حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَدَعَا لِأَهْلِهَا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ وَإِنِّي دَعَوْتُ فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَکَّةَ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن محمد، عمرو بن یحیی، عباد بن تمیم، عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور مکہ میں رہنے والوں کے لئے دعا فرمائی تھی اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ کے صاع اور اس کے مد میں اس سے دوگنی برکت کی دعا کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ والوں کے لئے کی تھی۔
'Abdullah b. Zaid b. 'Asim (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Verily Ibrahim declared Mecca sacred and supplicated (for blessings to be showered) upon its inhabitants, and I declare Medina to be sacred as Ibrahim had declared Mecca to be sacred. I have supplicated (Allah for His blessings to be showered) in its sa' and its mudd (two standards of weight and measurement) twice as did Ibrahim for the inhabitants of Mecca.
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی هُوَ الْمَازِنِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ فَکَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ فَفِي رِوَايَتِهِمَا مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ
ابوکامل، عبدالعزیز، ابن مختار، ابوبکر بن ابی شبیہ، حضرت عمر بن یحیی سے ان سندوں سے اس طرح روایت نقل کی گئی ہے ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان دعاؤں سے دوگنا دعائیں کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعائیں مانگیں تھیں۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْمَدِينَةَ
قتیبہ بن سعید، بکر، ابن مضر، ابن ہاد، ابی بکر بن محمد، عبداللہ بن عمرو بن عثمان، حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں اس کے دونوں پتھریلے کناروں والی جگہ یعنی مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔
Rafi' b. Khadij reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Ibrahim declared Mecca as sacred and I declare sacred the area between its two stony grounds (lava lands by which he meant Medina).
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ خَطَبَ النَّاسَ فَذَکَرَ مَکَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ يَذْکُرْ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ مَا لِي أَسْمَعُکَ ذَکَرْتَ مَکَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ تَذْکُرْ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا وَذَلِکَ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُکَهُ قَالَ فَسَکَتَ مَرْوَانُ ثُمَّ قَالَ قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِکَ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال عتبہ، بن مسلم، حضرت نافع بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے مکہ اور مکہ کے رہنے والوں اور مکہ کی حرمت کا تذکرہ کیا تو رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مروان کو پکارا اور فرمایا کہ میں تجھ سے کیا سن رہا ہوں کہ تو مکہ اور مکہ والوں کا اور مکہ کی حرمت کا ذکر کر رہا ہے اور تو مدینہ اور مدینہ کے رہنے والوں اور مدینہ کی حرمت کا ذکر نہیں کر رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پتھریلے علاقے کے دونوں کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے اور یہ حکم نامہ ہمارے پاس خولانی چمڑے پر لکھا ہوا موجود ہے اگر تو چاہے تو میں اس سے پڑھ کر سناؤں راوی کہتے ہیں کہ مروان خاموش ہوگیا پھر کہا میں نے کچھ اسی طرح سنا ہے۔
Nafi' b. Jubair reported that Marwan b. al-Hakam (Allah be pleased with him) addressed people and made mention of Mecca and its inhabitants and its sacredness, but he made no mention of Medina, its inhabitants and its sacredness. Rafi' b. Khadij called to him and said: What is this that I hear you making mention of Mecca and its inhabitants and its sacredness, but you did not make mention of Medina and its inhabitants and its sacredness, while the Apostle of Allah (may peace be upon him) has also declared sacred (the area) between its two lava lands (Medina)? And (we have record of this) with us written on Khaulani parchment. If you like, I can read it out to you. Thereupon Marwan became silent, and then said: I too have heard some part of it.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا
ابوبکر بن ابی شبیہ، عمرو، ابی احمد، ابوبکر، محمد بن عبد اللہ، سفیان، ابوزبیر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں مدینہ کے دونوں طرف کے پتھریلے علاقے کے درمیانی حصہ میں سے نہ کوئی درخت کاٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جانور کا شکار کیا جا سکتا ہے۔
Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: Ibrahim declared Mecca as sacred; I declare Medina, that between the two mountains, as inviolable. No tree should be lopped and no game is to be molested.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا وَقَالَ الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَی لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عثمان بن حکیم، حضرت عامر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیتا ہوں نہ تو مدینہ کے خاردار درختوں کو کاٹا جائے گا اور نہ ہی مدینہ کے شکار کو قتل کیا جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ یہ جان لیں تو جو آدمی مدینہ سے اعراض کر کے یہاں رہنے کو چھوڑ دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں یہاں ایسے آدمی کو جگہ عطا فرمائیں گے جو اس سے بہتر ہوگا اور جو آدمی بھی مدینہ کی بھوک پیاس اور محنت ومشقت پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔
Amir b. Sa'd reported on the authority of his father (Allah be pleased with him) that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: I have declared sacred the territory between the two lava plains of Medina, so its trees should not be cut down, or its game killed; and he also said: Medina is best for them if they knew. No one leaves it through dislike of it without Allah putting in it someone better than he in place of him; and no one will stay there in spite of its hardships and distress without my being an intercessor or witness on behalf of him on the Day of Resurrection.
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوئٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَائِ
ابن ابی عمر مروان بن معاویہ، عثمان بن حکیم، حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی اور اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ کوئی آدمی مدینہ والوں کو کوئی تکلیف دنیے کا ارادہ نہ کرے ورنہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں اس طرح پگھلائے گا جیسا کہ سیسہ پگھلتا ہے یا فرمایا کہ جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے مدینہ والوں کو تکلیف دینے والا آگ میں اسی طرح پگھلے گا۔
'Amir b. Sa'd b. Abu Waqqas reported on the authority of his father (Allah be pleased with him) that Allah's Messenger (may peace be upon him) said, and then the (above-mentioned) hadith was narrated with this addition: "None should nurse ill-will towards the people of Medina, or Allah will melt him in fire like the melting of lead or the dissolution of salt in water.
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ الْعَقَدِيِّ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَکِبَ إِلَی قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَائَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَکَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَی غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَی أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ
اسحاق بن ابراہیم، حمید، عقدی عبدالملک، بن عمرو، عبداللہ بن جعفر، اسماعیل بن محمد، حضرت عامر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مکان عقیق کی طرف گئے تو انہوں نے وہاں ایک غلام کو درخت کاٹتے ہوئے پایا یا اس درخت کے کانٹے کاٹتے ہوئے پایا یا اس درخت کے کانٹے توڑ رہا تھا تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا سامان چھین لیا تو جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آئے تو اس غلام کے گھر والوں نے آپ سے بات کی تاکہ وہ سامان اس غلام کو یا اس کے گھر والوں کو واپس کردیں تو حضرت سعد نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ کہ میں وہ چیز واپس کر دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دی ہے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔
'Amir b. Sa'd reported that Sa'd rode to his castle in al-'Aqiq and found a slave cutting down the trees, or beating off their leaves, so he stripped him off his belongings. When Sa'd returned, there came to him the masters of the slave and negotiated with him asking him to return to their slave or to them what he had taken from their slave, whereupon he said: God forbid that I should return anything which Allah's Messenger (may peace be upon him) has given me as spoil, and refused to return anything to them.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِکُمْ يَخْدُمُنِي فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَائَهُ فَکُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا نَزَلَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّی إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَی الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ
یحیی بن ایوب بن سعید، قتیبہ ابن حجر، اسماعیل، ابن ایوب، ابن جعفر، عمرو بن ابی عمرو، مطلب بن عبداللہ بن حنظب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو تاکہ وہ میری خدمت کرے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لے آئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترتے اور راوی نے کہا کہ اس حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے احد پہاڑ ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ مدینہ والوں کے لئے ان کے مد اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said to Abu Talha (Allah be pleased with him): Find for me a servant from amongst your boys to serve me. Abu Talha went out along with me and made me sit behind him. And I used to serve Allah's Messenger (may peace be upon him) whenever he got down from the camel. And in one hadith he said: He proceeded and when (the mountain of) Uhud was within sight, he said: This is the mountain which loves us and we love it. And as he came close to Medina he said: O Allah, I declare (the area) between the two mountains of it (Medina) sacred just as Ibrahim declared Mecca as sacred. O Allah, bless them (the people of Medina) in their mudd and sa'.
و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابن عبدالرحمن، عمرو ابن ابی عمرو، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Anas b. Malik reported a hadith like this from Allah's Apostle (may peace be upon him) except with this variation that he said: "I declare sacred the area between its two lava mountains."
و حَدَّثَنَاه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ مَا بَيْنَ کَذَا إِلَی کَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي هَذِهِ شَدِيدَةٌ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا قَالَ فَقَالَ ابْنُ أَنَسٍ أَوْ آوَی مُحْدِثًا
حامد بن عمر، عبدالواحد، عاصم، انس بن مالک، حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہاں فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک تو جو آدمی مدینہ میں کوئی نیا کام یعنی کوئی جرم وغیرہ کرے گا حضرت عاصم کہتے ہیں کہ پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ یہ بہت سخت گناہ ہوگا کہ جو آدمی مدینہ میں کوئی نیا کام یعنی کوئی گناہ وغیرہ کرے گا تو اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت بر سے گی قیامت کے دن اس آدمی سے نہ کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل عبادت قبول کی جائے گی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یا کسی نے ایسے آدمی کو پناہ دی تو وہ بھی اسی سزا کی زد میں ہوگا۔
'Asim reported: I asked Anas b. Malik whether Allah's Messenger (may peace be upon him) had declared Medina as sacred. He said: Yes. (the area) between so and so. He who made any innovation in it, and further said to me: It is something serious to make any innovation in it (and he who does it) there is upon him the curse of Allah, and that of the angels and of all the people, Allah will not accept from him on the Day of Resurrection either obligatory acts or the surpererogatory acts. Ibn Anas said: Or he accommodates an innovator.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَی خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، عاصم، انس، حضرت عاصم احول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! مدینہ کی گھاس تک کاٹنا حرام ہے اور جو اس طرح کرے گا اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔
'Asim reported: I asked Anas (Allah be pleased with him) whether Allah's Messenger (may peace be upon him) had declared Medina as sacred. He said: Yes, it is sacred, so its tree is not to be cut; and he who did that let the curse of Allah and that of the angels and of all people be upon him.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مِکْيَالِهِمْ وَبَارِکْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَبَارِکْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ
قتیبہ بن سعید، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ان کے لئے ان کے پیمانے میں برکت عطاء فرما اور ان کے لئے ان کے صاع میں اور ان کے لئے ان کے مد میں بھی برکت عطا فرما۔
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Allah bless them in their measurements, bless them in their sa's and bless them in their mudd.
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَکَّةَ مِنْ الْبَرَکَةِ
زہیر بن حرب، ابراہیم بن محمد، وہب بن جریر، یونس، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ مدینہ میں اس سے دو گنا برکتیں فرما جتنی برکتیں مکہ میں تو نے نازل فرمائیں۔
Anas b. Malik (Allah he pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: O Allah, increase in Medina twice the blessings (Thou showered) on Mecca.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا کِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ قَالَ وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ فَقَدْ کَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَأَشْيَائُ مِنْ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ وَمَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَی إِلَی غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَانْتَهَی حَدِيثُ أَبِي بَکْرٍ وَزُهَيْرٍ عِنْدَ قَوْلِهِ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ وَلَمْ يَذْکُرَا مَا بَعْدَهُ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ و زہیر بن حرب و ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حضرت ابراہیم تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ جو آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ ہمارے پاس وہ چیز جسے ہم پڑھتے ہیں سوائے اللہ کی کتاب اور اس صحیفے کے اس صحیفے کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو آپ کی تلوار کی نیام کے ساتھ لٹکا ہوا تھا اس طرح کا خیال کرنے والا آدمی جھوٹا ہے اس صحیفے میں تو اونٹوں کی عمروں اور کچھ زخموں کی دیت کا ذکر ہے اور اس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عیر پہاڑ اور ثور پہاڑ تک کے درمیان مدینہ کو جو علاقہ ہے یہ حرم ہے تو جو آدمی اس حرم میں کوئی گناہ کرے گا یا کسی مجرم آدمی کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن اللہ اس سے نہ کوئی فرض اور نہ کوئی نفل قبول کریں گے اور پناہ دینا تمام مسلمانوں کو ایک ہی ہے ان میں سے ادنیٰ مسلمان کی پناہ دینے کو بھی اعتبار کیا جاتا ہے اور جس آدمی نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کی طرف کی یا جس غلام نے اپنے آپ کو اپنے مالک کے غیر کی طرف منسوب کیا اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی بھی لعنت اللہ اس سے قیامت کے دن نہ کوئی اس کا فرض اور نہ کوئی اس کا نفل قبول کرے گا ابوبکر کی حدیث یہاں پوری ہوگئی ہے اور زبیر کی روایت اس قول تک تھی جہاں ادنی مسلمانوں کی پناہ کا ذکر آتا ہے اور اس کے بعد کا بھی اس میں ذکر نہیں اور ان دونوں حدیثوں میں صحیفہ کا تلوار کی نیام میں لٹکے ہوئے ہونے کا بھی ذکر نہیں۔
Ibrahim al-Taimi reported on the authority of his father: 'Ali b. Abi Talib (Allah be pleased with him) addressed us and said: He who thought that we have besides the Holy Qur'an anything else that we recite, he told a lie. And this document which is hanging by the sheath of the sword contains but the ages of the camels, and the nature of the wounds. He (Hadrat 'Ali) reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: Medina is sacred from 'Air to Thaur; So if anyone makes an innovation or accommodates an innovator, the curse of Allah, the angels, and all persons will fall upon him, and Allah will not accept any obligatory or supererogatory act as recompense from them. And the protection granted by the Muslims is one and must be respected by the humblest of them. If anyone makes a false claim to paternity, or being a client of other than his own masters, there is upon him the curse of Allah, the angels, and all the people. Allah will not accept from him any recompense in the form of obligatory acts or supererogatory acts. The hadith transmitted on the authority of Abu Bakr and Zubair ends with (these words): The humblest among them should respect it; and what follows after it is not mentioned there, and in the hadith transmitted by them (these words are) not found: (The document was hanging) on the sheath of his sword.
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي کُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ إِلَی آخِرِهِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا مَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ وَکِيعٍ ذِکْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
علی بن حجر، سعد، علی بن مسہر، ابوسعید، وکیع، اعمش، ابوکریب، ابومعاویہ سے ان سندوں کے ساتھ ابوکریب کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ جو آدمی کسی مسلمان کی پناہ توڑے گا تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن نہ اس سے اس کا کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل قبول کیا جائے گا۔
A hadith like this has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters (but at the end) these words are added: "He who violated the covenant with a Muslim, there is upon him the curse of Allah, of angels and of all people. Neither an obligatory act nor a supererogatory act would be accepted from him as recompense on the Day of Resurrection; and in the hadith transmitted by two other narrators these words are not found: "He who claimed false paternity." And in the hadith transmitted by Waki' there is no mention of the Day of Resurrection.
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَوَکِيعٍ إِلَّا قَوْلَهُ مَنْ تَوَلَّی غَيْرَ مَوَالِيهِ وَذِکْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ
عبیداللہ بن عمرو، محمد بن ابی بکر، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان سندوں کے ساتھ ابن مسہر اور وکیع کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated with the same chain of transmitters by A'mash with a slight variation of words.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین، بن علی زائدہ، سلیمان، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ حرم ہے تو جو آدمی اس حرم میں کوئی نیا کام یعنی گناہ وغیرہ کرے گا یا ایسے کرنے والے کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن نہ اس سے کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل قبول کیا جائے گا۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: Medina is a sacred territory, so he who made any innovation in it or gave protection to an innovator, there is upon him the curse of Allah, that of the angels and that of all the people. There would not be accepted on the Day of Resurrection either obligatory acts or supererogatory acts from him.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزَادَ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ
ابوبکر بن نضر بن ابونضر، عبید اللہ، سفیان، حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے لیکن اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے اور ایک عام مسلمان کے پناہ دینے کا اعبتار کیا جا سکتا ہے تو جو آدمی کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے گا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی قیامت کے دن اس سے کوئی نفل اور نہ کوئی فرض قبول کیا جائے گا۔
A hadith like this has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but no mention has been made of the Day of Resurrection. But this addition is made: "The protection granted by Muslims is one and must be respected by the humblest of them. And he who broke the covenant made by a Muslim, there is a curse of Allah, of his angels, and of the whole people upon him, and neither an obligatory act nor a supererogatory act would be accepted from him as recompense on the Day of Resurrection."
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَائَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ
یحیی بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہرنیوں کو چرتا ہوا دیکھوں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دو پتھریلے کناروں کی درمیانی جگہ حرم ہے
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported: If I were to see deer grazing in Medina, I would have never molested them, for Allah's Messenger (may peace be upon him) has stated: There is between the two lava mountains a sacred territory.
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَائَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا وَجَعَلَ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حَوْلَ الْمَدِينَةِ حِمًی
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، اسحاق ، عبدالرزاق، معمر، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ میں ہرنیوں کو چرتا ہوا دیکھوں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کو حرم قرار دیا ہے۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) declared sacred the territory between two lava mountains of Medina. Abu Huraira said: If I were to find deer in the territory between the two mountains, I would not molest them, and he (the Holy Prophet) declared twelve miles of suburb around Medina as a prohibited pasture.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَائُوا بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُکَ وَخَلِيلُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنِّي عَبْدُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنَّهُ دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوکَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِکَ الثَّمَرَ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب لوگ شروع کا پھل دیکھتے تو وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لے آتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے پکڑتے اور دعا فرماتے اے اللہ ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت عطا فرما اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں اور انہوں نے مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تجھ سے ان دعاؤں کا دو گنا کی دعا کرتا ہوں جو کہ تجھ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لئے کی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چھوٹے بچے کو بلا کر اسے یہ پھل عطا فرماتے۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that when the people saw the first fruit (of the season or of plantation) they brought it to Allah's Apostle (may peace be upon him). When he received it he said: O Allah, bless us in our fruits; and bless us in our city; and bless us in our sa's and bless us in our mudd. O Allah, Ibrahim was Thy servant, Thy friend, and Thy apostle; and I am Thy servant and Thy apostle. He (Ibrahim) made supplication to Thee for (the showering of blessings upon) Mecca, and I am making supplication to Thee for Medina just as he made supplication to Thee for Mecca, and the like of it in addition. He would then call to him the youngest child and give him these fruits.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُؤْتَی بِأَوَّلِ الثَّمَرِ فَيَقُولُ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَفِي ثِمَارِنَا وَفِي مُدِّنَا وَفِي صَاعِنَا بَرَکَةً مَعَ بَرَکَةٍ ثُمَّ يُعْطِيهِ أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنْ الْوِلْدَانِ
یحیی بن یحیی، عبدالعزیز بن محمد، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہلا پھل لایا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں اور ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت در برکت عطا فرما پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ پھل جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود ہوتا لڑکوں میں سے سب سے چھوٹے کو عطا فرماتے۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) was given the first fruit and he said: O Allah, shower blessings upon us in our city, and in our fruits, in our mudd and in our sa's, blessings upon blessings, and he would then give that to the youngest of the children present there.