TrueHadith

اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 253

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ

ابوربیع، زہرانی، عباد، ابن عوام، شیبانی، حضرت سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زر بن حبیش سے اللہ کے فرمان (فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی) کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔

Al-Shaibini reported to us: I asked Zirr b. Hubaish about the words of Allah (the Mighty and Great):" So he was (at a distance) of two bows or nearer" (al-Qur'an, Iiii 8). He said: Ibn Mas'ud informed me that, verily, the Apostle of Allah (may peace be upon him) saw Gabriel and he had six hundred wings.

Permalink

Sahih MuslimHadith 254

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، شیبانی، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی میں دیکھنے سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔

Al-Shaibani narrated on the authority of Zirr who narrated it on this authority of Abdullah that the (words of Allah):" The heart belied not what he saw" (al Qur'an, Iiii. 11) imply that he saw Gabriel (peace be upon him) and he had six hundred wings.

Permalink

Sahih MuslimHadith 255

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ

عبیداللہ بن معاذ عبنری، شعبہ، سلیمان، شیبانی، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں (لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں اس دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔

Zirr b. Hubaish narrated it on the authority of 'Abdullah (that the words of Allah):" Certainly he saw of the greatest signs of Allah" (al-Qur'an, liii. 18) imply that he saw Gabriel in his (original) form and he had six hundred wings.

Permalink

Sahih MuslimHadith 256

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبدالملک، عطاء، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی) کے بارے میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا۔

It is narrated on the authority of Abu Huraira that the (words of Allah):" And certainly he saw him in another descent" (al-Qur'an, Iiii. 13) imply that he saw Gabriel.

Permalink

Sahih MuslimHadith 257

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَآهُ بِقَلْبِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، عبدالملک، عطاء، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔

It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that he (the Holy Prophet) saw (Allah) with, his heart.

Permalink

Sahih MuslimHadith 258

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی قَالَ رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، عبدالملک، عطاء، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی) سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں دو مرتبہ دیکھا۔

It is narrated on the authority of Ibn Abbas that the words:" The heart belied not what he saw" (al-Qur'an, Iiii. 11) and" Certainly he saw Him in another descent" (al-Qur'an, Iiii. 13) imply that he saw him twice with his heart.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1210438)

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا أَبُو جَهْمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، زیاد بن حصین، ابی جہمہ، ابوعالیہ سے روایت ہے کہ ہم سے حضرت ابوجہمہ نے اسی سند کے ساتھ روایت نقل فرمائی۔

Abu Bakr b. Abi Shaiba narrated it on the same authorities.

Permalink

Sahih MuslimHadith 259

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ ثَلَاثٌ مَنْ تَکَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ قَالَ وَکُنْتُ مُتَّکِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی فَقَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَی صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنْ السَّمَائِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَائِ إِلَی الْأَرْضِ فَقَالَتْ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَا تُدْرِکُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِکُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُکَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَائُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَکِيمٌ قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَتَمَ شَيْئًا مِنْ کِتَابِ اللَّهِ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَکُونُ فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ

زہیر بن حرب، اسماعیل ابن ابراہیم، داو د، شعبی، حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تکیہ لگائے بیٹھا تھا انہوں نے فرمایا اے ابوعائشہ (یہ انکی کنیت ہے) تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر کوئی ان کا قائل ہو جائے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا میں نے عرض کیا وہ تین باتیں کونسی ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ایک تو یہ ہے کہ جس نے خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا مسروق کہتے ہیں کہ میں تکیہ لگائے بیٹھا تھا میں نے یہ سنا تو اٹھ کر بیٹھ گیا میں نے عرض کیا اے ام المومنین مجھے بات کرنے دیں اور جلدی نہ کریں کیا اللہ نے نہیں فرمایا (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى) 53۔ النجم : 3) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمانے لگیں کہ اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان آیتوں سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں میں نے انہیں ان کی اصل صورت میں نہیں دیکھا سوائے دو مرتبہ کے جس کا ان آیتوں میں ذکر ہے میں نے دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے تھے اور ان کے تن وتوش کی بڑائی نے آسمان سے زمین تک کو گھیر رکھا ہے اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) 6۔ الانعام : 103) کیا تو نے اللہ عز وجل کا یہ ارشاد نہیں سنا (وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَا ي ِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِه مَا يَشَا ءُ اِنَّه عَلِيٌّ حَكِيْمٌ ) 42۔ الشوری : 51) یعنی اس کی آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے اور وہی لطیف وخبیر ہے اور کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ سے باتیں کرے مگر وحی یا پر دے کے پیچھے سے اور دوسری آیت یہ ہے کہ جو کوئی خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ) اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب کی طرف سے اترا ہے اس کی تبلیغ کیجئے اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا نہ کریں گے تو آپ حق رسالت ادا نہ کریں گے اور تیسری بات یہ کہ جو آدمی یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئندہ ہونے والی باتوں کو جانتے تھے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا اور اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما دیجئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے سوا کوئی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔

It is narrated on the authority of Masruq that he said: I was resting at (the house of) 'A'isha that she said: O Abu 'A'isha (kunya of Masruq), there are three things, and he who affirmed even one of them fabricated the greatest lie against Allah. I asked that they were. She said: He who presumed that Muhammad (may peace be upon him) saw his Lord (with his ocular vision) fabricated the greatest lie against Allah. I was reclining but then sat up and said: Mother of the Faithful, wait a bit and do not be in a haste. Has not Allah (Mighty and Majestic) said:" And truly he saw him on the clear horizon" (al-Qur'an, lxxxi. 23) and" he saw Him in another descent" (al-Qur'an, iiii. 13)? She said: I am the first of this Ummah who asked the Messenger of Allah (may peace be upon him) about it, and he said: Verily he is Gabriel. I have never seen him in his original form in which he was created except on those two occasions (to which these verses refer) ; I saw him descending from the heaven and filling (the space) from the sky to the earth with the greatness of his bodily structure. She said: Have you not heard Allah saying." Eyes comprehend Him not, but He comprehends (all) vision. and He is Subtle, and All-Aware" (al-Qur'an, v. 104)? (She, i. e. 'A'isha, further said): Have you not heard that, verily, Allah says:" And it is not vouchsafed to a human being that Allah should speak unto him otherwise than by revelation, or from behind a veil, or that He sendeth a messenger (angel), so that he revealth whatsoever He wills. Verily He is Exalted. Wise" (al. Qur'an, xii. 51) She said: He who presumes that the Messengerof Allah (may peace be upon him) concealed anything, from the Book, of Allah fabricates the greatest lie against Allah. Allah says:" O Messenger! deliver that which has been revealed to thee from thy Lord, and if thou do (it) not, thou hast not delivered His message" (al-Qur'an, v. 67). She said: He who presumes that he would inform about what was going to happen tomorrow fabricates the greatest lie against Allah. And Allah says" Say thou (Muhammad): None in the heavens and the earth knoweth the unseen save Allah" (al-Qur'an, xxvii 65).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1210440)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ قَالَتْ وَلَوْ کَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ لَکَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِکْ عَلَيْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِکَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب، داؤد نے اسی سند کے ساتھ ابن علیہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے جو آپ پر نازل ہوا تو اس آیت کو چھپاتے ( وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخْ فِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰ ىهُ) 33۔ الاحزاب : 37) اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انعام کیا کہ اپنی زوجہ مطہرہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دل میں وہ بات بھی چھپائے ہوئے تھے جسکو اللہ آخر میں ظاہر کرنے والا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے طعن سے ڈر رہے تھے اور ڈرنا تو اللہ ہی سے سزاوار ہے۔

Dawud reported on the same authorities the hadith as narrated above by Ibn 'Uliyya and added: She ('A'isha) said: If Muhammad were to conceal anything which was sent to him, he would have certainly concealed this verse:" And when thou saidst to him on whom Allah had conferred favour and thou too had conferred favour: Keep thy wife to thyself and fear Allah, and thou wast concealing in thy heart that which Allah was going to disclose, and thou wast fearing men while Allah has a better right that thou shouldst fear Him."

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1210441)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ رَأَی مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ

ابن نمیر، اسماعیل، شعبی، مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا سُبْحَانَ اللَّهِ آپ کی یہ بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور پھر واقعہ اس طرح بیان کیا اور داؤد کی روایت زیادہ پوری اور لمبی ہے۔

Masruq reported: I asked 'A'isha if Muhammad (may peace be upon him) had seen his Lord. She replied: Hallowed be Allah, my hair stood on end when you said this, and he (Masruq) narrated the hadith as narrated above. The hadith reported by Diwud is more complete and longer.

Permalink

Sahih MuslimHadith 260

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ فَأَيْنَ قَوْله ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِهِ مَا أَوْحَی قَالَتْ إِنَّمَا ذَاکَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ وَإِنَّهُ أَتَاهُ فِي هَذِهِ الْمَرَّةِ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ أُفُقَ السَّمَائِ

ابن نمیر، اسماعیل شعبی، مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِهِ مَا أَوْحَی) پھر نزدیک ہوئے جبرائیل اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گئے اور دو کمانوں یا اس کے بھی قریب کا فاصلہ رہ گیا اسکے بعد اللہ نے اپنے بندہ کی طرف وحی کی جو بھی کی، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مردوں کی صورت میں آتے تھے اور اس مرتبہ اپنی اصل صورت میں آئے ہیں جس سے آسمان کا سارا کنارہ بھر گیا۔

Masruq reported: I said to 'A'isha: What about the words of Allah:" Then he drew nigh and came down, so he was at a distance of two bows or closer still: so He revealed to His servant what He revealed" (al-Qur'an, liii. 8-10)? She said: It implies Gabriel. He used to come to him (the Holy Prophet) in the shape of men; but he came at this time in his true form and blocked up the horizon of the sky.

Permalink