TrueHadith

اس بات کے بیان میں کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لوگوں کا یہ کہنا کہ آپ کا یہ کیا فتوی ہے کہ جس میں لوگ مشغول ہیں ۔

Sahih MuslimHadith 2185

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوحسان سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ بنی جہیم کے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ کے اس فتوٰی کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کرلیا وہ حلال ہوگیا کی وجہ سے لوگوں میں کافی شور ہوگیا ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار لگے۔

Abu Hassan al-A'raj reported that a person from Bani Hujaim said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them): What is this religious verdict of yours which has engaged the attention of the people or which has become a matter of dispute among them that he who circumambulated the House can be free from Ihram? Thereupon he said: That is the Sunnah of your Apostle (may peace be upon him), even though you may not approve of it.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2186

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ قَدْ تَفَشَّغَ بِالنَّاسِ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ الطَّوَافُ عُمْرَةٌ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغَمْتُمْ

احمد بن سعید دارمی، احمد بن اسحاق، ہمام بن یحیی، قتادہ، حضرت ابوحسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ اس مسئلہ کی وجہ سے لوگوں میں کافی شور مچ گیا ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کرلیا وہ حلال ہوگیا اور وہ اسے عمرہ کا طواف کر لے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہو۔

Abu Hassaan reported: It was said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) that this affair had engaged the attention of the people that he who circumambulates the House was permitted to circumambulate for Umra (even though he was in a state of Ihram for Hajj), whereupon he said: That is the Sunnah of your Apostle (may peace be upon him), even though you may not approve of it.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2187

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ قَالَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُا لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ إِلَّا حَلَّ قُلْتُ لِعَطَائٍ مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِکَ قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَی الْبَيْتِ الْعَتِيقِ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ ذَلِکَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ فَقَالَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ وَکَانَ يَأْخُذُ ذَلِکَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، ابن جریج، حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی حج کرے یا نہ کرے بیت اللہ کا طواف کرنے سے حلال ہو جاتا ہے میں نے عطاء سے کہا کہ وہ کہاں سے یہ بات فرماتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَی الْبَيْتِ الْعَتِيقِ) پھر قربانی ذبح کرنے کا محل بیت اللہ ہے راوی نے کہا کہ میں نے کہا کہ قربانی تو عرفات سے واپسی کے بعد ہوتی ہے تو انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہی فرماتے تھے کہ عرفات کے بعد یا عرفات سے پہلے انہوں نے یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم سے لیا جس وقت کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں انہیں احرام کھولنے کا حکم فرمایا۔

Ata' said: Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) used to say that a pilgrim or non-pilgrim (one performing 'Umra) who circumambulates the House is free from the responsibility of Ihram. I (Ibn Juraij, one of the narrators) said to 'Ata': On what authority does he (Ibn Abbas) say this? He said: On the authority uf Allah's words: "Then their place of sacrifice is the Ancient House" (al-Qur'an, xxii. 33). I said: It concerns the time after staying at 'Arafat, whereupon he said: Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) had stated (that the place of sacrifice is the Ancient House); it may be after staying at 'Arafat or before (staying there). And he (Ibn Abbas) made this deduction I from the command of Allah's Apostle (may peace be upon him) when he had ordered to put off Ihram on the occasion of the Farewell Pilgrimage.

Permalink