TrueHadith

سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 2887

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ فَقَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ فَقُلْتُ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ

یحیی بن یحیی، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ، حضرت حنظلہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا میں نے عرض کیا کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی کرایہ پر دینے سے منع ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔

Hanzala b. Qais reported that he asked Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) about renting of land, whereupon he said: Allah's Messenger (may peace be upon him) forbade the renting of land. I said: Is it forbidden (even if it is paid) in gold (dinar) and silver (dirham)? Thereupon he said: If it is paid in gold and silver, there is no harm in it.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2888

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ إِنَّمَا کَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَائَ مِنْ الزَّرْعِ فَيَهْلِکُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِکُ هَذَا فَلَمْ يَکُنْ لِلنَّاسِ کِرَائٌ إِلَّا هَذَا فَلِذَلِکَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْئٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ

اسحاق، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ، حضرت حنظلہ بن قیس انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نہر کے کناروں اور نالیوں کے سروں پر زمین کرایہ پر دیتے تھے تو بعض اوقات اس زمین کی تباہی ہوتی اور دوسری سلامت رہتی اور بعض دفعہ یہ سلامت رہتی اور وہ ہلاک ہو جاتی اور لوگوں میں سے بعض کو بچے ہوئے کے علاوہ کچھ کرایہ وصول نہ ہوتا اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہاں اگر کرایہ کے بدلے کوئی معین اور ضمانت شدہ چیز ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔

Hanzala b. Qais al-Ansri reported: I asked Rafi' b. Khadij about the renting of land for gold and silver, whereupon he said: There is no harm in it for the people let out land situated near canals and at the ends of the streamlets or portion of fields. (But it so happened) that at times this was destroyed and that was saved. whereas (on other occasions) this portion was saved and the other was destroyed and thus no rent was payable to the people (who let out lands) but for this one (which was saved). It was due to this that he (the Holy Prophet) prohibited it. But if there is something definite and reliable (e. g. money). there is no harm in it.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2889

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُا کُنَّا أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا قَالَ کُنَّا نُکْرِي الْأَرْضَ عَلَی أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِکَ وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا

عمرو ناقد، سفیان بن عتبہ، یحیی، ابن سعید، حضرت حنظلہ زرقی سے روایت ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے ہم انصار میں سے زیادہ محاقلہ والے تھے اور زمین اس شرط سے کرایہ پر دیتے تھے کہ یہاں کی پیداوار ہمارے لئے اور یہ ان کے لئے کبھی یہاں پیداوار ہوتی اور وہاں نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا بہرحال چاندی کے بدلے دینے سے ہمیں منع نہیں کیا۔

Hanzala reported that he heard Rafi' b. Khadij (Allah be pleased with him) say: We were the major agriculturists of the Ansar and so we let out land (saying): The produce of this (part of land) would be ours and (the produce) of that would be theirs. But it so happened that at times this (land) gave harvest, but the other one produced nothing. So he (the Holy Prophet) forbade this. But so far as the payment in silver (dirham, a coin) is concerned, he did not forbid.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1221461)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوربیع، حماد، ابن مثنی، یزید بن ہارون، حضرت یحیی بن سعید نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters.

Permalink