حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَکَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَکَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَی الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَی فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ قَالَ وَکَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ
یحیی بن یحیی تمیمی، سعید بن منصور، ابوربیع عتکی ابوکامل یحیی یحیی حماد بن زید ثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور تمام لوگوں سے زیادہ سخی اور تمام لوگوں سے زیادہ بہادر تھے ایک رات مدینہ منورہ والے گھبرا گئے اور جس طرف سے آواز آرہی تھی صحابہ کرام اس طرف چل پڑے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو واپس آتے ہوئے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آواز کی طرف سب سے پہلے تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار تھے جو کہ ننگی پیٹھ پر تھا اور آپ کی گردن میں تلوار تھی اور فرما رہے تھے کوئی گھبرانے کی بات نہیں کوئی گھبرانے کی بات نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو تیز رفتاری میں سمندر کی طرح پایا اور یہ تو دریا ہے اور وہ گھوڑے پہلے سست رفتاری میں مشہور تھا۔
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) was the sublimest among people (in character) and the most generous amongst them and he was the bravest of men. One night the people of Medina felt disturbed and set forth in the direction of a sound when Allah's Messenger (may peace be upon him) met them on his way back as he had gone towards that sound ahead of them. He was on the horse of Abu Talha which had no saddle over it, and a sword was slung round his neck, and he was saying: There was nothing to be afraid of, and he also said: We found it (this horse) like a torrent of water (indicating its swift-footedness), whereas the horse had been slow before that time.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَکِبَهُ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، شعبہ، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں کچھ گھبراہٹ سی پیدا ہوگئی تو نبیوں نے حضرت ابوطلحہ کا گھوڑا مانگا جسے مندوب کہا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھوڑے پر سوار ہوئے اور فرمایا ہم نے تو کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں دیکھی اور ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح پایا۔
Anas reported that there was consternation in Medina. The Messenger of Allah (may peace be upon him) borrowed the horse from Abu Talha which was called Mandub. He rode it and said: We have found no reason for consternation, and we have found it to be (as quick as a torrent) of water.
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ فَرَسًا لَنَا وَلَمْ يَقُلْ لِأَبِي طَلْحَةَ وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا
محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، یحیی بن حبیب، خالد ابن حارث شعبہ، ابن جعفر حضرت شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ ہمارا گھوڑا لیا اور اس میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے کا ذکر نہیں اور خالد کی روایت میں عَنْ قَتَادَةَ کی جگہ سَمِعْتُ أَنَسًا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Anas with a slight variation of wording.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا و
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو بن منکدر جابر بن عبد اللہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ فرمایا ہو۔
Jabir b. 'Abdullah reported: It never happened that Allah's Messenger (may peace be upon him) was asked for anything and he said: No.
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا مِثْلَهُ سَوَائً
ابوکریب اشجعی محمد بن مثنی، عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Jabir b. 'Abdullah through another chain of transmitters.
و حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ قَالَ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرَجَعَ إِلَی قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَائً لَا يَخْشَی الْفَاقَةَ
عاصم، بن نضر تیمی خالد ابن حارث حمید موسیٰ بن انس، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز بھی مانگی گئی آپ نے وہ چیز عطا فرما دی راوی کہتے ہیں ایک آدمی آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں عطا فرما دیں وہ واپس اپنی قوم کی طرف آیا اور اس نے کہا اے قوم اسلام قبول کرلو کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا فرماتے ہیں کہ فاقہ کشی کا خوف ہی نہیں رہتا۔
Musa b. Anas reported on the authority of his father: It never happened that Allah's Messenger (may peace be upon him) was asked anything for the sake of Islam and he did not give that. There came to him a person and he gave him a large flock (of sheep and goats) and he went back to his people and said: My people, embrace Islam, for Muhammad gives so much charity as if he has no fear of want.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَی قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَائً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يُسْلِمُ حَتَّی يَکُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کی بکریاں مانگیں تو آپ نے اسے اتنی ہی بکریاں عطا فرما دیں وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے قوم اسلام قبول کرلو اللہ کی قسم محمد اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ پھر محتاجی کا خوف ہی نہیں رہتا حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سوائے دنیا حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول نہیں کرتا لیکن مسلمان ہونے کے بعد اسلام اس کی نظر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کی وجہ سے ساری دنیا سے زیادہ اسے محبوب ہو جاتا ہے۔
Anas 'b. Malik reported that a person requested Allah's Apostle (may peace be upon him) to give him a very large flock and he gave that to him. He came to his tribe and said: O people, embrace Islam. By Allah, Muhammad donates so much as if he did not fear want. Anas said that the person embraced Islam for the sake of the world but later he became Muslim until Islam became dearer to him than the world and what it contains.
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنْ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّی إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ
ابوطاہر احمد بن عمر بن سرح عبداللہ بن وہب، یونس حضرت ابن شہاب سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن غزوہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان تمام مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ساتھ تھے حنین کی طرف نکلے حنین میں مسلمانوں نے قتال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی مدد فرمائی اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو سو اونٹ عطا فرمائے پھر سو اونٹ عطا فرمائے پھر سوا ونٹ عطا فرمایا حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ صفوان کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا جتنا عطا فرمایا اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھے مبغوض تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو گئے۔
Ibn Shihab reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) went on the expedition of Victory, i. e. the Victory of Mecca, and then he went out along with the Muslims and they fought at Hunain, and Allah granted victory to his religion and to the Muslims, and Allah's Messenger (may peace be upon him) gave one hundred camels to Safwan b. Umayya. He again gave him one hundred camels, and then again gave him one hundred camels. Sa'id b. Musayyib said that Safwan told him: (By Allah) Allah's Messenger (may peace be upon him) gave me what he gave me (and my state of mind at that time was) that he was the most detested person amongst people in my eyes. But he continued giving to me until now he is the dearest of people to me.
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ وَعَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَی الْآخَرِ و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَی الْآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَدْ جَائَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُکَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَجِيئَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَقَدِمَ عَلَی أَبِي بَکْرٍ بَعْدَهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَی مَنْ کَانَتْ لَهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ فَقُمْتُ فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ قَدْ جَائَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُکَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا فَحَثَی أَبُو بَکْرٍ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لِي عُدَّهَا فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ فَقَالَ خُذْ مِثْلَيْهَا
عمرو ناقد سفیان بن عیینہ، ابن منکدر جابر بن عبد اللہ، اسحاق سفیان، ابن منکدر جابر، عمرو محمد بن علی جابر، یزید ابن ابی عمر سفیان، محمد بن منکدر جابر، بن عبداللہ سفیان، عمرو بن دینار محمد بن علی حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اس اس قدر دوں گا اور اس قدر اور اس قدر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے فرمایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بحرین کے مال کے آنے سے پہلے ہی رحلت فرما گئے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم فرمایا کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ جس آدمی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وعدہ کیا ہو یا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرض ہو تو اسے چاہئے کہ وہ آئے تو میں کھڑا ہوگیا اور میں نے عرض کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کا مجھ سے وعدہ تھا) کہ اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اس اس قدر دوں گا اور اس قدر اور اس قدر تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے فرمایا اسے گنو میں نے ان کو گنا تو وہ پانچ سو نکلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس سے دو گنا لے لو۔
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: In case we get wealth from Bahrain, I would give you so much and so much; he made an indication of it with both his hands. Allah's Apostle (may peace be upon him) died before wealth from Bahrain came, and it fell to the lot of Abu Bakr after him. He commanded the announcer to make announcement to the effect that he to whom Allah's Apostle (may peace be upon him) had held out promise or owed any debt should come (to him). I came and said: Allah's Apostle (may peace be upon him) had said to me: In case there comes to us the wealth of Bahrain I shall give you so much, and so much. Abu Bakr took a handful (of the coins) and gave that to me once and asked me to count them I counted them as five hundred dinars and he said: Here is double of this for you.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ أَبَا بَکْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ مَنْ کَانَ لَهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ کَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
محمد بن حاتم، ابن میمون محمد بن بکر، ابن جریج، عمرو بن دینار محمد بن علی جابر بن عبد اللہ، محمد بن منکدر ، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے کچھ مال آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جس آدمی کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وعدہ فرمایا ہو تو وہ آدمی ہمارے پاس آجائے باقی روایت ابن عینیہ کی روایت کی طرح منقول ہے۔
Jabir b. 'Abdullah reported: When Allah's Apostle (may peace be upon him) died, there came to Abi Bakr wealth from al-'Ala' b. al-Hadrami. Abu Bakr said: He to whom Allah's Apostle (may peace be upon him) owed any debt or held out any promise should come to us; the rest of the hadith is the same.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَکُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ کَثِيرًا کَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ وَکَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَکُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحیی بن یحیی، ابوخیثمہ سماک بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سماک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں بہت زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز جس جگہ پڑھا کرتے تھے تو وہاں سے سورج نکلنے تک نہ اٹھتے تھے اور جب سورج نکل آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوتے اور صحابہ کرام باتوں میں مصروف ہوتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے کاموں کا تذکرہ کرتے تو آپ مسکرا پڑتے تھے۔
Simak b. Harb reported: I said to Jabir b. Samura: Did you have the privilege of sitting in the company of Allah's Messenger (may peace be upon him)? He said: Yes, very frequently, and added: He did not stand up (and go) from the place where he offered the dawn prayer until the sun rose, and after the rising of the sun he stood up, and they (his Companions) entered into conversation with one another and they talked of the things (that they did during the Days of Ignorance), and they laughed (on their unreasonable and ridiculous acts). Allah's Messenger (may peace be upon him) smiled only.
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَغُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَکَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ
ابوربیع عتکی حامد بن عمرو قتیبہ بن سعید، ابوکامل حماد بن زید ابوربیع حماد بن ایوب ابی قلابہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور ایک سیاہ فام غلام جسے انجشہ کہا جاتا تھا وہ شعر پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے نجشہ ذرا آہستہ آہستہ چل اور ان اونٹوں کو شیشہ لدے ہوئے اونٹوں کی طرح ہانک۔
Anas reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) had in one of his journeys his black slave who was called Anjasha along with him. He goaded by singing the songs of camel-driver. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Anjasha, drive slowly as you are driving the mounts who are carrying glass vessels
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو کَامِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ
ابوربیع عتکی حامد بن عمر ابوکامل حماد ثابت ، حضرت انس سے مذکورہ روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی عَلَی أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ وَيْحَکَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَکَ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَکَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَلِمَةٍ لَوْ تَکَلَّمَ بِهَا بَعْضُکُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ
عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیر اسماعیل ایوب ابی قلابہ ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس آئے اور ایک ہنکانے والا ان کے اونٹوں کو ہنکا رہا تھا جسے انجشہ کہا جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے انجشہ شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل۔ حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی کہ اگر تم میں سے کوئی اس طرح کی بات کرتا ہے تو تم اسے کھیل سمجھتے۔
Anas reported that Allah's Apostle (may peace be upon him) came to his wives as the camel-driver who was called Anjasha had been driving the camels on which they were riding. Thereupon he said: Anjasha, be careful, drive slowly for you are driving the mounts who carry vessels of glass. Abu Qilaba said that Allah's Messenger (may peace be upon him) uttered words which if someone had uttered amongst you, you would have found fault with him.
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَکَ بِالْقَوَارِيرِ
یحیی بن یحیی، یزید بن زریع سلیمان تیمی انس بن مالک، ابوکامل یزید بن تیمی ، ام سلیم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہ نبی کی ازواج مطہرات کے ساتھ تھیں اور ایک ہنکانے والا ان کے اونٹوں کو ہنکا رہا تھا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انجشہ آہستہ آہستہ شیشوں کو لے کر چل۔
Anas b. Malik reported that Umm Sulaim was with the wives of Allah's Apostle (may peace be upon him) and a camel-driver had been driving (the camels) oil which they were riding. Thereupon Allah's Apostle (may peace be upon him) said: Anjasha, drive slowly, for you are carrying (on the camels) vessels of glass.
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ لَا تَکْسِرْ الْقَوَارِيرَ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَائِ
ابن مثنی عبدالصمد ہمام قتادہ، حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حدی خوان خوش الحان تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے انجشہ آہستہ آہستہ چل کہیں شیشوں کو نہ توڑ دینا یعنی کمزور عورتوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔
-
و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ
ابن بشار ابوداؤد ہشام قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں لیکن اس میں حدی خوان کی خوش آوازی کا ذکر نہیں ہے۔
Anas reported this hadith through another chain of transmitters, but he made no mention of a camel-driver having a melodious voice.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَی بِيَ الْکُفْرُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی عَقِبِي وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمرو زہیر اسحاق سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت محمد بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں محمد ہوں اور میں احمد بھی ہوں اور میں ماحی بھی ہوں یعنی اللہ میری وجہ سے کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں سب لوگوں کو میرے پاؤں پر جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے کہ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں۔
Jubair b. Mut'im reported on the authority of his father that he heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: I am Muhammad and I am Ahmad, and I am al-Mahi (the obliterator) by whom unbelief would be obliterated, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet mankind will be gathered, and I am 'Aqib (the last to come) after whom there will be no Prophet.
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِي أَسْمَائً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمَيَّ وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَئُوفًا رَحِيمًا
حرملہ بن یحیی ابن وہب، یونس ابن شہاب حضرت محمد بن جبیر بن مطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میرے بہت سے نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں اور میں حاشر ہوں اللہ سب لوگوں کو میرے پاؤں پر جمع فرمائے گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور اللہ تعالے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رؤ ف اور رحیم رکھا ہے۔
Jubair b. Mut'im reported on the authority of his father that he heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: I have many names: I am Muhammad, I am Ahmad, I am al-Mahi through whom Allah obliterates unbelief, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet people will be gathered, and I am 'Aqib (after whom there would be none), and Allah has named him as compassionate and merciful.
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْمَرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ وَمَا الْعَاقِبُ قَالَ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ الْکَفَرَةَ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ الْکُفْرَ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوسمان شعیب حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان سندوں کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور شعبہ اور معمر کی حدیث میں سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں اور عقیل کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت زہری سے پوچھا کہ عاقب کے کیا معنی ہیں انہوں نے فرمایا جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو اور عقیل نے اپنے روایت میں کفر کا لفظ کہا ہے اور شعیب نے اپنی روایت میں کفر کا لفظ کہا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ma'mar (and the words are): I said to Zuhri: What does (the word) al-'Aqib imply? He said: One after whom there is no Prophet, and in the hadith transmitted on the authority of Ma'mar and 'Uqail there is a slight variation of wording.
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَائً فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، اعمش، عمرو بن مرہ ابی عبیدہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ہم سے اپنے کئی نام بیان فرمائے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں محمد اور احمد اور مقفی اور حاشر نبی التوبہ اور نبی الرحمت ہوں۔
Abu Musa Ash'ari reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) mentioned many names of his and said: I am Muhammad, Ahmad, Muqaffi (the last in succession), Hashir, the Prophet of repentance, and the Prophet of Mercy.