حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَيْنِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا وَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ عمرہ کرنے کے لئے آیا اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا جبکہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف سعی نہیں کیا وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے یعنی طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا ومروہ کے درمیان سات چکر لگائے یعنی سعی کی اور فرمایا کہ تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ بہترین نمونہ ہے۔
Amr b. Dinar said: We asked Ibn Umar about a person who came for Umra and circumambulated the House, but he did not run between al-Safa' and al-Marwa, whether he is allowed to (put off Ihram) and have intercourse with his wife. He replied: Allah's Messenger (may peace be upon him) circumambulated the House seven times and offered two rak'ahs of prayer after staying (at 'Arafat), and ran between al-Safa and al-Marwa seven times. "Verily there is in Allah's Messenger a model pattern for you" (xxxill. 21).
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
یحیی بن یحیی، ابوربیع زہرانی، حماد بن زید، عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج، عمر بن دینار، ابن عمر اس سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابن عینیہ کی حدیث کی طرح روایت نقل کی۔
This hadith is narrated by another chain of transmitters.
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا فَإِنْ قَالَ لَکَ لَا يَحِلُّ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِکَ قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ قُلْتُ فَإِنَّ رَجُلًا کَانَ يَقُولُ ذَلِکَ قَالَ بِئْسَ مَا قَالَ فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ فَقُلْ لَهُ فَإِنَّ رَجُلًا کَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِکَ وَمَا شَأْنُ أَسْمَائَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِکَ قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَکَرْتُ لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ لَا أَدْرِي قَالَ فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا قُلْتُ لَا أَدْرِي قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ کَذَبَ قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَوَّلَ شَيْئٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَکَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَکْرٍ فَکَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَکُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِکَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْئٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَکُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَکَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَکُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِکَ ثُمَّ لَمْ يَکُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِکَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَی مَا کَانُوا يَبْدَئُونَ بِشَيْئٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنْ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لَا تَبْدَأَانِ بِشَيْئٍ أَوَّلَ مِنْ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّکْنَ حَلُّوا وَقَدْ کَذَبَ فِيمَا ذَکَرَ مِنْ ذَلِکَ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، حضرت محمد بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عراق والوں میں سے ایک آدمی نے ان سے کہا کہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھو کہ جو حج کا احرام باندھ لے اور جب وہ بیت اللہ کا طواف کرلے تو کیا وہ حلال ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو اگر وہ تجھے کہیں کہ وہ حلال نہیں ہو سکتا تو ان سے کہنا کہ ایک آدمی تو اس طرح کہتا ہے یعنی حلال ہو سکتا ہے حضرت عروہ نے کہا کہ اس نے جو کہا برا کہا پھر وہ آدمی عراق والا مجھ سے ملا اور مجھ سے اس نے پوچھا تو میں نے اسے حضرت عروہ کا قول بیان کردیا اس آدمی نے کہا حضرت عروہ سے کہوکہ ایک آدمی خبر دیتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کیا ہے اور حضرت اسماء اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کیا شان ہے کہ انہوں نے بھی اس طرح کیا راوی محمد بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر حضرت عروہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا انہوں نے فرمایا کہ وہ خود میرے پاس آکر کیوں نہیں جانتا میرے خیال میں وہ عراقی ہے میں نے کہا میں نہیں جانتا حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے جھوٹ بولا ہے البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو حج کیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے اس کی خبر دی کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے مکہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا پھر بیت اللہ کا طواف کیا پھر حج کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی طرح کیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا میں نے ان کو دیکھا کہ انہوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کو طواف کیا اور حج کے علاوہ کچھ نہیں کیا پھر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حج کیا پھر میں نے بھی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا اور حج کے علاوہ کچھ نہیں کیا پھر میں نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار بھی اسی طرح کرتے ہیں اور وہ بھی حج کے علاوہ کچھ نہیں کرتے پھر میں نے سب سے آخر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا اور عمرہ کے بعد حج کے احرام کو نہیں کھولا اور یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو عراق والوں کے پاس موجود ہی ہیں یہ ان سے کیوں نہیں پوچھتے اور جتنے اسلاف تھے سب کے سب مکہ میں آتے ہی بیت اللہ کے طواف سے ابتداء کرتے تھے پھر حلال نہیں ہوتے تھے احرام نہیں کھولتے تھے اور میں نے اپنی ماں اور خالہ کو بھی دیکھا کہ جس وقت وہ آئیں تو وہ بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرتی تھیں پھر حلال نہیں ہوتی تھیں میری ماں نے مجھے خبر دی کہ میں اور میری بہن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فلاں فلاں آدمی صرف عمرہ کرنے آئے تھے تو جب رکن کو چھو لیا تو وہ سب حلال ہو گئے اور اس نے تجھ سے جو ذکر کیا جھوٹ کیا
Muhammad b. 'Abd al-Rahman reported: A person from Iraq said to him to inquire from 'Urwa b. Zubair for him whether a person who puts on Ihram for Hajj is allowed to put it off or not as he circumambulates the House. And if he says:" No, it can't be put off," then tell him that there is a person who makes such an assertion. He (Muhammad b. 'Abd al-Rahman) then said: I asked him ( Urwa b. Zubair), where- upon he said: The person who has entered into the state of Ihram for Hajj cannot get out of it unless he has, completed the Hajj I (further) said (to him): (What) if a person makes that assertion? Thereupon he said: It is indeed unfortunate that he makes such an assertion. That person ('Iraqi) then met me and he asked me and I narrated to him (the reply of 'Urwa), whereupon he (the Iraqi) said: Tell him ('Urwa) that a person had informed him that Allah's Messenger (may peace be upon him) had done that; and why is it that Asma' and Zubair have done like this? He (Muhammad b. 'Abd al-Rahman) said: I went to him and made a mention of that to him, whereupon he ('Urwa) said: Who is he (the 'Iraqi)? I said: I do not know, whereupon he said: What is the matter that he does not come to me himself and ask me? I suppose he is an 'Iraqi. I said: I do not know, whereupon he said: He has told a lie. Allah's Messenger (may peace be upon him) performed Hajj, and 'A'isha (Allah be pleased with her) has told me that the first thing with which he commenced (the rituals) when he arrived at Mecca was that he performed ablution and then circumambulated the Ka'ba. Then Abu Bakr performed Hajj and the first thing with which he commenced (the Hajj) as the circumambulation of the Ka'ba and nothing besides it. So did 'Umar. Then 'Uthman performed Hajj and I saw that the first thing with which he commenced the Hajj was the circumambulation of the Ka'ba and nothing besides it. Then Mu'awiya and Abdullah b. 'Umar did that. Then I performed Hajj with my father Zubair b. al-'Awwam, and the first thing with which he commenced (Hajj) was the circumambulation of the House. He then did nothing besides it. I then saw the emigrants (Muhajirin) and the helpers (Ansar) doing like this and nothing besides it. And the last one whom I saw doing like this was Ibn 'Umar. And he did not break it (the Hajj) after performing 'Umra. And Ibn 'Umar is with them. Why don't they ask him (to testify it)? And none amongst those who had passed away commenced (the rituals of Hajj) but by circumambulating the Ka'ba on their (first arrival) and they did not put off Ihram (without completing the Hajj), and I saw my mother and my aunt commencing (their Hajj) with the circumambulation of the House, and they did not put off Ihram. My mother informed me that she came and her sister, and Zubair and so and so for 'Umra, and when they had kissed the corner (the Black Stone, after Sa'i and circumambulation), they put off Ihram. And he (the 'Iraqi) has told a lie in this matter.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَقُمْ عَلَی إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ فَلَمْ يَکُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ وَکَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ قَالَتْ فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَی الزُّبَيْرِ فَقَالَ قُومِي عَنِّي فَقُلْتُ أَتَخْشَی أَنْ أَثِبَ عَلَيْکَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، ابن جریج، زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، منصور بن عبدالرحمن ، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم احرام باندھے ہوئے نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس قربانی کا جانور ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے اور میرے پاس قربانی کو جانور نہیں تھا تو میں حلال ہوگئی احرام کھول ڈالا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس قربانی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے کپڑے پہنے پھر میں نکلی اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر بیٹھ گئی تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے کھڑی ہو جا کیونکہ میں احرام کی حالت میں ہوں حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا کہ کیا تمہیں ڈر ہے کہ میں تجھ پر کود پڑوں گی۔
Asma bint Abu Bakr (Allah be pleased with both of them) reported: We set out (to Mecca) in a state of Ihram. Allah's Messenger (may peace be upon him) said: He who has the sacrificial animal with him should remain in the state of Ihram, but he who has not the sacrificial animal with him should put off Ihram. As I had not the sacrificial animal with me, I put off Ihram. And since Zubair (her husband) - had the sacrificial animal with him, he did not put off Ihram. She (Asma) said: I put on my clothes and then went out and sat by Zabair, whereupon he said: Go away from me, whereupon I said: Do you fear that I would jump upon you?
و حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ اسْتَرْخِي عَنِّي اسْتَرْخِي عَنِّي فَقُلْتُ أَتَخْشَی أَنْ أَثِبَ عَلَيْکَ
عباس بن عبدالعظیم عنبری، ابوہشام مغیرہ، ابن سلمہ مخزومی، وہب، منصور بن عبدالرحمن ، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے آئے پھر ابن جریج کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی سوائے اس کے اس میں سے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے دور ہو جا میں نے کہا کہ مجھ سے ایسے ڈرتے ہو کہ میں تجھ پر کود پڑوں گی۔
Asma bint Abu Bakr (Allah be pleased with both of them) reported: We set out (to Mecca) in a state of Ihram. Allah's Messenger (may peace be upon him) said: He who has the sacrificial animal with him should remain in the state of Ihram, but he who has not the sacrificial animal with him should put off Ihram. As I had not the sacrificial animal with me, I put off Ihram. And since Zubair (her husband) - had the sacrificial animal with him, he did not put off Ihram. She (Asma) said: I put on my clothes and then went out and sat by Zabair, whereupon he said: Go away from me, whereupon I said: Do you fear that I would jump upon you?
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَی أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ أَنَّهُ کَانَ يَسْمَعُ أَسْمَائَ کُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ تَقُولُ صَلَّی اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَاهُنَا وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافُ الْحَقَائِبِ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنْ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ قَالَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ أَنَّ مَوْلَی أَسْمَائَ وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ
ہارون بن سعیدایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو، حضرت ابواسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ جو حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا جب وہ حجون کے مقام سے گزریں تو فرماتیں کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت نازل فرمائے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہاں اترے اور ہمارے پاس اس دن بوجھ تھوڑا تھا اور سواریاں کم تھیں اور زادراہ بھی تھوڑا تھا تو میں نے اور میری بہن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فلاں فلاں نے عمرہ کیا تو جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو ہم حلال ہوگئے اور پھر شام کو ہم نے حج کو احرام باندھا، ہارون نے اپنی روایت میں حضرت اسماء کے مولی ذکر کیا ہے اور عبداللہ کا نام ذکر نہیں کیا۔
Abdullah, the freed slave of Asma' bint Abu Bakr (Allah be pleased with them), narrated that he used to hear Asma, ' whenever she passed by Hajun, saying (these words): "May there be peace and blessing of Allah upon His Messenger." We used to stay here along with him with light burdens. Few were our rides, and small were our provisions. I performed 'Umra and so did my sister 'A'isha, and Zubair and so and so. And as we touched the House (performed circumambulation and Sa'i) we put off Ihram, and then again put on Ihram in the afternoon for Hajj. Harun (one of the narrators) in one of the narrations said: The freed slave of Asma' and he did not mention 'Abdullah.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا وَکَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَی عَنْهَا فَقَالَ هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَائُ فَقَالَتْ قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
محمد بن حاتم، روح بن عبادہ، شعبہ، حضرت مسلم قری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس بارے میں رخصت دے دی جبکہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ موجود ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے تو تم ان کی خدمت میں جاؤ اور ان سے پوچھو تب ہم ان کے پاس گئے تو وہ ایک موٹی اور نابینا عورت تھی ہمارے پوچھنے پر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے۔
Muslim al-Qurri reported: I asked Ibn Abbas (Allah be pleased with them) about Tamattu' in Hajj and he permitted it, whereas Ibn Zubair had forbidden it. He (Ibn 'Abbas) said: This is the mother of Ibn Zubair who states that Allah's Messenger (may peace be upon him) had permitted it, so you better go to her and ask her about it. He (Muslim al-Qurri said): So we went to her and she was a bulky blind lady and she said: Verily Allah's Messenger (may peace be upon him) permitted it.
و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِي حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ فَقَالَ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ مُسْلِمٌ لَا أَدْرِي مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَائِ
ابن مثنی، عبدالرحمن ، ابن بشار، محمد یعنی ابن جعفر، حضرت شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے باقی عبدالرحمن نے اپنی حدیث مبارکہ میں متعہ کا لفظ کہا اور مُتْعَةُ الْحَجِّ کا لفظ نہیں کہا اور ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ شعبہ نے کہا ہے کہ مسلم قری نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ (مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ) کہا۔
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters, but with a slight variation of words.
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ فَکَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلَمْ يَحِلَّ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت مسلم قری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں نے حج کو احرام باندھا تو نہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال ہوئے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے جو قربانی ساتھ لایا تھا وہ حلال ہوئے اور ان میں سے باقی صحابہ حلال ہوگئے اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہی حضرات میں سے تھے جن کے ساتھ قربانی تھی اس لئے وہ حلال نہیں ہوئے احرام نہیں کھولا۔
Muslim al-Qurri heardlbn 'Abbas (Allah be pleased with them) saying that Allah's Apostle (may peace be upon him) entered into the state of Ihram for Umra and his Companions for Hajj. Neither Allah's Apostle (may peace be upon him) nor those among his Companions who had brought sacrificial animals with them put off Ihram, whereas the rest (of the pilgrims) did so. Talha b. Ubaidullah was one of those who had brought the sacrificial animals along with them so he did not put off Ihram.
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَکَانَ مِمَّنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا
محمد بن بشار، محمد یعنی ابن جعفر، طلحہ بن عبیداللہ اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں ہے کہ جن کے پاس قربانی نہیں تھی وہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک دوسرے آدمی تھے تو وہ دونوں حلال ہوگئے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with this variation (of words): "Talha and another person also were among those who had not brought the sacrificial animals with them and so they put off Ihram."