TrueHadith

مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں

Sahih MuslimHadith 170

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ وَقَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَاحْتَبَسَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتٍ اشْتَکَی قَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَکْوَی قَالَ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَکَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِکُمْ صَوْتًا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَکَرَ ذَلِکَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسی، حماد بن سلمہ، ثابت بنانی، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر بلند نہ کرو کہیں تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر ہی میں بیٹھ گئے اور سمجھنے لگے کہ میں دوزخی ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اے ابوعمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ! ثابت کا کیا حال ہے کیا وہ بیمار ہو گئے؟ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ وہ میرے ہمسائے ہیں اور مجھے ان کے بیمار ہونے کا علم نہیں، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے کا ذکر کیا تو حضرت ثابت نے فرمایا کہ یہ آیت نازل ہوگئی اور تم جانتے ہو کہ میری آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تم سب سے زیادہ بلند ہوتی ہے پس میں دوزخی ہوں حضرت سعد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا وہ تو جنتی ہیں۔ (دوزخی نہیں)

It is narrated on the authority of Anas b. Malik that when this verse:" O ye who believe I raise not your voices above the voice of the Prophet, nor shout loud unto him in discourse, as ye shout loud unto one another, lest your deeds should become null and void, while you perceive not" (xlix. 2-5), was revealed. Thabit b. Qais confined himself in his house and said: I am one of the denizens of Fire, and he deliberately avoided coming to the Apostle (may peace be upon him). The Apostle (may peace be upon him) asked Sa'd b, Mu'adh about him and said, Abu Amr, how is Thabit? Has he fallen sick? Sa'd said: He is my neighbour, but I do not know of his illness. Sa'd came to him (Thabit), and conveyed to him the message of the Messenger of Allah (may peace be upon him). Upon this Thabit said: This verse was revealed, and you are well aware of the fact that, amongst all of you, mine is the voice louder than that of the Messenger of Allah, and so I am one amongst the denizens of Fire, Sa'd Informed the Holy Prophet about it. Upon this the Messenger of Allah observed: (Nay, not so) but he (Thabit) is one of the dwellers of Paradise.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1210315)

حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِکْرُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ

قطن بن نسیر، جعفر بن سلیمان، ثابت، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن شماس انصار کے خطیب تھے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی باقی حدیث حماد کی حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں حضرت سعد بن معاذ کا ذکر نہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik by another chain of transmitters in which these words are found: Thabit b. Qais was the orator of the Ansar, when this verse was revealed: the rest of the hadith is the same with the exception that there is no mention of Sa'd b. Mu'adh in it. This hadith is also transmitted by Ahmad b. Sa'id, Habban, Sulaiman b. Mughira on the authority of Anas who said: When the verse was revealed:" Do not raise your voice louder than the voice of the Apostle," no mention was made of Sa'd b, Mu'adh in it.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1210316)

حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَمْ يَذْکُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ

احمد بن سعید بن صخر دارمی، حبان، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک، رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر بلند نہ کرو اور حدیث مبارکہ میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر نہیں۔

-

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1210317)

حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْکُرُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْکُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ وَزَادَ فَکُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

ہریم بن عبدالاعلی اسدی، معتمر بن سلیمان، انس سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس حدیث میں بھی ذکر نہیں صرف اتنا زائد ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے درمیان پا کر یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے درمیان ایک جنتی آدمی چل رہا ہے۔

This hadith is narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters in which there is no mention of Sa'd b. Mu'adh, but the following words are there: We observed a man, one of the dwellers of Paradise, walking about amongst us.

Permalink