TrueHadith

ایسے وقت احرام باند ھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جس وقت سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہو جائے ۔

Sahih MuslimHadith 2035

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُکَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ يَصْنَعُهَا قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُکَ لَا تَمَسُّ مِنْ الْأَرْکَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُکَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُکَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُکَ إِذَا کُنْتَ بِمَکَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّی يَکُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الْأَرْکَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّی تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ

یحیی بن یحیی، مالک، سعید بن ابی سعید مقبری، حضرت عبید بن جریج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ کے ساتھیوں میں سے کسی اور کو ایسے کرتے ہوئے نہیں دیکھا حضرت عبداللہ نے فرمایا اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا کہ ایک یہ کہ میں نے آپ کو کعبة اللہ کے دو رکن یمانیوں کے سوا اور کسی کو نے کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا دوسرا یہ کہ میں نے آپ کو بغیر بالوں والے چمڑے کی جوتیاں پہنے دیکھا اور تیسرا یہ کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ زرد رنگ سے رنگتے ہیں اور چوتھا یہ کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ جب مکہ میں تھے تو آپ نے آٹھ ذی الحجہ کو احرام باندھا جبکہ مکہ میں رہنے والے لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دو رکن یمانیوں کے چھونے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو رکن یمانیوں کے علاوہ اور کسی رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور بالوں کے بغیر چمڑے کی جوتی کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ایسے چمڑے کی جوتی پہنے ہوئے تھے کہ جس میں بال نہیں تھے اور اسی چمڑے میں وضو کرتے اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ ایسی جوتی پہنوں اور زرد رنگ کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زرد رنگ کے ساتھ رنگا کرتے تھے اسی لئے میں بھی زرد رنگ کے رنگنے کو پسند کرتا ہوں اور باقی احرام باندھنے کا جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ احرام باندھتیہوں یہاں تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر ٹھر جاتی تھی

'Ubaid b. Juraij said to 'Ahdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them): 'Abd al-Rahman, I find you doing four things which I do not see anyone among your companions doing. He said: Son of Juraij, what are these? Thereupon he said: You (while circumambulating the Ka'ba) do not touch but the two pillars situated on the side of Yaman (south), and I find you wearing the sandals of tanned leather, and I find you with dyed beard and head, and I also found that, when you were at Mecca, the people pronounced Talbiya as they saw the new moon (Dhu'l-Hijja), but you did not do it till the 8th of Dhu'l-Hijja. Upon this 'Abdullab b. 'Umar said: So far as the touching of the pillars is concerned, I did not see the Messenger of Allah (may peace be upon him) touching them but only those situated on the side of Yaman. So far as the wearing of the shoes of tanned leather is concerned, I saw the Messenger of Allah (may peace be upon him) wearing shoes without hair on them, and he wore them with wet feet after performing ablution, and I like to wear them. So far as the yellowness is concerned, I saw the Messenger of Allah (may peace be upon him) dyeing (head, beard and cloth) with this colour and I love to dye (my head, beard or cloth) with this colour. And so far as the pronouncing of Talbiya is concerned, I did not see the Messenger of Allah (may peace be upon him) pronouncing it until his camel proceeded on (to Dhu'l-Hulaifa).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220325)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْکَ أَرْبَعَ خِصَالٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَی إِلَّا فِي قِصَّةِ الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ فَذَکَرَهُ بِمَعْنًی سِوَی ذِکْرِهِ إِيَّاهُ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، ابوصخر، ابن قسیط، حضرت عبید بن جریج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارہ مرتبہ حج اور عمرہ کیا تو میں نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ سے چار خصلتیں دیکھی ہیں پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی سوائے ہلال کے واقعہ کے۔

'Ubaid b. Juraij reported: I remained in the company of 'Abdullah b. 'Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with them) its twelve Hajjs and 'Umras and I said to him: I saw four characteristics (peculiar in you), and the rest of the hadith is the same except the case of Talbiya. There he offered the narration given by al-Maqburi and he stated the facts excepting the one given above.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2036

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبید اللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب رکاب میں اپنا پاؤں رکھا اور سواری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ذی الحلیفہ میں کھڑی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا تلبیہ پڑھا

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) pronounced Talbiya in Dhu'l-Hulaifa as he put his feet in the stirrup and his camel stood up and proceeded.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2037

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ کَانَ يُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً

ہارون بن عبد اللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، صالح بن کیسان، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا جس وقت اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Apostle of Allah (may peace be upon him) pronounced Talbiya as his camel stood up.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2038

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبد اللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذی الحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار دیکھا پھر جس وقت وہ سواری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر کھڑی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا

'Abdullah b. 'Umar reported: I saw the Messenger of Allah (may peace be upon him) riding on his camel at Dhu'l-Hulaifa and pronouncing Talbiya as it stood up with him.

Permalink