حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَی الْمَوْتِ
قتیبہ بن سعید، لیث بن سعد، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر، جابر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم صلح حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے بیٹھے تھے اور یہ درخت کیکر کا تھا اور ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں اور موت پر بیعت نہیں کی تھی۔
It has been narrated on the authority of Jabir who said: We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya. We swore fealty to hiin (the Holy Prophet) and 'Umar was holding the latter's hand (when he was sitting) under the tree (called) Samura (to administer the oath to the Companions). The narrator added: We took oath to the effect that we would not flee (from the battlefield if there was an encounter with the Meccans), but we did not take oath to fight to death.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن عیینہ، ابن نمیر، سفیان، ابی زبیر، جابر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی تھی بلکہ ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said: While swearing fealty to the Holy Prophet (may peace be upon him) we did not take the oath to death but that we would not run away (from the battlefield).
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ کَمْ کَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ کُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ
محمد بن حاتم، حجاج، ابن جریج، ابوزبیر، جابر، حضرت ابوزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ وہ صلح حدیبیہ کے دن کتنے تھے تو انہوں نے کہا ہم چودہ سو تھے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک درخت کے نیچے جو کہ کیکر کا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے سوائے جد بن قیس انصاری کے وہ اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔
It has been narrated on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to how many people were there on the Day of Hudaibiya He replied: We wore fourteen hundred. We swore fealty to him, and Umar was holding his hand while he was sitting Under the tree (to administer the oath). The tree was Samura (a wild tree found in desers). All of as took tha oath of fealty at his hands except Jadd b. Qais al-Ansari who hid himself under the belly of his camel.
و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ مَوْلَی سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ لَا وَلَکِنْ صَلَّی بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ
ابراہیم بن دینار ، حجاج بن محمد اعور مولی سلیمان بن مجالد، ابن جریج، ابوزبیر، جابر، حضرت ابوزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت کی تھی انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی تھی سوائے حدیبیہ کے درخت کے کسی جگہ کے درخت کے پاس بیعت نہیں لی ابوزبیر کہتے ہیں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدبیہ کے کنوئیں پر دعا فرمائی تھی۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to whether the Holy Prophet (may peace be upon him) took the oath of fealty at Dhu'l-Hulaifa. He said: No! But he offered his prayers at that place, and he administered the oath of fealty nowhere except near the tree in (the plain of Hudaibiya. Ibn Juraij said that he was informed by Abu Zabair who heard Jabir b. Abdullah say: The Holy Prophet (may peace be upon him) prayed over the well at Hudaibiya (as a result of which its scanty water rose up and increased so as to be sufficient for the 1400 or 1500 men who had encamped at the place).
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ و قَالَ جَابِرٌ لَوْ کُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُکُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ
سعید بن عمرو اشعثی، سوید بن سعید اسحاق بن ابراہیم، احمد بن عبدہ، سعید، عمرو، جابر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا آج کے دن تم اہل زمین میں سب سے افضل ہو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر میری بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said: We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya when the Holy Prophet (may peace be upon him) said to us: Today you are the best people on the earth. And Jabir said: If I had the eyesight, I could show you the place of the tree.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَقَالَ لَوْ کُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا کُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، سالم بن ابی جعد، جابر بن عبد اللہ، حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی الجعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اصحاب شجرہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ہم ایک ہزار پانچ سو تھے اگر ہم ایک لاکھ ہوتے تو (بھی وہ پانی) ہمیں کافی ہو جاتا۔
It has been narrated on the authority of Salim b. Abu al-Ja'd who said: I asked Jabir b. 'Abdullah about the number of the Companions (of the Holy Prophet who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ کِلَاهُمَا يَقُولُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَوْ کُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا کُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس، رفاعہ بن ہیثم، خالد طحان، حصین سالم ابن ابی جعد، جابر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم پندرہ سو تھے اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو (وہ پانی) ہمیں کافی ہو جاتا۔
It has been narrated on the authority of Salim b. Abu al-Ja'd who said: I asked Jabir b. 'Abdullah about the number of the Companions (of the Holy Prophet who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred.
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ کَمْ کُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق ، عثمان، جریر، اعمش، حضرت سالم بن ابی جعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تم اس دن کتنی تعداد میں تھے انہوں نے کہا ایک ہزار چار سو۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Salim b. al-Ja'd who said: I asked Jabir: How many were you on the Day of Hudaibiya? He said: One thousand and four hundred.
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَی قَالَ کَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ وَکَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اصحاب شجرہ ایک ہزار تین سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔
It has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Abu Aufa who said: The Companions of the Tree (i e. those who swore fealty under the tree) were one thousand and three hundred, and the people of Aslam tribe were one-eighth of the Muhajirs.
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابن مثنی، ابوداؤد، اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، شعبہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَی الْمَوْتِ وَلَکِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ
یحیی بن یحیی، یزید بن زریع، خالد، حکم بن عبداللہ بن اعرج، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے بیعت رضوان کا واقعہ یاد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے بیعت لے رہے تھے اور اس درخت کی شاخوں میں سے ایک ٹہنی کو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس سے ہٹا رہا تھا ہم چودہ سو تھے ہم نے موت پر بیعت نہیں کی لیکن ہماری بیعت اس پر تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔
It has been narrated on the authority of Ma'qil b. Yasar who aaid: I remember being present on the Day of the Tree, and the Holy Prophet (may peace be upon him) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield.
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
یحیی بن یحیی، خالد بن عبد اللہ، یونس، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.
و حَدَّثَنَاه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ کَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَکَانُهَا فَإِنْ کَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَکُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ
حامد بن عمرو، ابوعوانہ، طارق، حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد بھی ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے پاس بیعت کی تھی انہوں نے کہا ہم اگلے سال حج کے لئے گئے تو اس درخت کی جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی پس اگر وہ جگہ تمہارے لئے ظاہر ہو جائے تو تم زیادہ جانتے ہو۔
It has been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyab who said: My father was one of those who swore fealty to the Messenger of Allah (may peace be upon him) near the tree. When we passed that way next year intending to perform the Hajj, the place of the tree was hidden to us. If you could point out clearly, you would (certainly) be knowing better. It has also been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyib who learnt from his father that they were with the Messenger of Allah (may peace be upon him) in the year of the Tree (i. e. in the year of the fealty of God's pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree.
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ وَقَرَأْتُهُ عَلَی نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ کَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَنَسُوهَا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ
محمد بن رافع، ابواحمد، نصر بن علی، ابواحمد، سفیان، طارق بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیعت شجرہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے یہ فرماتے ہیں کہ وہ اگلے سال اس درخت کو بھول گئے۔
It has also been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyib who learnt from his father that they were with the Messenger of Allah (may peace be upon him) in the year of the Tree (i. e. in the year of the fealty of God's pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree.
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا
حجاج بن شاعر، محمد بن رافع، شبابہ، شعبہ، قتادہ، حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے اس درخت کو دیکھا تھا پھر میں اس کے پاس آیا تو میں اسے پہچان نہ سکا۔
The tradition has been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyib who learnt it from his father. The latter said: I had seen the tree. When I came to the spot afterwards, I could not recognise it.
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَی الْمَوْتِ
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید ابن ابی عبید مولی سلمہ بن اکوع، حضرت یزید بن ابی عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولی سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ میں نے سلمہ سے کہا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیبیہ کے دن کس بات پر بیعت کی تھی انہوں نے کہا موت پر۔
It has been narrated on the authority of Yazid b. Abu Ubaid (the freed slave of Salama b. al-Akwa') who said: 1 asked Salama as to what effect he had sworn fealty to the Messenger of Allah (may peace be upon him) on the Day of Hudaibiya. He said: To the effect that we will die fighting.
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، حماد بن مسعدہ، یزید، سلمہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The above tradition has also been handed down through a different chain of transmitters.
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ هَا ذَاکَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ فَقَالَ عَلَی مَاذَا قَالَ عَلَی الْمَوْتِ قَالَ لَا أُبَايِعُ عَلَی هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، حماد بن مسعد ہ، یزید سلمہ، حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس کے پاس کوئی آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں عبداللہ نے کہا کس بات پر اس نے کہا موت پر فرمایا اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Zaid who said: A person came to him and said: Here is Ibn Hanzala who is making people swear allegiance to him. He (, Abdullah) asked: To what effect? He replied: To the effect that they will die for him. 'Abdullah said: I will never swear allegiance to this effect after the Messenger of Allah (may peace be upon him).