TrueHadith

اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا ۔

Sahih MuslimHadith 134

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَکِيعٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق، عبداللہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ وکیع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابن نمیر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا اور میں کہتا ہوں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud that Waki told (him) that the Messenger of Allah had observed and Ibn Numair asserted: I heard the Messenger of Allah (may peace be upon him) saying: He who dies associating anything with Allah would enter the Fire (of Hell). 'Abdullah b. Mas'ud said: I say that he who died without associating anything with Allah entered Paradise.

Permalink

Sahih MuslimHadith 135

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ فَقَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ جنت اور دوزخ کو واجب کرنے والی کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔

It is narrated on the authority of Jabir that a man came to the Apostle of Allah (may peace be upon him) and said: Messenger of Allah, what are the two things quite unavoidable? He replied: He who dies without associating anyone with Allah would (necessarily) enter Paradise and he who dies associating anything with Allah would enter the (Fire of) Hell.

Permalink

Sahih MuslimHadith 136

حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِکُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ

ابوایوب غیلانی، سلیمان بن عبید اللہ، حجاج بن شاعر، عبدالملک، ابن عمرو، ابوزبیر جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔ حضرت ابوایوب راوی نے کہا کہ ابوالزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ اسحاق بن منصور، معاذ ابن ہشام ابوزبیر، جابر ایک دوسری سند سے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

It is narrated on the authority of Jabir b. Abdullah: I heard the Messenger of Allah (may peace be upon him) saying: He who met Allah without associating anything with Allah entered Paradise and he who met Him associating (anything) with Him entered Fire. The same hadith has been narrated by Ishaq b. Mansur on the authority of Jabir with another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 137

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، واصل، احدب، معرور بن سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے یہ سن کر عرض کیا اگرچہ وہ آدمی زنا اور چوری کرتا ہو فرمایا خواہ وہ زنا یا چوری کرے۔

I heard Abu Dharr narrating it from the Apostle (may peace be upon him) that he observed: Gabriel came to me and gave me the tidings: Verily he who died amongst your Ummah without associating anything with Allah would enter Paradise. I (the narrator) said: Even if he committed adultery and theft. He (the Holy Prophet) said: (Yes), even if he committed adultery and theft.

Permalink

Sahih MuslimHadith 138

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ يَحْيَی بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدْ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَی ذَلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ عَلَی رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ

زہیر بن حرب، احمد بن خراش، عبدالصمد بن عبدالوارث، حسین، ابن بریدہ، یحیی بن یعمر، ابواسود دیلی ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے میں واپس چلا گیا پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاگ رہے تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندے نے لَا ِالٰہ اِلَّا اللہ کہا اور اس پر وہ مر گیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کی ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو تین مرتبہ فرمایا پھر چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ناک خاک آلود ہو، پھر حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محبت اور شفقت بھر اجملہ دھراتے ہوئے نکلے کہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔

Abu Dharr reported,: I came to the Apostle (may peace be upon him ) and he was asleep with a white mantle over him. I again came, he was still asleep, I came again and he had awakened. I sat by his side and (the Holy Prophet) observed: There is none among the bondsmen who affirmed his faith in La illaha ill-Allah there is no God but Allah) and died in this state and did not enter Paradise. I (Abu Dharr) said: Even if he committed adultery and theft? He (the Holy Prophet) replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. I (again said): Even if he committed adultery and theft? He replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. (Th Holy Prophet repeated it three times) and said for the fourth time: In defiance of Abu Dharr. Abu Dharr then went out and he repeated (these words): In defiance of Abu Dharr.

Permalink