my personal opinion, keep it in mind that I am a human being. 'Ikrima reported that he said something like this.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4358

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ فَقَالَ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ قَالَ فَخَرَجَ شِيصًا فَمَرَّ بِهِمْ فَقَالَ مَا لِنَخْلِکُمْ قَالُوا قُلْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاکُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اسود بن عمار ابوبکر اسود بن عامر حماد بن سلمہ ہشام بن عروہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جماعت کے پاس سے گزرے جو کہ قلم لگا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس طرح کرو تو بہتر ہوگا تو کھجور خراب آئی راوی کہتے ہیں کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس طرف سے گزرے تو آپ نے فرمایا تمہارے درختوں کو کیا ہوا ان لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ایسے فرمایا تھا آپ نے فرمایا تم لوگ اپنے دنیوی معاملات کو میرے نسبت زیادہ بہتر جانتے ہو۔

Anas reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) happened to pass by the people who had been busy in grafting the trees. Thereupon he said: If you were not to do it, it might be good for you. (So they abandoned this practice) and there was a decline in the yield. He (the Holy Prophet) happened to pass by them (and said): What has gone wrong with your trees? They said: You said so and so. Thereupon he said: You have better knowledge (of a technical skill) in the affairs of the world.

Permalink